جموں//ہالینڈ میں اسلام سے متعلق توہین آمیز خاکوں کے خلاف یہاں نمازجمعہ کے بعدجامع مسجدریلوے سٹیشن کے بارے فرزندان توحیدنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے ہالینڈمخالف نعرے بازی کی اورمانگ کی کہ قصورواروں کوسلاخوں کے پیچھے کرنے کیلئے ہالینڈکی حکومت کواقدامات اٹھانے چاہئیئں۔اس موقعہ پر چوہدری اخترحسین نے پیغمبراسلام حضرت محمدؐ کے خاکوں کی اشاعت کی شدید مذمت اور احتجاج کی اورکہاکہ اس طرح کے کارٹون مقابلے مسلمانوں کے عالمی سطح پر جذبات مجروح کرنے اور اشتعال کا باعث ہیں،پوری دنیا کا مسلمان کسی بھی صورت ایسی گستاخانہ حرکت کبھی برداشت نہیں کرسکتا اور نہ ہی ہم سے توقع رکھی جائے کہ ہم ایسی گستاخی کو برداشت کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گستاخانہ خاکوں سے ہماری برداشت کا امتحان لیا گیا ہے اور یاد رکھا جائے کسی بھی فورم پر ایسی حرکت کرنے والوں کے دل شکنی کی جائے گی اور ہر فورم پر اپنا احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کے مذموم اعلان کے خلاف احتجاج کرنا ہر مسلمان کا ایمانی فریضہ اور حضورؐ سے محبت کا تقاضہ ہے کیونکہ ایک ملعون نے پوری امت کو للکاراہے۔ اس موقعہ پرعلماء کرام نے کہا کہ با صلاحیت، مالا مال مسلم ممالک کے سربراہوں کی گستاخانہ خاکوں پر خاموشی انتہائی افسوسناک ہے۔ان کاکہناتھاکہ چند برس قبل فرانس کے ایک جریدے شاغلے ایبدو کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت سے مسلم دنیا کے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کے جذبات کوٹھیس پہنچی تھی اور یہ ایک ایسا سلسلہ ہے جو جاری ہے ، کبھی گستاخانہ خاکے بنا کر ، کبھی حجاب اور داڑھی پر پابندی لگا کر ، کبھی قبلہ اول کو اسرائیلی تحویل میں لینے کی بات کر کے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں گائے اور مذہبی منافرت پر قتل وغارت گری بھی بدترین دہشت گردی ہے جس سے ہمارا ملک جوجھ رہا ہے -ان کاکہناتھاکہ مغرب اور یورپی یونین کو دنیا کا امن عزیز ہے توانہیں گستاخانہ مواد کی اشاعت کو روکنا پڑے گانہیں تو وہ متنبہ کرتے ہیں اگر مغربی ممالک میں ایسے واقعات کی روک تھام نہ کی گئی تو دنیا میں تیسری جنگ عظیم چھڑ سکتی ہے۔اس کے علاوہ چوہدری اخترحسین نے دفعہ 35اے کے ساتھ چھیڑچھاڑ کی مذموم کوششوں کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اس دفعہ کے ساتھ چھیڑچھاڑناقابل قبول ہے۔