کیف //یوکرین پر مشرق و مغرب کی کشیدگی میں اس وقت ڈرامائی اضافہ ہوگیا جب روسی قانون سازوں نے صدر ولادیمیر پوٹن کو اپنے ملک سے باہر فوجی طاقت استعمال کرنے کا اختیار دیا جس کا جواب امریکی صدر جو بائیڈن اور یورپی رہنماؤں نے روسی عہدیداروں اور بینکوں پر پابندیاں لگا کر دیا۔ دونوں رہنماؤں نے اشارہ دیا کہ اس سے بھی بڑا تصادم ہوسکتا ہے۔ولادیمیر پیوٹن یوکرین کے تین اطراف ڈیڑھ لاکھ فوجیوں کو اتار سکتے ہیں جب کہ جو بائیڈن نے روس پر زیادہ سخت پابندیاں نہیں لگائیں جو روس کے لیے اقتصادی بحران کا باعث بن سکتی تھیں لیکن کہا کہ اگر مزید جارحیت ہوئی تو وہ آگے بڑھیں گے۔خیال رہے کہ روس کی سرحد سے متصل نیٹو کے مشرقی کنارے پر بالٹک ممالک میں اضافی امریکی فوجیوں کی تعیناتی کے ساتھ ساتھ یہ اقدامات اس وقت سامنے آئے جب روسی افواج صدر دلادیمیر پیوٹن کی جانب سے علیحدگی پسند ریاستوں کو تسلیم کرلینے کے بعد مشرقی یوکرین میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں داخل ہوئیں۔وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے جو بائیڈن نے کہا کہ کریملن نے واضح طور پر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی ہے جسے انہوں نے 'یوکرین پر روسی حملے کا آغاز' قرار دیا۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر دلادیمیر پیوٹن مزید آگے بڑھے تو وہ بھی اور پابندیاں لگاتے ہیں۔جو بائیڈن نے کہا کہ ہم یوکرین کی حمایت میں روسی جارحیت کے خلاف متحد ہیں، جب بات کسی حملے کے جواز یا بہانے کے روسی دعووں کی ہو تو ہم میں سے کسی کو بھی بے وقوف نہیں بنایا جانا چاہیے، ہم میں سے کوئی بھی بیوقوف نہیں بنے گا ایسا کوئی جواز نہیں ہے۔حملے کے خطرے کے لیے سفارتی حل کی امیدیں جسے امریکی حکام نے کئی ہفتوں سے ناگزیر قرار دے رہے تھے، تحلیل ہوتی نظر آئیں۔امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اپنے روسی ہم منصب کے ساتھ جنیوا میں جمعرات کی ملاقات کا منصوبہ منسوخ کرتے ہوئے کہا کہ یہ نتیجہ خیز نہیں ہو گی اور روس کے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماسکو بحران کے حل کے لیے پرامن راستے کے لیے سنجیدہ نہیں ہے۔دوسری جانب یورپی یونین کے 2 درجن سے زائد ارکان پر مشتمل مغربی ممالک کے ایک متحدہ محاذ نے متفقہ طور پر روسی حکام کے خلاف پابندیوں لگانے پر اتفاق کیا۔امریکی صدر کہا کہ وہ اضافی امریکی فوجیوں کو بالٹک خطے میں بھیج رہے ہیں البتہ انہوں نے ان تعیناتیوں کو خالصتاً 'دفاعی' قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا روس سے لڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