غلام نبی رینہ
کنگن//سونمرگ سے تقریباً 11 کلو میٹر قبل واقع گگن گیر علاقہ اپنی بے مثال قدرتی خوبصورتی، پْرسکون ماحول اور دلکش مناظر کے باعث ایک منفرد شناخت رکھتا ہے۔سرسبز و شاداب پہاڑوں کے دامن میں بہتا شفاف نالہ سندھ، ٹھنڈی ہوا کے جھونکے، گھنے درختوں کی قطاریں اور خاموشی سے بھرپور فضا اسے سیاحوں کے لیے ایک مثالی اور دلکش مقام بناتے ہیں۔ یہاں کی فطری خوبصورتی نہ صرف آنکھوں کو بھاتی ہے بلکہ ذہنی سکون کا بھی باعث بنتی ہے، جو اسے مصروف اور ہنگامہ خیز سیاحتی مقامات کے مقابلے میں ایک منفرد اہمیت عطا کرتی ہے۔تاہم، سونمرگ ٹنل کی تعمیر کے بعد جہاں ایک طرف سفری سہولت میں نمایاں بہتری آئی، وہیں گگن گیر جیسے خوبصورت مقامات کسی حد تک مرکزی سیاحتی دھارے سے کٹ گئے۔ نتیجتاً سیاحوں کی بڑی تعداد براہ راست سونمرگ کا رخ کرتی ہے اور گگن گیر اپنی تمام تر دلکشی کے باوجود پس منظر میں چلا گیا ہے۔ اس تبدیلی نے نہ صرف اس علاقے کی سیاحتی سرگرمیوں کو متاثر کیا بلکہ مقامی آبادی کی معاشی سرگرمیوں پر بھی اثر ڈالا ہے۔گگن گیر سونمرگ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، جہاں تین مقامات پر خوبصورت پارکیںہیںجن سے سالانہ لاکھوں روپے کی آمدنی بھی حاصل ہوتی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر مناسب توجہ دی جائے تو یہ علاقہ سیاحت کے لحاظ سے خاصی اہمیت کا حامل بن سکتا ہے۔ اس کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ گگن گیر میں سیاحوں کی آمد نہ ہونے کے برابر ہے، جو مؤثر منصوبہ بندی اور تشہیر کی کمی کو واضح طور پر ظاہر کرتی ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق، نالہ سندھ کے کنارے اور پہاڑی دامن میں قائم جدید کیمپنگ سائٹس سیاحوں کے لیے بہترین اور معیاری سہولیات فراہم کرتی ہے۔ ان کیمپنگ سائٹس میں رہائش، صفائی اور دیگر بنیادی سہولیات کا مناسب انتظام موجود ہے، تاہم مناسب تشہیر، رہنمائی کے فقدان اور سیاحتی پیکیجز کی عدم دستیابی کے باعث یہ خوبصورت مقامات خالی پڑے ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر ان کیمپنگ سائٹس کو فعال انداز میں فروغ دیا جائے اور سیاحوں کو یہاں آنے کی ترغیب دی جائے تو یہ علاقہ جلد ہی ایک معروف سیاحتی مرکز بن سکتا ہے۔آبادی نے متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ گگن گیر کو ایک باقاعدہ سیاحتی مقام کے طور پر فروغ دینے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ ان اقدامات میں مؤثر تشہیری مہم، بہتر سائن بورڈز کی تنصیب، سڑکوں کی مرمت و بہتری، سیاحتی رہنمائی مراکز کا قیام اور مختلف سیاحتی سرگرمیوں کا انعقاد شامل ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی اس علاقے کی تشہیر کی ضرورت ہے تاکہ ملکی و غیر ملکی سیاح اس سے آگاہ ہو سکیں۔