عطمیٰ نیوز سروس
سرینگر// بھارت کے فرٹیلٹی ہیلتھ کیئر سیکٹر میں جدت پسندی اور قیادت کا علمبردار، گوڈیم آئی وی ایف نے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی بانجھ پن کے علاج کا آغاز کر کے انڈسٹری میں ایک اور سنگ میل قائم کر دیا ہے۔ اس نئے نظام کا باقاعدہ افتتاح وفاقی وزیر برائے روڈ ٹرانسپورٹ اور شاہراہیں نتن جے رام گڈکری نے کیا، جنہوں نے ملکی مستقبل کی تعمیر میں ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کے کردار پر زور دیا۔یہ انضمام برطانیہ میں قائم ایمبریولوجی کی اختراعی تنظیم ‘آئی وی ایف 2.0’ کے اشتراک سے کیا گیا ہے، جس کے بانی معروف ایمبریولوجسٹ ڈاکٹر جیکس کوہن اور ڈاکٹر الیجینڈرو چاوے ہیں۔ یہ شراکت داری عالمی سطح کی جدید ایمبریولوجی انٹیلیجنس کو بھارت کے طبی نظام میں متعارف کراتی ہے۔
افتتاح کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے گڈکری نے کہا کہ مصنوعی ذہانت جیسی جدید ٹیکنالوجیز کو اپنانا جدت طرازی میں بھارت کی بڑھتی ہوئی طاقت کا عکاس ہے اور ایسے اقدامات مستقبل میں ٹیکنالوجی پر مبنی حل فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔گوڈیم آئی وی ایف کی چیئرپرسن اور منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر مانیکا کھنہ نے کہا کہ اے آئی کے استعمال سے نہ صرف کامیابی کی شرح بہتر ہوگی بلکہ مریضوں کے لیے اس پورے عمل میں شفافیت اور اعتماد پیدا ہوگا۔ ابتدائی طبی مشاہدات کے مطابق، ان اے آئی سسٹمز کے استعمال سے فرٹیلائزیشن اور جنین کی نشوونما کی شرح میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے، جس سے بار بار علاج کی ضرورت کم ہوگی اور مریضوں پر پڑنے والا جذباتی، جسمانی اور مالی بوجھ ہلکا ہوگا۔