راجا ارشاد
گاندربل //گاندربل کے مضافاتی علاقہ گوٹلی باغ کے ایک کنبے نے ضلع ہسپتال گاندربل میں اپنے نوزائیدہ بچے کی موت کے بعد ڈاکٹروں پر طبی لاپرواہی کا الزام عائد کرتے ہوئے واقعہ کی انکوائری اور اس میں ملوث عملہ کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی مانگ کی۔گوٹلی باغ کی ایک حاملہ خاتون کو دو روز قبل ضلع ہسپتال گاندربل میں داخل کرایا گیا تھا جب اس کا حمل مقررہ تاریخ سے گزر گیا تھا جس کی سرجری مبینہ طور پر 20 اپریل کو ہونی تھی۔رشتہ داروں کے مطابق انہوں نے ڈاکٹروں سے بار بار درخواست کی کہ مریض کو میڈیکل انسٹیچوٹ صورہ منتقل کیا جائے اگر ضلع ہسپتال میں کسی قسم کی طبی پریشانی لاحق ہے لیکن ڈاکٹروں نے مبینہ طور پر ان کا علاج ضلع ہسپتال میں ہی کرنے کا علاج معالجہ کیا گیا۔
اہل خانہ نے بتایا”وہ ہمیں بتاتے رہے کہ سب کچھ نارمل ہے۔ سرجری سے 15 منٹ پہلے بھی ڈاکٹروں نے کہا کہ بچہ ٹھیک ہے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے لیکن پھر اچانک انہوں نے اسے سرجری کے لیے لے جانے کا فیصلہ کیا اور سرجری کرنے کے بعد ہی سرجری کرنے والے ڈاکٹروں نے بچے کو مردہ قرار دے دیا۔ سوگوار خاندان نے معاملے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے مداخلت کرکے انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔معاملے کے بعد میڈیکل سپرنٹنڈنٹ گاندربل نے کہا کہ” واقعہ کی جانچ کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ٹیم کو دو دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کو کہا گیا ہے، جس کے بعد نتائج کی بنیاد پر مزید آگے کی کارروائی کی جائے گی۔