سری نگر //گوجر بکروال طبقہ سے تعلق رکھنے والے درجنوں افراد نے ہفتہ کے روز یہاں پرتاب پارک میں سماجی جہدکار طالب حسین کی فوری رہائی کے مطالبے کو لیکر احتجاجی دھرنا دیا۔ احتجاجی دھرنے کے شرکاء زاہدپروازچوہدری، یٰسین پسوال ودیگران نے کہا کہ طالب حسین کو ایک فرضی معاملے میں پھنسایا گیا ہے اور دھمکی دی کہ گرفتار سماجی جہدکار کو ایک ہفتے کے اندر رہا نہ کئے جانے کی صورت میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے شروع کئے جائیں گے۔ بتادیں کہ کٹھوعہ آبروریزی و قتل معاملے کی آٹھ سالہ متاثرہ بچی کو انصاف دلانے کے لئے جدوجہد کرنے والے طالب حسین کو ریاستی پولیس نے گذشتہ ہفتے گرفتار کرکے پولیس تھانہ سانبہ میں بند کیا جہاں انہیں مبینہ طور پر شدید جسمانی اذیتیں دی گئیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی ایک رشتہ دار خاتون کے ساتھ دست درازی کی ہے۔ تاہم طالب حسین کے گھر والے اور گوجر بکروال طبقہ کے بیشتر لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں فرضی معاملے میں پھنساکر کٹھوعہ کی متاثرہ بچی کے لئے انصاف کی لڑائی لڑنے کی سزا دی جارہی ہے۔ ہفتہ کو یہاں پرتاب پارک میں گوجر بکروال طبقہ سے تعلق رکھنے والے درجنوں افراد نے ’گوجر بکروال یوتھ فورم‘ کے بینر تلے احتجاجی دھرنا دیکر طالب حسین کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ احتجاجیوں نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جبکہ انہوں نے ’آواز دو ہم ایک ہیں، جموں میں مسلمان پر ظلم وستم بند کرو بند کرو، غنڈہ گردی نہیں چلے گی نہیں چلے گی، طالب کو رہا کرو رہا کرو، طالب بے قصور ہے بے قصور ہے، طالب اکیلا نہیں ہے ہم اس کے ساتھ ہیں، طالب پر لگے الزامات بے بنیاد ہیں بے بنیاد ہیں‘ جیسے نعرے لگائے۔ احتجاجیوں کی قیادت کرنے والے ایک معمر شخص نے نامہ نگاروں کو بتایا ’طالب حسین بے قصور ہے۔ اس کو پھنسایا گیا ہے۔ اس کو کٹھوعہ کی کمسن بچی کو انصاف دلانے کے لئے لڑی ہوئی لڑائی کی سزا دی جارہی ہے۔ طالب کو پیسوں کی دم پر پھنسایا گیا ہے‘۔ انہوں نے کہا ’ہم گورنر صاحب اور آئی جی جموں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ انصاف کریں۔ طالب کو رہا کیا جائے۔ اس کے ساتھ انصاف کیا جائے۔ یہ کیس جھوٹ پر مبنی ہے‘۔ ایک اور احتجاجی نے کہا ’طالب کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے۔ طالب بے قصور ہے۔ اسے رہا کیا جائے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ریاست میں جو آج لگی ہوئی ہے، اس پر تیل نہیں بلکہ پانی چھڑکا جائے‘۔