عظمیٰ نیوز سروس
حیدرآباد//مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر سید عین الحسن نے مانو کے شعبۂ اردو کی جانب سے منعقدہ دو روزہ سمینار ’’خدائے سخن میر تقی میر‘‘ کے افتتاحی اجلاس میں صدارتی خطاب پیش کرتے ہوئے کہا ’’یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ غزل میر کے قریب تھی یا میر غزل کے قریب تھے۔ وہ رواداری کے قائل تھے۔ میر کے عشق میں سادگی و پرکاری ملتی ہے‘‘۔موصولہ بیان کے مطابق پروفیسر سید محمد ہاشم، سابق صدر شعبۂ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ میر کا دور اردو شاعری کا عہد زریں ہے۔ انہوں نے نامساعد حالات کے باوجود اردو شاعری کا پرچم بلند رکھا۔ اس زمانے کی دہلی کے حالات کا عکس میر کی شاعری پر نظر آتا ہے۔ بقول شمس الرحمٰن فاروقی اردو شاعری کی تاریخ میں کوئی ایسا شاعر نہیں جس نے میر کی طرح زمانے کے سرد و گرم کا مقابلہ کیا ہو۔ مہمان اعزازی ممتاز نقاد میر پروفیسر شہاب الدین ثاقب، سابق صدر شعبۂ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے کہا کہ میر کی شاعری کے اتنے گوشے اور پہلو ہیں کہ کسی ایک نقاد یا محقق کی گرفت میں نہیں آسکتے۔ اسی لیے ہر دور میں میر کو سمجھنے کی کوشش ہوتی رہی۔ ان کے کلام میں دریا کی سی روانی ہے۔