ٹریفک جام کاباعث،ٹرانسپورٹروں کوپریشانی،مسافروںکومشکلات
راجاارشاداحمد
گاندربل//سرینگر لیہہ شاہراہ پر ہاری پورہ گاندربل کے مقام پر 122 آر سی سی بیکن کیمپ برلب شاہراہ پر غیر ضروری رفتار شکن نصب کرکے شاہراہ پر سفر کرنے والے مسافروں کے لیے پریشانی کا بہت بڑا سبب بن گیا ہے، جس کی وجہ سے بار بار ٹریفک جام اور حفاظتی خدشات پیدا ہوتے ہیں۔مقامی رہائشیوں اور یومیہ مسافروں کے مطابق، قومی شاہراہ کے اس حصے پر بغیر کسی مناسب جواز کے یا مقررہ شاہراہوں کے ضابطہ اصولوں کے خلاف رفتار شکن نصب کئے گئے ہیں۔ ان رفتار شکن کی اچانک موجودگی گاڑیوں کی رفتار کو اچانک سست ہونے پر مجبور کرتی ہے، جس کے نتیجے میں ٹریفک کی لمبی قطاریں لگ جانے کے ساتھ ساتھ پیچھے سے گاڑیوں کے ٹکرانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔انڈین روڈس کانگریس کے رہنما خطوط اور سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت کے ضابطہ اصولوں کے مطابق عام طور پر قومی شاہرائوں پر رفتار شکن کی اجازت نہیں ہے، سوائے نایاب اور معقول حالات جیسے کہ سکول زون،ہسپتال، یا حادثے کے شکار مقامات ہوتے ہیں، اس کے باوجود بھی ہاری پورہ کے مقام پر جہاں رفتار شکن نصب کئے گئے ہیں وہاں نہ ہی سکول، ہسپتال یا حادثے ہونے کے امکانات ہیں ،اس کے باوجوددو رفتار شکن نصب کئے گئے ہیں جن کی وجہ سے حادثات ہونے کے امکانات بڑھ گے ہیں۔ مزید برآں لازمی پیشگی انتباہی سائن بورڈز اور عکاسی نشانات، جو کسی بھی ٹریفک کو پرسکون کرنے والے ڈھانچے سے پہلے درکار ہوتے ہیں، بظاہر غائب ہیں، جو موٹرسائیکل سواروں کو مزید خطرے میں ڈال رہے ہیں۔مسافروں نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ہنگامی گاڑیوں جن میں ایمبولینس گاڑیاں جو روزانہ اس شاہراہ پر دوڑتی رہتی ہیں، آگ بجھانے کی گاڑیوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کو بھی ان رکاوٹوں کی وجہ سے تاخیر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس سے قومی شاہراہ کے مقصد کو نقصان پہنچ رہا ہے، جس کا مقصد ٹریفک کی ہموار اور بلا تعطل روانی کو یقینی بنانا ہے۔