سید سرفراز احمد
جس برق رفتاری سے دنیا ترقی کے منازل طے کررہی ہے، اتنی ہی تیز رفتاری سے برائیاں عام ہوتی جارہی ہے ۔جدید ٹکنالوجی نے انسان کو آرام دہ ماحول فراہم کیا ہے جسکے سبب وہ کام سے جی چرانے کا عادی بن چکا ہے۔ برائیوں کی طرف آسانی سے لپک رہا ہے، جدید ٹکنالوجی میں سب سے اہم کردار سوشیل میڈیا کا ہے جو ایک طرف ترقی یافتہ بھی بنارہا ہے تو دوسری طرف اخلاقی گراوٹ میں اپنا اہم رول ادا کررہا ہے لیکن اس ماحول کا تعلق افراد کی تربیت سے ہوتا ہے ۔چونکہ کہا جاتا ہے کسی بھی قوم کی ترقی کا راز نسلوں کی تربیت میں پوشیدہ ہے،اگر نسلوں کی تربیت نہ ہوتو وہ قوم ضلالت کے گھٹا توپ اندھیرے میں غرق ہوجاتی ہے۔ اگر ہم مسلم معاشرے کی بات کریں گے تو اس معاشرے میں ہمہ اقسام کی درجنوں برائیاں عام ہوتی جارہی ہیں لیکن ان سب برائیوں میں ارتداد بے راہ روی جیسی برائی جو دین فطرت میں گناہ عظیم ہے جو معاشرے میں مرکزی دھارے کا کردار ادا کررہی ہے۔ یہ ایک انتہائی حساس موضوع ہے جسکا تعلق راست ایمان سے ہوتا ہے، جس پر پچھلے دو سال سے اس عنوان پردرجنوں مضامین لکھے گئے اور لکھے بھی جارہے ہیں۔ یہ ایک خوش آئند اقدام ہےکہ امت مسلمہ کاباشعور طبقہ پوری شعوری کیفیت کے ساتھ بیدار ہے اور معاشرے کو بھی بیدار کررہا ہے لیکن پھر بھی اسطرح کے واقعات میں میں کوئی روک تھام نظر نہیں آرہی ہے ۔
موجودہ صورتحال پر اگر روشنی ڈالی جائے تومسلم معاشرے میں ارتداد کے دوطرح کی شکلیں سامنے آرہی ہیں، ایک داخلی دوسرا خارجی۔ داخلی یہ ہےکہ امت میں سے ہی کئی ایسے فتنے وجود میں آچکے ہیں جو منکر حق ہیں۔ حالیہ کچھ دنوں قبل سوشیل میڈیا پر ایک فتنہ سازکے حامیوں کو کرناٹک کے علاقہ سے پکڑنے کےویڈیوز تیزی سے وائرل ہوئے تھے جو مختلف علاقوں میں کاروبار کی غرض سے پہنچ کر ناخواندہ مسلم بستیوں میں فتنے کو وسعت دینے کا کام کررہے ہیں، یہ فتنہ دراصل مغرب کی مسلم مخالف سازشوں کا حصہ ہے۔
جو ناخواندہ مسلموں کو طرح طرح لالچیوںسے ورغلاکر منکرِ اسلام بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ دراصل یہ وہ تریاق ہے جو آہستہ آہستہ پھیل رہا ہے۔
مسلم جماعتوں،تنظیموں ،دانشواران ِملت کے تعلیم یافتہ طبقہ پر لازم ہے کہ اس صورت حال کو سمجھیں اور ان علاقوں پر بھی نظر رکھیں جہاں یہ گمراہی پھیلائی جارہی ہے۔ چونکہ قرآن نے امت مسلمہ کو خیر امت کے لقب سے سرفراز کیا ہے ،جو بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں۔ لہٰذا یہ کام متحدہ طور پر کیا جائے، بالخصوص ایمان سے پھیر دینے والی چیز ارتداد کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔ جمعہ کے خطبوں کے ذریعہ اس موضوع کو پیش کیاجائے، ممکن ہےکہ اس سے مسلم معاشرے کی اصلاح ہوجائے۔
