زندہ رہیں تو کیا ہے جو مرجائیں ہم تو کیا
دنیا میں خموشی سے گزر جائیں ہم تو کیا
ہستی ہی اپنی کیا ہے زمانے کے سامنے
اک خواب ہیں جہاں میں بکھر جائیں ہم تو کیا
اب کون منتظر ہے ہمارے لئے وہاں
شام آگئی ہے لوٹ کے گھر جائیں ہم تو کیا
دل کی خلش تو ساتھ رہے گی تمام عمر
دریائے غم کے پار اتر جائیں ہم تو کیا
منیرؔ نیازی
شام ہوتی ہے تو سائے گم ہوجاتے ہیں مگر انسان رہ جاتا ہے۔ موت آتی ہے تو جسم گم ہوجاتا ہے مگر روح رہ جاتی ہے۔ پھر ایک موقع آئے گا کہ سب کچھ گم ہوگا اور صرف وہ رہ جائے گا۔ پھر مفقود سے جو مشہود ہوگا اس میں جسے وہ چاہے باقی رہے گا۔ ایک جھومے گا ایک تڑپے گا۔ خیرچلئے پھر یادوں کی وادیوں میں قدم رنجہ ہوجائیں! بیتے دنوں کی انمٹ یادوں کے حوالے سے یہ میری تیسری قسط ہے۔ دراصل اکیلا بیٹھا ہوں، تنہائی ہے،اس لئے ماضی کی کچھ یادوں نے ذہن کا احاطہ کرلیا ہے اور یہی کچھ یادیں ذہن کے دھندلکوں سے اُبھرنے لگی ہیں۔
یادش بخیر!میں نے اُس زمانے کے وزیراعلیٰ سید میر قاسم صاحب سے انٹرویو لیا ، اقبال فہیم صاحب بھی میرے ہمراہ تھے۔ ہم نے قاسم صاحب سے پوچھا کہ جب آپ وزیر اعلیٰ تھے ، بر بنائے منصب آپ کو سراغ رسانی کی تمام دستاویزات پر دسترس تھی ،تو کیا آپ ہمیں بتاسکتے ہیں کہ موئے شریف کو حضرت بل سے اُٹھا لے جانے میں کس کا ہاتھ تھا؟ انہوں نے کہا :’’ ہمیں اس بارے میں کوئی علمیت نہیں اور نہ ہی ریاستی انٹیلی جنس کو معلومات ہیں، میں نے اور صادق صاحب نے وزیر اعظم مسز اندرا گاندھی کو استعفےکی دھمکی بھی دی تھی کہ اگر ہمیں زیر بحث معالے سے متعلق تمام معلومات نہیں دی جاتی ہیں تو ہم استعفٰی دیں گے، مگر اس کے باوجود ہمیں کوئی جان کاری نہیں دی گئی۔‘‘ تاہم قاسم صاحب نے کہا کہ اس معاملے میں ایک ایس پی ملوث تھا مگر قاسم صاحب نے اس کا نام ظاہر کرنے سے معذوری ظاہر کی۔ واللہ اعلم ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ موئے مقدس بازیابی ہونے کے بعد جن لوگوں سے اس کی نشاندہی اور تصدیق کروائی گئی تھی ،ان میں کشمیر کے معروف روحانی بزرگ اور فقیر حضرت میرک شاہ رحمتہ اللہ علیہ بھی شامل تھے۔درگاہ حضرت بل میں موئے مقدس کی زیارت عقیدت مندوں کو کروانے کی ذمہ داری مرحوم عبدالرحیم بانڈے صاحب پر تھی۔ انہی کے دور میں اس کی گمشدگی کا سنسنی خیز واقعہ پیش آیا تھا۔ سنا ہے انہیں گرفتار کرکے سخت انٹروگیشن ہوا تھا۔ وہ مدیر ’’آفتاب ‘‘ خواجہ ثناءاللہ بٹ صاحب سے ملنے کبھی کبھی روزنامہ’’ آفتاب‘‘ کے دفتر پر آیا جایا کرتے تھے۔ ایک دن خواجہ صاحب نے ان سے کہا بانڈے صاحب! یہ اب آپ کی زندگی کے آخری دن ہیں، اب تو بتائے کہ موئے شریف کو کہاں سے بازایاب کیا گیا تھا؟ بانڈے صاحب نے اپنی شہادت کی انگلی اپنے ہونٹوں پر رکھتے ہوئے سرگوشی جیسی آواز میں صرف اتنابولا ہش ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ!!!!۔‘‘
