عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی// مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی معیشت کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ اگر تزویراتی طور پر انتہائی اہم آبنائے ہرمز سے گزرنے والے راستے کو ایک لمبے وقت تک بند کر دیا گیا تو دنیا کو توانائی کے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ویلتھ مینجمنٹ پلیٹ فارم نیواما کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، اگر یہ راستہ 4 سے 8 ہفتوں تک بند رہتا ہے، تو خام تیل کی قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح کو چھو سکتی ہیں۔آبنائے ہرمز دنیا کا سب سے مصروف اور سب سے اہم تیل کی ترسیل کا راستہ ہے۔ عالمی تیل کی سپلائی کا تقریبا 20 فیصد سے 25 فیصد اس تنگ آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس آبنائے سے روزانہ تقریبا 20 ملین بیرل خام تیل منتقل کیا جاتا ہے۔ مزید برآں، دنیا کی مائع قدرتی گیس (LNG) کی سپلائی کا ایک اہم حصہ بھی اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس حوالے سے کوئی بھی رکاوٹ براہ راست عالمی سپلائی چین کو متاثر کرے گی۔نواما کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو تیل کی قیمتیں اگلے ایک سے دو ماہ میں 110 سے 150 ڈالر کے درمیان اتار چڑھا کا شکار ہو سکتی ہیں۔ تاہم، 150 ڈالر کی سطح ‘ڈیمانڈ ڈسٹرکشن’ کو بھی متحرک کرے گی، کیونکہ اتنی زیادہ قیمتوں پر تیل خریدنا بہت سے ممالک کی اقتصادی صلاحیت سے باہر ہے۔ اس سے نہ صرف نقل و حمل کے اخراجات بڑھیں گے بلکہ بجلی کی پیداوار اور مینوفیکچرنگ میں بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے تقریبا ہر شے کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا – روزمرہ کی ضروری اشیا سے لے کر تیار شدہ اشیا تک۔سپلائی پر اس بے پناہ دبا کو کم کرنے کے لیے، دنیا بھر کے ممالک اپنے ‘اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو’ (SPR) کو استعمال کر سکتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اگر 300 سے 400 ملین بیرل تیل مارکیٹ میں آتا ہے تو اس سے قیمتوں میں عارضی ریلیف مل سکتی ہے۔