دوسرا پہلو جو ہے وہ ہے خارجی یعنی مسلم لڑکیاں غیر مسلم لڑکوں کے فریب والی محبت کا شکار ہوکر دائرے اسلام سے خارج ہورہی ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں ملک کی الگ الگ ریاستوں میں ایسے بے شمار واقعات منظر پر آئے ہیں جو ایک وباء کی طرح پھیلتے جارہے ہیں ۔کچھ واقعات ایسے بھی سننے اور دیکھنے کو ملے ہیں جو ایمانی دلوں کو مضطرب کردینے والے ہیں۔،لیکن اگر مسلم معاشرے میں اسطرح کا ایک بھی واقعہ رونما ہو، وہ بھی مسلم معاشرے کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ سچائی یہ بھی ہےکہ جتنے بھی واقعات سامنے آرہے ہیں ،اس میں غیر تعلیم یافتہ اور تعلیم یافتہ لڑکیاں دونوں شامل ہیں۔ اب یہ تو اندازہ لگانا ممکن نہیںکہ وہ دینی تعلیمات تک کتنی آراستہ تھیں ۔اگر اس گمراہی کا شکارلڑکیوں کے ماحول کا جائزہ لیا جائے تو بھی یہ قیاس لگانا مشکل ترین ہوجاتاہےکہ تعلیم یافتہ ماحول کی بھی لڑکیاں کس طرح گمراہ ہورہی ہیں۔ ہاں، اسمیں کچھ لڑکیاں اس طبقہ سے بھی تعلق رکھتی ہیں جنکے ماحول کا دور دور تک دین سے تعلق نہیں ہے، وہ دینی تعلیمات کو نہیں جانتی ہے، جسکی وجہ سے انھیں جو ماحول میسر ہورہا ہے، وہ اسی ماحول میں ڈھل کر اپنے دین سے دور جانے میں کوئی عار نہیں سمجھتی ۔اس معاملہ میں مجموعی طور پر جو سب سے بڑا فقدان نظر آتا ہے، اسمیں سب سے اہم والدین کی طرف سےاولاد کی تربیت اور گھر کا ماحول ہے۔ اگر چہ گھر کے ماحول کو بدل دیں تو مزاج اور عادتوں کو بدلنا بہت آسان ہوگا۔گھروں میں دینی مزاج کو پروان چڑھانے کیلئے والدین اپنی اولاد کو نماز کا پابند بنائے، افراد خاندان کے ساتھ درس قرآن یا تلاوت و ترجمانی احادیث کا مطالعہ ، سیرت کے واقعات ذکر و اذکار کی محفلیں سجائیں۔غرض یہ کہ اپنے بچوں کو قرآن و حدیث سے شغف پیدا کرنے کی کوشش کی جائے ،جس سے افراد خاندان میں اور گھر کے ماحول میں تقوی جیسی عظیم صفت پیدا کی جاسکتی ہے۔ دوسرا والدین کی اولاد پر کڑی نگرانی راتوں میں تنہا نہ چھوڑنا، خواہ وہ لڑکا ہو کہ لڑکی، چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو نظر انداز کرنے کے بجائے اصلاح کروانا، وہ بھی اسوہ رسول سے یا صحابہ کے واقعات سے نرمی کے ساتھ ساتھ ہلکی پھلکی سختی سے بھی پیش آنا چاہیئے تاکہ کسی منفی کام کی طرف راغب ہونے سے پہلے خوف خدا یاد آجائے یا والدین کی نصیحت یاد آجائے ۔