عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے احتجاج کے دوران گرفتار کیے گئے نوجوانوں کی فوری رہائی کے لیے مرکزی وزیر داخلہ اور جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر سے خصوصی مداخلت کی اپیل کی ہے۔ یہ احتجاج ایران کے روحانی و سیاسی رہنما آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کی خبر کے بعد وادی میں بھڑک اٹھا تھا۔ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ عوامی جذبات کا احترام کرتے ہوئے ان نوجوانوں کو فوری طور پر رہا کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قدم نہ صرف انسانی ہمدردی کا تقاضا ہے بلکہ خطے میں اعتماد سازی اور سماجی ہم آہنگی کو مضبوط کرنے کے لیے بھی ضروری ہے۔فاروق عبداللہ کا کہنا تھا کہ گرفتار نوجوان کسی ملک مخالف سرگرمی میں ملوث نہیں تھے اور نہ ہی انہوں نے ملک کے خلاف کوئی نعرے بازی کی تھی۔ ’یہ نوجوان صرف اپنے مذہبی رہنما کی شہادت پر غمزدہ تھے اور جذباتی کیفیت میں احتجاج کا حصہ بنے۔ ایسے میں سخت کارروائی کے بجائے برداشت، حکمت اور حساسیت کا مظاہرہ ہونا چاہیے.‘انہوں نے اس بات پر گہری تشویش ظاہر کی کہ گرفتاریوں کے باعث نوجوانوں کے اہل خانہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ والدین اپنے بچوں کے تعلیمی، سماجی اور روزگار کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں اور انہیں خوف ہے کہ ان پر قائم مقدمات ان کی زندگی پر منفی اثرات چھوڑ سکتے ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے پیش نظر حکومت اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرے گی اور ایسا فیصلہ کرے گی جو انصاف، انسانی ہمدردی اور معاشرتی ہم آہنگی کے اصولوں سے ہم آہنگ ہو۔