اسسٹنٹ پروفیسروں کی 193، جونیئر ڈاکٹروں کی102اور نیم طبی عملے کی 980اسامیاں شامل
پرویز احمد
سرینگر //گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے مختلف شعبہ جات میں تدریسی عملے، جونیئر ڈاکٹروں اور نیم طبی عملے کی 1275اسامیاں خالی ہے ۔ ان میں اسسٹنٹ پروفیسروں کی 198اسامیاں، جونیئر ڈاکٹروں 102اسامیاں اور نرسنگ سمیت دیگر نیم طبی عملے کی 980اسامیاں شامل ہیں ۔ جی ایم سی سرینگر سے منسلک ہسپتالوں صدر ہسپتال کرن نگر ، سپرسپیشلٹی ہسپتال شرین باغ، چلڈرن ہسپتال بمنہ، بون اینڈ جوئنٹ ہسپتال برزلہ،لل دید ہسپتال لال چوک، کشمیر نرسنگ ہوم سونہ وارسب ڈسٹرکٹ ہسپتال نسیم باغ اور سی ڈی ہسپتال ڈلگیٹ میں تعینات ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ طبی و نیم طبی عملی کی کمی کی وجہ سے ہسپتالوں میں مریضوں کو او پی ڈی اور وارڈوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ ڈاکٹروں کو اضافی دبائو کی وجہ سے علاج کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
صدر ہسپتال سرینگر میں تعینات ایک ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرح پر کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ جنرل میڈیسن اور جنرل سرجری کے شعبہ جات ہر ہسپتال کیلئے اہم ہوتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ یہ شعبہ جات نہ صرف او پی ڈی کو سنبھالتے ہیں بلکہ ان شعبہ جات کے وارڈوں میں بھی مریضوں کو بہت رش ہوتا ہے لیکن صدر ہسپتال میں ان دنوں شعبہ جات میں 50فیصد عملے کی کمی ہے۔ مذکورہ ڈاکٹر نے بتایا ’’جنرل میڈیسن میں اسسٹنٹ پروفیسروں کی منظورشدہ اسامیاں 19ہے لیکن یہاں صرف 9تعینات ہیں ۔‘‘ اسی طرح شعبہ جنرل سرجری کیلئے اسسٹنٹ پروفیسروں کی منظورشدہ تعداد 18ہے لیکن ان میں سے صرف 10تعینات ہیں جبکہ 8اسامیاں ابھی بھی خالی ہیں۔ مذکورہ ڈاکٹر نے کہا کہ اگر ہسپتالوں کی تعداد کے حساب سے دیکھا جائے تو ہر ہسپتال کے شعبہ میڈیسن اور جنرل سرجری میں صرف1ہی اسسٹنٹ پروفیسر تعینات ہے کیونکہ جی یم سی سرینگر کے ساتھ مجموعی طور پر 8ہسپتال منسلگ ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر میں مجموعی طور پر عملے کی 1257اسامیاں خالی ہے ، ان میں اسسٹنٹ پروفیسروں کی 193، جونیئر ڈاکٹروں کی 102 ، نرسنگ اور دیگر عملے کی 980اسامیاں شامل ہیں۔ اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے جی ایم سی سرینگر کے ایڈمنسٹریٹر محمد اشرف حکاک نے کہا’’ ہم نے خالی پڑی اسامیوں کی بھرتی کا عمل شروع کردیا ہے اور مرحلہ وار طریقے سے بھرتی عمل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عملے کی کمی بھی بہت جلد پوری ہوگی۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ جی ایم سی سرینگر کے زیرنگران سرینگر کے 8ٹرشری کیئر ہسپتال کام کررہے ہیں جبکہ روزانہ ہزاروں مریضوں کا علاج و معالجہ کے علاوہ تشخیص کی جاتی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرنے کے بعد دو روز قبل محمد اشرف حکاک صاحب کا تبادلہ عمل میں لایا گیا ہے۔