عام انتخابات اورمسلمانوں کے تعلق سے ایک تبصرہ نظر سے عجب گزرا۔ تبصرہ یوں تھا :’’ یہ الیکشن دراصل ایک طبقے کے لوگوں کےلئے ایک میلہ، ایک سیزن جیسا ہوتا ہے ،اُن کی بانچھیں کھِل جاتی ہیں، ایسے متحرک رہتے ہیں کہ زندگی کے کسی اور معاملے میں شاید و باید ہی اتنے چاق و چوبند ملیں اور چھوٹے چھوٹے اور وقتی مفادات اور اپنی انا کے سوا اُن کے ذہن و خیال میں شاید ہی کچھ ہوتا ہو۔
ابھی چند دن قبل کی بات ہے چائے خانے میں بیٹھے دو صاحبان آپس میں گفتگو کر رہے تھے، ہمارے کان بند نہیں تھے، لہٰذا اُن کے ایک جملے نے ہمیں متوجہ کر لیا: ’’آپ جب اُترپردیش آئیے گا تو شمالی یوپی کے کسی بھی ضلع میں کسی سے بھی میرا نام لے لینا میرا سراغ مل جائے گا اور کسی بھی قسم کا کام ،چاہے لکھنؤ سکریٹریٹ میں ہو یا کسی منسٹر سے۔۔۔ آجانا ،آپ کا کام ہو جائے گا۔۔۔‘‘اس جملے کے کہنے والے کے انداز ِبیان و زبان اور اُس کی حرکات و سکنات ، وضع قطع پر گہری نظرڈالی۔گفتگو کے عامیانہ پن نے آن کی آن اُس کی اسکریننگ کر دی۔مختصراً یہ کہ اس طرح کے لوگ ہر دور اور ہر علاقے میں اور بالخصوص ۔۔۔ ہم میں مل جائیں گے۔ اُردو میں ایک لفظ ہے جسے(کسی بھی شریف آدمی کو)کہتے ہوئے ایک بار زبان کو تکلف ضرور محسوس ہوتا ہے، وہ لفظ ہے دلال، چاہے وہ زمین، مکان کی دلالی کرتا ہو،یا کسی اور شعبے میں اس کا یہ کام ہو۔ جب ہم کسی کو دلال کہتے ہیں تو ذہن سے قلب تک ایک تار ضرور جھنجھناتا ہے ، بس شرط یہی ہے کہ آپ کے ہاں شرافت کی رمق باقی ہو۔
بیرونی خطرات اپنی جگہ مگر وہ دشمن زیادہ خطرات کا حامل ہے جو ہمارے اندرہے، مگر کیا کیجئے کہ ہمارے ہاں اپنے اندر دیکھنے کے لئے جو بصیرت و بصارت کی ضرورت ہوتی ہے وہ ( اگر ہو تو)اکثر اوقات بیرون میں خرچ ہوجاتی ہے۔ اسی طرح ہمارےاپنے اوّل دشمن اکثر اوقات صرف ِ نظر ہو جاتے ہیں اور اُن کا کیاکرایا جتنا نقصان پہنچا سکتا ہے وہ پہنچا دیتا ہے۔ قوم و ملت کے ان قُرّم (اس لفظ کیلئے لغت دیکھنے کی زحمت کریں)پیشہ لوگوں سے بچنے کےلئے تو باقاعدہ ایک پروگرام کی ضرورت ہے۔
بات عام انتخابات سے شروع ہوئی ہے۔ ہمارے پرانے شاعر دوست وسیم ملک (سورت۔ گجرات) نےکل ایک آموختہ کروادیا۔نئی نسل کے لوگ شکیل بدایونیؔ، راہیؔ معصوم رضااور روِندر جین جیسے قلم کاروں، فن کاروں سے بھی ضرور واقف ہوں گے مگراُن کے گنگا جمنی کردار سے شاید اس طرح واقف نہ ہوں جیسا کہ ہونا چاہیے، کوئی تین دہے قبل کا زمانہ رہا ہوگا جب بی آر چوپڑا کا ٹی وی سیرئل’ ’مہا بھارت‘‘ پورے ملک میں دیکھا ہی نہیں جارہا تھا بلکہ اس کی مقبولیت بھی ایک ریکارڈ بن گئی تھی۔ روایت ہے کہ جب بی آر چوپڑا نے اس دھارمک سیریل کو لکھنے کیلئے مشہور شاعر اور ادیب راہیؔ معصوم رضاکو منتخب کیا تو راہیؔ نے انکار کردیا، وہ زمانہ سوشل میڈیا کا نہیں تھا مگر بی آر چوپڑا کا یہ انتخاب اورراہیؔ کا انکارعوام تک کسی طور پہنچ ہی گیا، لوگوں کی بڑی تعداد نے چوپڑا کو اپنے خطوں کے ذریعے لعنت ملامت کی : ’’ آپ کو ’’مہا بھارت‘‘ کی اسکرپٹ نگاری کےلئے ایک مسلمان ہی ملا؟‘‘
بڑے لوگ بھی اندھیرے سے روشنی کیسے کشید کرتے ہیں، اس کا ایک نمونہ بی آر چوپڑا نے کیسے دیا ؟ وہ دیکھیے:بی آر چوپڑا کو راہیؔ کے خلاف جتنے خطوط ملے تھے ، انہوں نے اُن کی فائل راہیؔ معصوم رضا کو بھجوادِی۔ راہیؔ نے جب یہ خطوط پڑھے تو انہوں نےچوپڑاؔ سے کہا کہ میں گنگا کا پٗوت ہوں اوراب تو میں ہی’ ’مہا بھارت‘‘ لکھوں گا۔روایت ہے کہ 90 سے زیادہ ایپی سوڈ کا یہ ٹی وی سیریل جب مقبولیت کی انتہا کو پہنچا تو راہی ؔ کے گھر ٹی وی سیریل دیکھنے والوں کے ہزاروں خط پہنچنے شروع ہوگئے اور لوگوں نے ان خطوط میں راہی ؔکی تعریف ہی نہیں کی بلکہ انھیں دعاؤں سے بھی نوازا، ان خطوں کی کئی فائلیں بن گئیں۔ راوی بتاتے ہیں کہ ان موٹی فائلوں کے ساتھ ایک پتلی فائل بھی اُن کی میز کے کنارے رکھی ہوئی تھی، کسی نے اس فائل کے بارے میں راہیؔ سے سوال کیا تو انہوں نے بتایا کہ اس فائل میں وہ خطوط ہیں جن میں مجھے (ہندوؤں کی طرف سے) گالیاں دی گئی ہیں :’’تم میں ہمت کیسے ہوئی کہ مسلمان ہوکر’’ مہا بھارت‘ ‘لکھو؟‘‘ اور دوسری طرف کچھ مسلمانوں کاردعمل ہے :’’ تم نے ہندوؤں کی’ مہا بھارت‘‘کیوں لکھی؟‘‘راہیؔ کا کہنا تھا کہ یہ پتلی سی فائل ہی ہے جو مجھے حوصلہ دیتی رہی کہ ہمارے ملک میں بُرے لوگ کتنے کم ہیں۔
دورِ قدیم کی کامیاب فلموں میں بھارت بھوشن اورمینا کماری کی فلم ’’بیجو باورہ‘‘ کا نام بھی لوگوں کے ذہن میں یقیناً ہونا چاہیے،اس فلم میں محمد رفیع کی آواز میں ایک بھجن ع
من تڑپت ہے ہری درشن کو آج
بہت مشہور ہوا تھا ،اس بھجن کے شاعر تھے شکیل بدایونی اور یہی ایک بھجن نہیں اور بھی کئی فلمی نغمے ہیں جن کا موضوع یا پس منظر خالص ہندوانہ تھا مگر مسلمان لکھنے والوں نے اپنی گنگا جمنی زبان کا ایسا مظاہرہ کیا کہ وہ تاریخ کا حصہ بن گیا۔ آج کے ماحول کا تقاضا تو یہ ہے کہ اس طرح کے گنگا جمنی کاموں پر بھی ہماری یونیورسٹیز میں،دانش گاہوں میں تحقیقی کام ہونا چاہیے۔ فلم چونکہ ایک ایسا ذریعہ ہے کہ اس کے مظاہرلوگوں تک جلد پہنچتے ہی نہیں بلکہ دلوں میں جگہ بنانے میں بھی بہت موثر ہوتے ہیں مگر فلم میں وہی لوگ اس طرح کے کام کر سکے ہیں جن کا تعلق واقعتاً ادب یا ساہتیہ سے رہا ہے ۔