جموں//این ایس ایس یونٹ ڈگری کالج سانبہ کی جانب ’گاندھی جی کے نظریات کی موجودہ دورمیں اہمیت ‘ کے موضوع پر سمپوزیم کاانعقاد کیا۔اس دوران طلباء نے شمع روشن کرکے مہاتماگاندھی کی تصویرپرپھول مالائیں چڑھائیں اورانہیں خراج عقید ت پیش کیا۔اس دوران این ایس ایس کے 5رضاکاروں نے موضوع سے خیالات کااظہارکیا۔اس موقعہ پر مونک چوہدری کواول، کماری کاسوپانڈے کودوسری اورہتکاشی شرماکوتیسراانعام دیاگیا۔اس دوران مقررین نے بابائے قوم گاندھی جی کوخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ ہم سب کواس دن کے موقعہ پر گاندھی جی کے خوابوں کوپوراکرنے کاعہد کرناچاہیئے۔ انہوں نے کہاکہ گاندھی جی عدم تشددمیں یقین رکھتے تھے جس کی آج کے دورمیں نہ صرف ہمارے ملک بلکہ پوری دنیا میں کافی زیادہ اہمیت ہے۔انہوں نے کہاکہ موجودہ وقت میںگاندھی جی کے نظریے کوعملی طورپر لاگوکرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ گاندھی جی کا عدم تشدد کا فلسفہ اس دور کے لوگوں میں بھی موجود تھا اور آج بھی موجود ہے۔ گاندھی جی کا فلسفہ آج بھی اہمیت کا حامل ہے اور اس سے دورِ حاضر کے متعدد مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے۔ ملک کی آزادی میں بہت سے لوگوں کا تعاون رہا ہے لیکن ان میں گاندھی جی کا تعاون سب سے بالاتر ہے جنہوں نے عدم تشدد اور سچائی سے اس ملک کو آزاد کرایا۔آج ہمیں مہاتما گاندھی ہندوستانی شہری ہونے کے ناطے سیکولرازم اور اخلاقی اقدار کے تحفظ کے لئے گاندھی جی کے بتائے راستے پر چلنے کی ضرورت ہے۔یہ گاندھی جینتی کا موقع ہے،ایسے میں ہماری طرف سے باپو جی کوسب سے بہتر خراج عقیدت یہی ہو سکتا ہے کہ ہم ان کے سب سے مضبوط اور اہم نظریہ ’عدم تشدد‘کو فروغ دینے کیلئے پہل کریں اور سکون کا ماحول قائم کرنے کی کوشش کریں۔اس دوران ججزکے طورپرفرائض پروفیسرکمل جیت ،پروفیسرآشادیوی اور پروفیسرسکھویندر کورنے انجام دیئے۔اس دوران فیکلٹی ممبران ڈاکٹر دلبیرسنگھ اورڈاکٹر ایم ایس پٹھانیہ بھی موجودتھے۔اس موقعہ پربولتے ہوئے پرنسپل ڈاکٹر جی ایس رکوال اور ڈاکٹراشوک کمارنے کہاکہ گاندھی جی کے نقش ِ قدم پرچلنے کی اشدضرورت ہے۔