یو این آئی
نئی دہلی//ہندستان دنیا کی پانچویں سب سے بڑی ڈیجیٹل معیشت بن کر ابھرا ہے اور چپس اے آئی انڈیکس میں چوتھے مقام پر پہنچ گیا ہے71 ممالک اور عالمی جی ڈی پی کے 96 فی صد حصے کو شامل کرنے والے اس جامع مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیجیٹل کارکردگی کے معاملے میں ہندستان جرمنی، فرانس، جاپان اور کینیڈا جیسی کئی بڑی ترقی یافتہ معیشتوں سے آگے نکل رہا ہے آئی سی آر آئی ای آر۔پروسس سینٹر فار انٹرنیٹ اینڈ ڈیجیٹل اکانومی کی جانب سے جاری کردہ “اسٹیٹ آف انڈیا ڈیجیٹل اکانومی 2026‘‘رپورٹ کے مطابق عالمی ڈیجیٹل منظر نامے میں بڑی تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق اب اے آئی کا استعمال کرنے والے 72 فی صد لوگ ترقی پذیر ممالک میں ہیں، جب کہ ہندستان اور چین مل کر دنیا میں اے آئی اپنانے کا تقریبا دو بٹا پانچ حصہ رکھتے ہیں۔
ری جنریٹو اے آئی تاریخ کی کسی بھی سابقہ ٹیکنالوجی کے مقابلے میں سب سے تیزی سے اپنائی جانے والی ٹیکنالوجی بن گئی ہے اور لانچ ہونے کے فورا بعد ہی یہ ترقی پذیر ممالک میں تیزی سے مقبول ہو گئی۔ پرمود بھسین، چیئرپرسن، آئی سی آر آئی ای آر نے کہا “ہندستان نے رابطے، انٹرپرینیورشپ اور ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کے ذریعے مضبوط بنیاد تیار کی ہے۔ ترقی کا اگلا مرحلہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ ہم اے آئی کا کتنا مثر استعمال کر پاتے ہیں، اختراعی صلاحیتوں کو کتنا آگے بڑھاتے ہیں اور ڈیجیٹل اعتماد کو کتنا مضبوط بناتے ہیں‘‘۔رپورٹ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ عالمی ڈیجیٹل قیادت کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔ دنیا کی سرفہرست پانچ ڈیجیٹل معیشتوں میں اب تین ممالک یعنی چین، سنگاپور اور ہندستان انڈو۔پیسفک خطے سے ہیں، جو روایتی شمالی اٹلانٹک ممالک کے ساتھ ایک نئے سہ قطبی ڈیجیٹل نظام کے ابھرنے کا اشارہ دیتا ہے۔ ہندستان نے رابطے، انٹرپرینیورشپ اور ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کے ذریعے مضبوط بنیاد تیار کی ہے۔ ترقی کا اگلا مرحلہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ ہم اے آئی کا کتنا موثر استعمال کر پاتے ہیں، اختراعی صلاحیتوں کو کتنا آگے بڑھاتے ہیں اور ڈیجیٹل اعتماد کو کتنا مضبوط بناتے ہیں۔ہندستان نے عالمی درجہ بندی میں آٹھویں مقام سے بڑھ کر پانچواں مقام حاصل کیا ہے، جو بڑھتی ہوئی مسابقت کے درمیان اس کی تیز ڈیجیٹل ترقی کو ظاہر کرتا ہے۔ وہیں، اے آئی انڈیکس میں ہندستان کا چوتھا مقام امریکہ، چین اور سنگاپور کے بعد اسے ایک ابھرتی ہوئی عالمی اے آئی طاقت کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔ ہندستان اب صرف ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اپنانے والا ملک نہیں رہا، بلکہ ایک ڈیجیٹل لیڈر کے طور پر ابھرا ہے۔ اس بڑے پیمانے کی ترقی کو مسلسل جدت اور پیداواری صلاحیت میں تبدیل کرنے کے لیے مضبوط اداروں، تحقیقی ماحولیاتی نظام میں زیادہ سرمایہ کاری اور دور اندیش حکمت عملی کی ضرورت ہوگی۔