یو این آئی
غزہ //اسرائیل نے غزہ پر رات بھر بمباری کی جس میں شمالی علاقے میں القدس اسپتال اور انڈونیشیا کے ایک اسپتال کو نشانہ بنایا گیا جب کہ مشرقی علاقے میں ترکیہ کے ایک اسپتال اور جنوبی علاقے میں ایک یورپی اسپتال پر بھی بمباری کی۔رات بھر بمباری کے بعد صبح اسرائیل کی برّی فوج نے غزہ میں داخل ہونے کی کوشش کی اور ایک اسرائیلی یرغمالی خاتون فوجی اہلکار کو بازیاب کرانے کا دعویٰ کیا۔
غزہ میں رات بھر ہونے والی بمباری میں مزید 40 فلسطینی جاں ہوگئے ۔غزہ میں ترک فرینڈ شپ اسپتال کے قریب اور دیگر علاقوں میں اسرائیلی طیاروں نے رفاح کے مغربی حصوں میں شدید حملہ کیا، زیتون محلے میں گھر پر بمباری سے 7جب کہ الزوائدہ میں ایک گھر پر بمباری میں بچوں سمیت 13افراد جاں بحق ہوگئے، دونوں حملوں میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔عرب میڈیا کے مطاق اسرائیلی قابض فورسز نے نابلس کے خصوصی اسپتال پر بھی دھاوا بولا اور طیاروں نے رفاح شہر کے مغربی حصوں میں شدید حملہ کیا ہے۔رپورٹس کے مطابق شمالی غزہ کی پٹی میں جبالیہ کیمپ پر اسرائیلی بمباری میں بھی 3افرادہلاک ہوگئے۔عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے نابلس کے مغرب میں زاواٹا قصبے پر بھی دھاوا بولا اور صبح ہوتے ہی غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں پر حملے بھی شروع کردیے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر ناصر عبدالجواد کو سلفیت کے مغرب میں دیر بلوت کے قصبے سے گرفتار کرلیا جب کہ ہیبرون کے جنوب میں السامو میونسپلٹی کونسل کے رکن آزاد قیدی خلدون المحریق کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ کے البریح کیمپ کے مشرق میں گھروں پر دوبارہ بمباری بھی کی ہے۔اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حماس یرغمالیوں کو دبا اور نفسیاتی جنگ کے طور پر استعمال کرتی ہے۔دوسری جانب حماس نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ فوجی خاتون اہلکار اب بھی یرغمال ہیں البتہ اسرائیلی فوجیوں نے ایک معمر شخص کو گولی مار کر قتل کردیا۔حماس نے ایک ویڈیو بھی جاری کی جس میں تین اسرائیلی یرغمالی خواتین کو دکھایا گیا ہے جب کہ حماس 87 اور 85 سالہ اسرائیلی خواتین کو پہلے ہی رہا کر چکا ہے جنھوں نے رہائی کے بعد میڈیا سے گفتگو میں حماس کے حسن سلوک کی تعریف کی تھی۔