سب سے اہم کام اپنے بچوں کو روحانی غذا کے طور پر عمدہ کتابوں کا انتخاب کرکے انھیں تحفہ پیش کریں اور وقفہ وقفہ سے انکے مطالعہ کے معیار کا جائزہ لیں اور ان سے حاصل طالعہ سنیں ۔تیسری چیز یہ کہ اپنے بچوں کیلئے معیاری تعلیمی ادارے کا انتخاب کریں اور وقفہ وقفہ سے اس ادارے کی تعلیمی صورتحال کاجائزہ لیتے رہیں اور اپنے بچوں سے اس تعلیمی ادارے کی ہر زوایئے سے احوال دریافت کرتے رہیں ،کیونکہ یہ وہ باریک اور اہم نکتہ ہے جسمیں اکثر و بیشتر والدین اپنے بچوں کے تعلیمی ادارے کی سرگرمیوں سے ناآشنا ہوتے ہیں اور بچے بھی والدین کو کچھ بتانے سے بھی پس و پیش کرتے ہیں، جس میں یہ پتہ ہی نہیں چل پاتا کہ ہمارے بچوں میں کونسی برائی جنم لے رہی ہے یا وہ کس ماحول کی طرف پر کشش بنتے جارہے ہیں ۔انتہا یہاں تک پہنچ جاتی ہےکہ والدین کے سامنے اچانک منفی نتائج ہی برآمد ہوجاتے ہیں جو سوائے پچھتاوے کے کچھ ہاتھ نہیں آتا کیونکہ اسطرح کے واقعات بھی حقیقت میں منظر پر آچکے ہیں۔ بعض واقعات ایسے بھی ہیں کہ کالج تفریح کے نام پر ہماری لڑکیاں باہر جاتی ہیں اور وہاں فحش کاموں میں ملوث ہوجاتی ہیں ۔لہٰذا والدین کی سب سے اہم ذمہ داری ہےکہ وہ گھر کے ماحول کے ساتھ ساتھ بچوں کے باہر کے ماحول پر بھی کڑی نظر جمائے رکھے ۔اگر ارتداد کی روک تھام کیلئے اجتماعی صورتحال دیکھی جائے تو مختلف دینی جماعتیں و ملی تنظمیں اس کیلئے اصلاحی کاموں کوانجام دے رہی ہیں، اسکو مزید بہتر بنانے کیلئے اور بھی زمینی کاموں کو انجام دینا انتہائی ناگزیر ہے، جس میں اہم کام ایسے علاقے جہاں دین بے رغبتی پائی جاتی ہے ،جہاں دینی و اسلامی مزاج کا شعور نہیں ہے ،وہاں اصلاح کا کام کیا جائے ۔خاص طور پر خواتین و لڑکیوں کو خواتین کی دینی تنظیموں یا جماعتوں سے جوڑنے کی مہم چلائی جائے۔ ٹکنالوجی کے اس دور میں یہ بات تعجب خیز نہیںہےکہ کوئی گھر اسمارٹ فون سے بچا ہو، سوشیل میڈیا پر دانشوران ملت کی جانب سے ایک رائے یہ بھی ہےکہ خواتین اور لڑکیوں کو دین سے رغبت پیدا کرنے کیلئے تعلیم یافتہ یا دینی شعور رکھنے والی خواتین کے زیر نگرانی واٹس ایپ گروپس تشکیل دے کر ان کیلئے اصلاح کا سامان میسر کیا جائے۔ مختصراً یہ کہ ہروالدین اپنے بچوں کو بیشتر وقت دینی کاموں اور گھر کے کام کاج میں مصروف رکھنے کی کوشش کریں کیونکہ خالی دماغ شیطان کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔ اگر ان امور پر عمل آواری ہوجائے تو ایک مثالی خاندان کے ساتھ سات ایک مثالی معاشرے کے خواب کو بھی حقیقت میں بدلا جاسکتا ہے، کیونکہ ان سب کا حل ان ہی میں موجود ہے ۔
[email protected]>
��������������