کچھ عرصہ قبل دتاتر یہ کیفی کی ایک کتاب’’ کیفیہ‘‘ہماری نظر سے گزری ، جو اُردوزبان کے قواعد واصول جیسے موضوع کی حامل ہے۔ اس کو ذرا گہری نظر سے دیکھا تو تو پتہ چلا کہ اس کو سمجھنا آسان نہیں اس کے لئے تو کسی اُستاد کی رہنمائی کی ضرورت ہوگی ۔ دتاترؔیہ کیفی کی مذکورہ کتاب کی اس عبارت پر ہمیں حیرانی ہوئی کہ وہ ہیں تو دتاتر ؔیہ مگر اُن کاعلمی تبحرکسی طور کافر نہیں بلکہ ہمیں تو اُن کی جستجو اور علم پر ایمان لا تے ہی بنی ۔آپ بھی دیکھئے:’’ قرآن شریف کی بہت سی آیتیں اور رسول کر یم ﷺ کی بہت سی حدیثیں موزوں ہیں یعنی ان میں وزن مو جود ہے ، لیکن ان کو نظم نہیں کہا گیا ، اس لئے کہ وہ موزو نیت بالقصد نہیں،چنانچہ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘کو ایک موزوں مصرع بحرِ سریع میں قرا ر دِیا گیا ہے اور کئی آیتیں بحرِ رمل کے وزن پر بتائی جا تی ہیں،جن کی تقطیع فاعلا تن فاعلا تن فاعلن سے ہو تی ہے،اسی طر ح سورۂ کہف میں بحرِ طویل ، سورۂ دہر میں بحر ِمنسرح ، سورۂ سبا میں بحر ِ رمل ، سورۂ مومن میں بحر مضارع ، سورہ ٔ انفعال میں بحر بسیط اور سورۂ توبہ میں بحر وافر کا وزن ملتا ہے، اس سے مزید قیاس ہو سکتا ہے۔ مو لوی صہبائی کا یہ قول کہ جو آیتیں یا حدیثیں مو زوں ہیں اُنہیں شعر نہیں کہہ سکتے، اس لئے کہ شعر وہ کلام مقفیٰ ہے جو بقصد موزوں کیا جائے۔‘‘ اس اقتباس سے واضح ہوا کہ اُردو کےوہ ادیب وشاعر یا عالم مسلمان تو نہیں تھے مگر اُردو زبان وادب کے پس منظر میں اُن کا علم مسلمانوں سےکسی طور کم بھی نہیں تھا ۔
روِندر جین کو تو سب جانتے ہیں اُن کی نعت کا ایک شعر تو ہم زندگی بھر نہیں بھول سکتے ؎
تم اپنے دل میں مدینے کی آرزو رکھنا
پھر انؐ کا کام ہے جذبے کی آبرو رکھنا
ہم نے اس شعر پر اچھے اچھے باایمان بزرگوں کو روتے بلکتے دیکھا ہے۔ دورِ حاضر کے مشہور شاعر اور فلم رائٹر جاوید اختر سے کون نا واقف ہے، ان کا ایک نغمہ( فلم : یوگاندھر) جس میں کرشن جی کے مختلف اسما گنائے گئے ہیں۔ اس پر جاوید اختر کا یہ جملہ بھی یادگار ہے کہ(مفہوم) یہ ہماری گنگا جمنی خمیررکھنے والی اُردو زبان کا کرشمہ ہے ۔اسی طرح آنجہانی دِواکر راہیؔ بھی ذہن میں اپنے ایک شعر کے ساتھ سانسیں لیتے ہوئے محسوس ہو رہے ہیں ؎
دیکھیں گے ہم بھی کوفیو! میدانِ حشر میں
آنا ذرا حسینؓ کے نانا کے سامنے
ہم ہر اس شخص سے درخواست گزار ہیں جو انسانیت کا جذبہ رکھتا ہے کہ وہ اس گنگا جمنی زبان و تہذیب اور یکجہتی کے چراغ کو جلائے رکھے یہ ہماری ساجھی وراثت ہے کہ اس میں ہمارے مذہب کی روشنی بھی ہے اور اسی میں دھرم کی اگنی بھی، یہ بجھنے نہ پائے۔