میرے علم میں یہ بات آئی تھی کہ ’’آفتاب‘‘ کے ایڈیٹر مرحوم ثنااللہ بٹ صاحب نے کشمیر کی تاریخ کے حوالے سے ایک کتاب لکھی۔ اس کتاب میں موئے مقدس کی گمشدگی کے حوالے سے کچھ سنسنی خیز انکشافات کئے گئے تھے۔ جب وہ کتاب دہلی سے چھپ کر آئی تو بٹ صاحب گھبرا گئے کہ کہیں موئے شریف کے حوالے سے کئے گئے ان کے انکشافات ان کے لئے مشکلات پیدا نہ کردیں کیونکہ ان انکشافات سے کنٹروورسیاں جنم لینے کے قوی امکانات تھے۔ چنانچہ ان کتابوں کو کچھ وقت تک چھپاکے رکھا گیا اور پھر وہ اوراق کتاب سے نکال پھاڑے گئے جن میں موئے مقدس کے حوالے سے کچھ انکشافات تھے ، خروج شدہ اوراق کی جگہ دوسرے اوراق ڈالے گئے۔ بہر حال اس وقت شیخ صاحب بھی یاد آرہے ہیں۔ موصوف کسی سے ناراض ہونے پر نہ آؤ دیکھتے نہ تاؤ بلکہ ڈنڈے کا آزادانہ استعمال کرتے تھے۔ جہاں تک مجھے یاد ہے ایک دفعہ شیخ صاحب ایک روزنامہ کے ایڈیٹر صاحب سے کسی بات پر ناراض ہوگئے تو ان کے دفتر میں بہ نفس ِ نفیس آدھمکے اور دفتر میں اُن کے منہ پر زوردار تھپڑ رسید کردیا۔ اگلے دن اس روزنامہ کا جو شمارہ نکلا وہ پڑھنے کے لائق تھا۔ جان کار حلقوں کا کہنا تھا کہ اس ایڈیٹر صاحب کے پاس اوقاف اسلامیہ کے کچھ پیسے بقایا تھے۔ اسی سلسلے میں شیخ صاحب نے انہیں فون کیا تھا۔ وہاں سے جس صاحب نے فون اُٹھایا تھا اس نے جواب میں کہا تھا: ایڈیٹر صاحب دفتر میں نہیں ہیں۔ شیخ کو دال میں کچھ کالا نظر آیااور گمان ہوا تھا کہ دوسری طرف سے فون پر جواب دینے والا خود ایڈیٹر ہی ہے۔ اس پر شیخ سخت برافروختہ ہوئے تھے اور چلتے چلتے ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔ ان دنوں شیخ صاحب حکومت میں نہیں تھے۔
بیسویں صدی کی آٹھویں دہائی کے وسط میںسری نگر پریس کو یہ اطلاعات ملی تھیں کہ کشمیر میں نشیلی ادویات کے عادی لوگوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی ہے اور یہ کہ نشہ بازوں میں لڑکیوں کی بھاری تعداد بھی شامل ہے۔ یہ بھی اطلاعات گشت کر رہی تھیں کہ ایک زنانہ کالج کی کچھ طالبات بھی ڈرگ مافیا کے ہتھے چڑھ گئی ہیں جو اس جرائم پیشہ مافیا کی ایجنٹ بن کر دوسری حسین طالبات کو ناقابل بیان کاموں میں پھانسنےکے لئے کام کررہی ہیں۔ رپورٹیں یہ بھی تھیں کہ پہلے پانی کے گلاس میں براؤن شوگر ملایا جاتا ، پھر اس میں بلوٹنگ پیپر کو بھگویا جاتا، بعد میں اس بلوٹنگ پیپر کے ٹکڑے بنائے جاتے اور مذکورہ ایجنٹ لڑکیاں اسے چیونگم کی طرح چبانے لگتی تھیں۔ انہیں جس کسی دوسری لڑکی کواس نشے میں پھنسانا مطلوب ہوتا تھا، یہ احساس دلائے بغیر کہ وہ براؤن شوگر کے سیاہ چاہ میں گرنے والی ہے ، اُسےنہایت ہوشیاری اور چالاکی سے بہلا پھسلاکر وہ بلوٹنگ پیپر کا ٹکڑا چبانے کے لئے للچایا جاتا تھا۔ ایک بار ایسی معصوم لڑکی کو بلوٹنگ پیپر کی لت لگ جاتی ، توایجنٹ لڑکیاںاپنے اس شکار کو نشیلی ادویات کا عادی بناکر اس سے مافیا کی مرضی کے مطابق کام کرواتیں۔یہ بات خالی ا ز دلچسپی نہیں کہ ایک رپورٹ کے مطابق 2008 ء میں کوئی سروے ہوا تھا جس سے انکشاف ہوا کہ کشمیر میں ستر (70) ہزار سے زائد لوگ نشیلی ادویات کےشکار ہیں جن میں مبینہ طور چار ہزار خواتین بھی شامل ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق نشہ بازو ں میں 65 سے 70 فی صد طلبا اور طالبات تھے ،ان کی عمر کی حد 18 سے 35 سال کے درمیان بتائی گئی تھی۔ ہمارے وطن عزیزکشمیر کی آبادی ہے ہی کتنی کہ اس میں اتنے لوگوں کا منشیات کا عادی ہونا بڑی اَلارمنگ بات ہے۔
ایک اور واقعہ جو میرے حافظے کی تختی سے پھسل کر قلم کی زبان پر یکایک آرہا ہے، وہ بھی سنئے ۔ گزشتہ صدی کی ساتویں دہائی میں ایک موقع پر جب نمائش گاہ سری نگر میں میلہ لگا ہواتھا، شام کے وقت اچانک بجلی بند ہوگئی (خدا جانے آیا یہ کسی سازش کے تحت بند کی گئی تھی)۔ اس وقت وہاں میلہ دیکھنے کے لئے عورتوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ کہتے ہیں کہ بجلی آف ہوتے ہی حرمت نسواں کو ایسے ایسے پامال کیا گیاکہ کہرام مچ گیا۔ بعدازاں میرے ایک دوست نے مجھ سے کہا تھا کہ اُس آڑے وقت میں بھی نمائش گاہ میں موجود تھا کہ اچانک کچھ لوگوں نے مجھ پر حملہ کرکے میرے ’’کپڑے‘‘ پھاڑنے کی کوشش کی مگر جب انہیں میری صنف کا پتہ چلا تو چھوڑ دیا۔ بعض لوگوں کا بیان تھا کہ نمائش گاہ سے کسی لڑکی کو اغوا کرنے کی خاطر وہ بجلی مبینہ طور ایک سازش کے تحت جان بوجھ کر آف کرادی گئی تھی۔ واللہ اعلم ۔بیسویں صدی کے ہی ساتویں عشرے کے ابتدائی برسوں میں سرینگر کے حضوری باغ (اب اقبال پاک)میں سرکس لگا تھا۔اس میں حسب معمول بہت ساری لڑکیاں کام کرتی تھیں۔ اسی دوران افواہ اڑی تھی کہ سرکس میلے کے ایام میں ایک دن فورسز کا کوئی بڑا افسر اپنے ساتھیوں کے ساتھ یہاں آیا اور بڑے ہی فلمی انداز میں شامیانے کی کچھ رسیاں کاٹ کر سرکس کی ایک لڑکی کو بھگا لے گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ پھر اس لڑکی کا کوئی اَتہ پتہ نہ چلا۔ واللہ اعلم ۔انہی ایام میں دہلی میں ایک تفریحی شو کے دوران بجلی آف ہوگئی تھی یا ممکنہ طورآف کی گئی تھی۔ بجلی کی بندش کے دوران شو میں بہت زبردست کہرام مچا تھا اور کہتے ہیں کہ بر سر موقع عورتوں کی ایک بڑی تعداد کی بے آبرو ئی کی گئی ۔ا ور ایک شخص کی گاڑی غنڈوں نےصرف اس وجہ سے جلا ڈالی تھی کہ اس نے اس جھمیلے میں گاڑی کی لائٹ آن کر نے کی بھول کی تھی تاکہ گندی حرکات چشم فلک کے سوا کسی اور کو نظر نہ آئیں۔ اس واقعہ پر بھارت کے کئی معروف افسانہ نگاروں نے کہانیاں بھی لکھی تھیں اور یہ دلدوز وشرم ناک واقعہ بڑی مدت تک زیر بحث رہا تھا۔
