کیف// یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے یوکرین میں “امن کی بحالی کو تیز کرنے ” کے لیے تین مراحل کی کی تجویزپیش کی ہے ۔یہ اطلاع یوکرین کے صدر دفتر کی پریس سروس نے دی ہے ۔ مسٹر زیلنسکی نے پیر کو گروپ آف سیون (جی 7) کی ایک آن لائن چوٹی کانفرنس کے دوران اپنے خطاب میں کہا کہ نیوپاورنامی پہلا مرحلہ یوکرین کے لیے ٹینک، راکٹ آرٹلری اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل سمیت دفاعی تعاون میں اضافے کا تصور کرتا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا، ‘‘یہ روسی فریق کو آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دے گا۔”انہوں نے کہا کہ نیا لچیلا پن نامی دوسرا مرحلہ اگلے سال یوکرین کو نئی امداد فراہم کرکے یوکرین کی مالی، توانائی اور سماجی استحکام کو یقینی بنائے گا۔ نیو ڈپلومیسی نامی تیسرے اورآخری مرحلے کے تحت یوکرین اپنے شہریوں اور علاقوں کی آزادی کو قریب لانے کے لیے سفارت کاری کا استعمال کرے گا۔انہوں نے یوکرین کی جانب سے روس یوکرین تنازع کے خاتمے کے لیے گزشتہ ماہ تجویز کردہ 10 نکاتی منصوبے پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے ایک عالمی امن فارمولہ سربراہی اجلاس منعقد کرنے کی تجویز دی۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور امریکی صدر جو بائیڈن نے امریکہ کی جانب سے یوکرین کو فراہم کی جانے والی دفاعی اور مالی امداد پر تبادلہ خیال کیا ہے ۔مسٹر زیلنسکی کی پریس سروس نے پیر کو اطلاع دی کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان فون پر بات چیت کے دوران، مسٹر زیلنسکی نے مسٹر بائیڈن کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی امداد نے یوکرین کو میدان جنگ میں پیش قدمی اور معاشی استحکام برقرار رکھنے میں مدد فراہم کی ہے ۔مسٹر زیلنسکی نے گزشتہ جمعہ کو امریکہ کی طرف سے اعلان کردہ مزید 27.5 کروڑڈالر کے دفاعی امدادی پیکج اور یوکرین کے توانائی کے نظام کی تعمیر نو میں مدد کے لیے مسٹر بائیڈن کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا۔