بشیر اؔطہر
یہ شہر کبھی دعاؤں سے پہچانا جاتا تھا۔یہاں بیمار کے سرہانے قرآن رکھا جاتا تھااور شفا کی امید انسان سے وابستہ ہوتی تھی……. کسی اشتہار سے نہیں۔
مگر یہ سب بہت پرانی باتیں ہیں،اتنی پرانی کہ اب قصے لگتی ہیں۔
اب اس شہر میں جھاڑ پھونک سے بیماری کا علاج نہیں ہوتا۔لوگ کہتے ہیں’’یہ سب وہم ہے،سائنسی نہیں۔‘‘سائنس کی بات کرتے ہوئے
ان کی آنکھیں اس اسکرین پر جمی رہتی ہیں جہاں رعایت پر ضمیراور قسطوں پر ایمان دستیاب ہے۔قرآن اب رہنما نہیں رہا۔وہ اونچی الماری میں رکھا ہے، صاف کپڑے میں لپٹا ہوا،جیسے کوئی بزرگ ہوجس سے مشورہ لینا اب معیوب سمجھا جاتا ہو۔لوگ اسے چومتے ہیں،مگر سنتے نہیں۔کھولتے ہیں،مگرپڑھتے نہیں۔اور اگر پڑھتے بھی ہیں تو صرف دوسروں کو خاموش کرانے کے لئے یا میت کے چہارم پرختمِ قرآن کے اعلان کے ساتھ۔
عبادت اب خاموش نہیں رہی۔وہ بلند آواز میں ہوتی ہے،کیمرے کے سامنےروشنیوں میںاور گنتی کے ساتھ۔سجدہ اب اللہ تعالیٰ کے لئے نہیں،تماشائی کے لئے ہوتا ہے۔دعا قبول ہو یا نہ ہو،تصویر ضرور وائرل ہو جاتی ہے۔اسی شہر میں ایک شخص رہتا تھا…… سلیم۔لوگ اسے پاگل کہتے تھےکیونکہ وہ اب بھی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا تھا۔وہ اب بھی مانتا تھاکہ بیماری صرف جسم میں نہیں ہوتی،کبھی کبھی روح بھی بخار میں مبتلا ہو جاتی ہے۔سلیم کے پاس دولت نہیں تھی اور اس شہر میں یہی سب سے بڑا جرم تھا۔یہاں رشتے اب قید ہیں۔باپ قرض ہے،ماں ذمہ داری،بیوی
بوجھ،اور اولاد…… ایک طویل المدتی سرمایہ کاری۔جو نفع نہ دےوہ رشتہ نہیں رہتا،صرف ایک فائل بن جاتا ہےجسے موقع پر بند کر دیا جاتا ہے۔لوگ دولت کے پیچھے نہیں بھاگتے،لوگ دولت کے نشے میں دوڑتے ہیں۔یہ نشہ شراب سے تیز ہےاور زہر سے زیادہ میٹھا۔اسی نشے میں باپ بیٹے سے لڑتا ہے،بھائی بھائی کا گلاناپتا ہے اور دوست دوست کونیلامی میں رکھ دیتا ہے۔بازاروں میں صرف چیزیں نہیں بکتیں….. یہاں خاموشی بکتی ہے،یہاں سچ بکتا ہے،یہاں انصاف تول کر دیا جاتا ہے۔اور سب سے آخر میں،سب سے سستے داموں…… انسانیت بکتی ہے۔ایک دن سلیم نے دیکھاکہ سڑک کے کنارےایک بوڑھی عورت گری پڑی ہے۔لوگ ویڈیو بنا رہے تھے۔کسی نے کہا’’ہسپتال لے جاؤ تو خرچ کون دے گا؟‘‘کسی نے کہا’’یہ ڈرامہ بھی ہو سکتا ہے۔‘‘
سلیم نے اسے اٹھا لیا۔لوگ ہنستے ہوئے بولے’’پاگل ہے، مصیبت مول لے رہا ہے۔کیا معلوم یہ عورت ڈونگی ہو‘‘سلیم جانتا تھاکہ وہ عورت اس کی ماں کی عمر کی ہے،اور اس لمحےاسے صرف ایک انسان کی ضرورت ہے۔عورت کے پاس دینے کو کچھ نہ تھا…..سوائے ایک دعا کے،جو اس نے سلیم کے سر پرہاتھ رکھ کر دے دی۔اگلے دن شہر میں خبر پھیل گئی سلیم مر گیا ہے۔
کچھ نے کہا، دل کا دورہ تھا۔کچھ نے کہا، بھوک۔اور کچھ نے کہا’’ایسا ہی انجام ہوتا ہےجو وقت کے ساتھ نہیں چلتے۔‘‘اس کی لاش کے پاس بھیڑ لگی تھی۔
کوئی تصویر بنا رہا تھا،کوئی تجزیہ کر رہا تھا،مگر کوئی آنکھ نم نہ تھی۔صرف وہی بوڑھی عورت رو رہی تھی۔وہ کہہ رہی تھی’’یہ آخری انسان تھاجومجھے انسان سمجھ کراٹھا لے گیا۔‘‘شہر اپنی رفتار سے چلتا رہا۔عبادتیںجاری رہیں،بازار آباد رہے،اور دولت کا نشہ پہلے سے زیادہ تیز ہو گیا۔
اور کہیں،کسی اندھی گلی میں،ایک تختی آویزاں تھی جس پر کسی نے کوئلے سے لکھا تھا’’یہاں انسانیت بکتی ہے…… مگر خریدار بہت کم ہیں۔‘‘
���
خانپورہ کھاگ بڈگام
موبائل نمبر؛7006259067