اگر میری یاداشت صحیح ہے تو گزشتہ صدی کے ساتویں عشرے کی ابتدا میں نمائش گاہ سری نگر میں میلے کی افتتاحی تقریب ہورہی تھی ، ہم کچھ دوست لان میں سجے ٹیبلوں پر چائے کی چسکیاں لے رہے تھے کہ فاروق نازکی صاحب آئے اور ہمارے ساتھ ہی بیٹھ گئے۔ وہ ہماری نوجوانی کےا یام تھے۔ اُس وقت رفیق راز ؔصاحب بھی ہمارے ساتھ بیٹھے تھے، ابھی ریڈیو کشمیر میں ان کی نوکری نہیں لگی تھی۔ اگر میرا حافظہ صحیح کام کررہا ہے تو فاروق نازکی باتوں باتوں میں ہم سے اپنے وہ تجربات شئیر کرنے لگے جو انہیں اپنے جرمنی میں قیام کے دوران حاصل ہوئے تھے۔ ان میں سے کچھ ایک قلم بند کرنے کے لائق ہیں اور کچھ ایک نہیں ۔ اُن کاایک یہ تجربہ تھا کہ ایک جرمن نوجوان دوست نے ان سے کچھ 'مددمانگ لی تھی جس پر نازکی صاحب بہت گھبراگئے تھے ۔ تاہم جو میں یہاں بیان کرنا چاہوں گا، وہ ان کے وہاں سر کے بال کی پلانٹیشن سے متعلق نہیں ہے بلکہ اس معمولی سے ایکسیڈنٹ کی سرگزشت ہے جس میں موصوف کو کوئی چوٹ تو نہیں آئی تھی، تاہم ایک تجربہ ضرور ہوا تھا۔ نازکی صاحب نے غالبا ًکہا تھا کہ سڑک پر چلنےکے دوران مجھے کسی کی گاڑی سے دھکا لگا، کوئی چوٹ نہ آئی مگر گاڑی والے کا ٹریفک پولیس والوں نے چالان کیا۔ کورٹ میں جب چالان پیش ہوا تو جج نے کہا کہ بےشک آپ کو چوٹ نہیں آئی مگر گاڑی کا دھکا لگنے سے آپ کو کچھ شاک(صدمہ) تو ضرور ہوا ہوگا اور اس کے اثرات بھی نفسیات پر پڑے ہوں گے۔ چنانچہ جج صاحب نے اپنا بےلاگ فیصلہ سنایا کہ 'اس گاڑی والے کو تین سال تک ایک مخصوص رقم ہر مہینے آپ کے نام ادا کرنی ہوگی تاکہ اس رقم سے آپ اُس بجٹ میں اضافہ کرسکیں جو آپ نے اپنی تفریحات کے لئے مخصوص کیا ہو، اس اہتمام سے وہ منفی اثرات جو اس حادثے کے سبب آپ کی نفسیات پر پڑے ہوں، زائل ہونے کے امکانات ہیں۔ غالبا ًفاروق صاحب نے یہ بھی کہا تھا کہ اب جب کہ میں جرمنی چھوڑ چکا ہوں اور سرینگر میں مقیم ہوں، وہ رقم برابر ہر مہینے مجھے یہاں بھی پہنچ رہی ہے۔ اب میں اس مخمصے میں ہوںآیا یہ واقعہ فاروق صاحب کا ہی ہے یا کسی دوسرے صاحب کاحادثہ فاروق صاحب سے انجانے میں جوڑ رہا ہوں؟چونکہ یہ مضمون میری یادوں کے حوالے سے ہے اس لئے ایک ہی عنوان کا مضمون ہونے کے باوجود اس کے موضوعات بدلتے رہیں گے اور تسلسل میں فرق رہے گا کیونکہ یادیں ایک ہی سوچ سے جڑی ہونے پر بھی واقعات مختلف ہیں۔
ایک دن کشمیر کے معروف افسانہ نگار مرحوم اختر محی الدین نے اپنے دورہ ٔ روس کا احوال بتاتے ہوئے مجھ سے کہا کہ روس میں، میں نے دیکھا کہ جب کوئی بچہ بس میں سوار ہوتا ہے تو بس میں بیٹھے سارے لوگ مسکرا کر اس کا استقبال کرتے ہیں اور اگر کوئی عمر رسیدہ شخص بس میں چڑھتا ہے تو بس میں سوار سارے مسافر کھڑے ہوجاتے ہیں تاکہ یہ بوڑھا یا بوڑھی جس سیٹ پر بیٹھنا چاہے بیٹھ سکے۔