جموں // مودی سرکار پر اپنی امیدیں وابستہ کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے گوجر وں نے گوجری زبان کو آئین ہند کے آٹھویں شیڈول میں درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ایک پریس بیان کے مطابق ٹرائیبل ریسرچ اینڈ کلچرل فائونڈیشن کی جانب سے اتوار کے روز یہاں منعقدہ ایک پروگرام میں دعویٰ کیا گیا کہ گوجری زبان کو تقریباً دو ملین گوجر بولتے ہیں اور مرکزی سرکار کو اسکی جانب توجہ دینا چاہیے۔گوجروں نے انکی مادری زبان گوجری کو آئین ہند کے آٹھویں شیڈول میں درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ پروگرام کی قیادت نامور ٹرائیبل ریسرچر ڈاکٹر جاوید راہی نے کی ،جبکہ پروگرام میں متعدد قلم کاروں ،کلا کاروں اور دانشوروں نے بھی شرکت کی۔ڈاکٹر جاوید راہی نے اپنے خطاب میں کہا کہ گوجری بھارت کی شمال۔مغربی ریاستوں بشمول ہماچل پردیش، ہریانہ، اترا کھنڈ، پنجاب،دہلی ،یو پی، راجستھان، آندھرا پردیش ،گجرات میں سب سے زیادہ ٹرائیبل لوگوں کی جانب سے بولنے والی زبان ہے، جس میں سے جموں وکشمیر کے مقامی تین ملین آبادی گوجری بولتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ گوجری زبان تمام مطلوبہ شرائط پورا کرتی ہے اور بھارتی زبان کا درجہ حاصل کرنے کی مستحق ہے۔انہوں نے کہا کہ طبقہ کو مودی سرکار سیکنڈ سے بہت سے توقعات وابستہ ہیںاور 1991سے التوا میں پڑے مطالبہ کو حل کرنے کیلئے پُر امید ہیں۔انہوں نے کہا کہ طبقہ گوجری زبان کو آئین ہند کے آٹھویں شیڈول میں درج کرانے کوشد و مد سے جد و جہد کر رہی ہے۔ اس موقعہ پر مقررین نے کہا کہ گوجروں میں بیداری آنے کی وجہ سے بر صغیر میںگوجری کو بطور ایک کلچرل زبان کے طور اہمیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا گوجروں کا کلچر منفرد اور رنگا رنگ ہے اور تین یونیورسٹیوں کے سیلبس میں گوجری زبان کو بھی شامل کیا گیا ہے جبکہ سرکاری سکولوں میں اسے بطور ایک اختیاری مضمون پڑھایا جاتا ہے۔اس موقعہ پر سینئر قلم کاروں ، شعراء، اور دانشوروں کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ،جو اس سلسلہ میں متعدد عہدہ دارون سے ملاقات کرے گی۔مقررین نے گوجری زبان کو سکولوں میں متعارف کرنے کا بھی مطالبہ کیا ۔اجلاس سے خطاب کرنے والوں میں عبدل کریم ، اشتیاق مسباح، جونید دلدار، عارف محمد،اسلم بہلوٹ، خادم خاکی و دیگران بھی شامل تھے۔