گول//گول سرینگر بس سروس نامعلوم وجوہات کی بناء پربند کردی گئی ہے جبکہ رام بن کی سروس بھی ٹھپ ہے جس پر لوگوں میںبرہمی پائی جارہی ہے۔ قریباً سات آٹھ سال قبل سرینگر لال چوک سے ایک سرکاری بس گول آتی تھی لیکن نا معلوم وجوہات کی بناء پر اس کو چند مہینوں کے بعد ہی بند کر دیا گیا اور آج تک یہ بس غائب ہے جس وجہ سے گول کے لوگ وادی کشمیر سے اکثر کٹے رہتے ہیں۔ گول کو سرینگر جانے کے لئے کم و بیش چار گاڑیوں کو بدلنا پڑتا ہے تب جا کے سرینگر پہنچتا ہے جس وجہ سے یہاں کے لوگ زیادہ تر کشمیر نہیں جاتے ہیں ۔ اگر دیکھا جائے تو جتنی مسافت گول سے جموں ہے اتنا ہی گول سے سرینگر بھی ہے لیکن ٹرنسپورٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے گول کے لوگ زیادہ تر کشمیر نہیں جا پا رہے ہیں ۔ اس سلسلے میں اعلیٰ حکام اور پچھلی سرکاروں سے بھی مطالبات کئے تھے لیکن اس کی جانب کسی نے کوئی توجہ نہیں دی وہیں گول سے رام بن 52کلو میٹر شاہراہ پر بھی لوگوں نے گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سروس رام بن ضلع ہیڈ کوارٹر سے صبح7بجے گول کی جانب نکلنی چاہئے تا کہ ملازمین وقت پر اپنی ڈیوٹی پر پہنچ جائیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر چہ اس سے قبل بھی ضلع ترقیاتی کمشنر اور وزراء سے اخبارات کے ذریعے مطالبات کئے تھے لیکن اس جانب کسی نے کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ رام بن ضلع ہیڈ کوارٹر سے جو عام لوگ اور ملازمین گول تحصیل صدر مقام پر جانا چاہتے ہیں انہیں صبح گاڑی کی خاطر در در کی ٹھوکریں کھانی پڑتی ہیں اور کبھی کبھار مہنگے داموں سپیشل گاڑی(سومو) پر جاتے ہیں اور کئی ملازمین بعد دوپہر جاتے ہیں جس سے ان کا ایک دن ضائع ہوتا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر کے ساتھ ملانے والی سرکاری بس سروس کو بھی نا معلوم وجوہات کی بناء پر بند کر دیاتھا اسے بھی جلد از جلد شروع کیا جائے تا کہ لوگوں کو جو کشمیر جانا چاہتے ہیں انہیں پریشانیوں کا سامنا نا کڑنا پڑے اور ان کا سفر آسان ہو جائے ۔