تہران // ایران میں مقامی سطح پر تیار کئے گئے کورونا وائرس ویکسین کے اثرات پر پہلی تحقیق کا آغاز ہوگیا ہے۔ ایران کے مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ تحقیق گھریلو سطح پر بنائے گئے ویکسین لینے والے افراد پر شروع ہوگئی ہے جبکہ ویکسین کے بارے میں زیادہ تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔ ملک کا پہلا کورونا وائرس ویکسین شفا فارمیڈ نامی کمپنی نے بنایا ہے جو ملکی سطح کی دوائی کمپنیوں کی جماعت باریکیٹ کا حصہ ہے۔ کمپنی کی ویب سائٹ پر جو تفصیلات دی گئی ہیں ، ان کے مطابق ویکسین اینٹی بائوٹک اور پنسلین کی بڑی تعداد کو ملاکر بنائی گئی ہے لیکن کورونا وائرس ریسرچ کے بارے میں ویب سائٹ پر کوئی تفصیل نہیں دی گئی ہے۔ مذکورہ کمپنی ایران میں ویکسین بنانے کے کام سے سال 1996سے منسلک ہے۔ ایران کورونا وائرس کو قابو کرنے میں بری طرح ناکام رہا تھا اور اسی وجہ سے ملک کے 12لاکھ لوگ وائرس سے متاثر ہوئے جبکہ 55ہزار افراد وائرس سے فوت ہوگئے۔ ایران میں کنیکل ٹرائل منیجر حامد حسینی نے بتایا ’’ تحقیق کے دوران 56رضاکار وں کو 2مرحلوں میں ویکسین دیا جائے گا جبکہ دوسری مرتبہ ویکسین دینے کے ایک ماہ بعد نتائج سامنے آئیں گے۔ ایران میں ستاد فائونڈیشن چیئرمین کی بیٹی طیبہ مو خبرکا کہنا ہے’’ میں خوش ہوں کی سائنسی طریقے سے ہم آگے بڑھ رہے ہیں ‘‘۔انہوں نے کہا کہ مجھے اُمید ہے کہ اس کا نتیجہ سب کیلئے صحتیابی ہوگا‘‘۔ایران میں حکام کا کہنا ہے کہ یہ ویکسین سال 2021کے موسم بہار میں بازار میں دستیاب ہوگا۔حکام کا کہنا ہے کہ ہنگامی بنیادی پر ویکسین کی تیار ی پہلی ترجیح تھی اور اب اسکا اثر اور حفاظت کو پتہ کرنا کیلئے ماس ٹرائل کی ضرورت ہے لیکن اس میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔ پیر کو ایران میں حکومتی افسران کا کہنا تھا کہ انہیں اُمید ہے کہ امریکہ میں ویکسین بنانے والی کمپنیوں سے انہیں آنے والے ہفتوں میںفائزر ویکسین فراہم کیا جائے گا۔