عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی //مارچ کا ماہ ختم ہونے کے ساتھ ہی یکم اپریل 2026 سے ملک بھر میں کئی بڑے مالیاتی اور روزمرہ سے وابستہ قوانین بدلنے جا رہے ہیں۔ ہر ماہ کی طرح اس بار بھی نئی تبدیلیوں کا براہ راست اثر عام لوگوں کی جیب پر پڑے گا۔ ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں سے لے کر انکم ٹیکس، بینکنگ اور ریلوے قوانین تک کئی اہم تبدیلیاں نافذ ہونے والی ہیں۔ہر ماہ کی پہلی تاریخ کی طرح یکم اپریل کو بھی ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ مغرب وسطیٰ میں جاری جنگ اور ایل پی جی کی قلت کے درمیان پہلے ہی قیمتوں میں اضافہ ہو چکا ہے اور اب نئے ریٹ جاری کیے جا سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ تیل کے بحران کے باعث ایئر ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) اور سی این جی-پی این جی کی قیمتوں میں بھی تبدیلی ممکن ہے، جس کی وجہ سے عام لوگوں اور ٹرانسپورٹ سیکٹر دونوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔یکم اپریل سے ملک میں انکم ٹیکس ایکٹ 2025 نافذ ہوگا، جو 1961 سے نافذ پرانے قانون کی جگہ لے گا۔ حکومت کے مطابق نئے قوانین کا مقصد ٹیکس سسٹم کو آسان اور جدید بنانا ہے۔ اس کے تحت آئی ٹی آر بھرنے کے لیے اب فارم 16 کی جگہ نیا فارم دیا جائے گا۔ جبکہ فارم 16اے جو غیر تنخواہ والی آمدنی کے لیے ٹی ڈی ایس سرٹیفکیٹ ہوتا ہے، اس کا نام بدل کر فارم 131 کر دیا جائے گا اور اسے سہ ماہی ٹی ڈی ایس تفصیلات جاری ہونے کے 15 دن کے اندر جاری کرنا ہوگا۔یکم اپریل سے ایچ ڈی ایف سی بینک، پی این بی اور بندھن بینک کے صارفین کے لیے اے ٹی ایم قوانین تبدیل ہو جائیں گے۔ ایچ ڈی ایف سی بینک اب اے ٹی ایم پر یو پی آئی کے ذریعے رقم نکالنے کو بھی ’فری ٹرانزیکشن لمٹ‘ میں شامل کرے گا، جس سے مفت لین دین کی حد جلد ختم ہو سکتی ہے اور اس کے بعد فی ٹرانزیکشن پر 23 روپے کی فیس ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔ پی این بی نے اپنے کئی ڈیبٹ کارڈس کے لیے روزانہ کیش نکالنے کی حد کم کر دی ہے۔ کچھ کارڈس پر لمٹ ایک لاکھ روپے سے گھٹا کر 50000 روپے کر دی گئی ہے، جبکہ پریمیم کارڈس پر لمٹ 1.5 لاکھ روپے سے کم کر کے 75000 روپے کر دی گئی ہے۔