سری نگر//وسیم رضوی کے خلاف ملک کے باقی حصوں کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر کے لوگوں میں شدید غم و غصہ برابر جاری ہے۔ کے این ایس کے مطابق وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کے چرار شریف میں واقع تاریخی خانقاہ میں نماز جمعہ کے بعدوسیم رضوی کی طرف سے قرآن شریف سے چھبیس آیات کو حذف کرنے کیلئے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی عرضی کے خلاف زبردست غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس دوران لوگوں نے یہاں زور دار احتجاج کیا ۔ادھر جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کی جامع مسجد میں بھی وسیم رضوی کے خلاف ایک احتجاج ہوا، جس میں علاقے کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ احتجاج میں بتایا گیا ہے قرآن کریم کی کے خلاف ایسے بیانات اور اقدامات کو کسی بھی طرح مسلمان برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے حکام سے وسیم کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ۔ پکھر پورہ میں خانقاہِ فیض پناہ کے میر واعظ پیر زادہ مولانا شکیل الرحمان اویسی نے نماز جمعہ کے موقع پر وسیم رضوی کی طرف سے قران پاک کی چھبیس آیتوں کی خودساختہ ترمیم اور اس کے ناپاک ارادوں کی شدید الفاظ میں سخت مذمت کی ۔ اس دوران سینکڑوں فرزندانِ توحید نے وسیم رضوی ملعون کے خلاف فلک شگاف نعرے بلند کئے ۔