برسبین/کپتان جو روٹ اور ٹاپ آرڈر بلے باز ڈیوڈ ملان کی 159 رنوں کی ناٹ آؤٹ شراکت داری کی بدولت انگلینڈ نے جمعہ کو یہاں پہلے ایشز ٹیسٹ کے تیسرے دن کے کھیل تک اپنی دوسری اننگ میں 70 اوور میں دو وکٹ کے نقصان پر 220 رن بناکر میچ میں کسی حد تک واپسی کی۔ تاہم وہ اب بھی آسٹریلیا سے 58 رنز پیچھے ہیں۔ دونوں بلے باز 61 کے اسکور پر دو وکٹ گرنے کے مشکل حالات میں بلے بازی کرنے آئے ۔ اس وقت انگلینڈ 207 رن سے پیچھے تھا اوراس کے سامنے ایک اننگ سے ہارنے کا ڈربھی تھا، لیکن روٹ اور ملان نے ذمہ داری سنبھالتے ہوئے سمجھداری کے ساتھ اننگ کو آگے بڑھایا۔ دونوں بلے بازوں نے اپنی پچھلی اننگ سے سبق لیتے ہوئے تحمل سے بیٹنگ کی اور آسٹریلوی بولرز کو اپنی وکٹیں لینے کا کوئی موقع نہیں دیا۔دونوں بلے بازوں نے تیسرے وکٹ کے لیے ناقابل شکست 159 رنز کی شراکت قائم کی، جس میں روٹ نے 158 گیندوں پر ناٹ آوٹ 86، جبکہ ملان نے 177 گیندوں پرناٹ آوٹ 80 رنز بنائے ۔ سلامی بلے بازوں حسیب حمید اور روری برنز نے بالترتیب 27 اور 13 رنز بنائے ۔ حسیب جہاں مچل اسٹارک کا شکار بنے ، وہیں برنس کو کپتان پیٹ کمنز نے پویلین کی راہ دکھائی۔اس سے قبل آج آسٹریلیا نے سات وکٹوں کے نقصان پر 343 کے اسکور سے آگے کھیلنا شروع کیا۔ کل کے ہیرو رہے آل راؤنڈر ٹریوس ہیڈ نے 112 رنز سے اننگ کا آغاز کیا۔ انگلینڈ کے گیند بازوں نے آسٹریلیا کو جلد از جلد آؤٹ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن ٹریوس نہیں رکے اور مچل اسٹارک کے ساتھ مل کر رنز جوڑتے رہے ۔ انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں دوسری بار 150 رن بناکر آسٹریلیا کو پہلی اننگ میں 272 رنز کی بڑی برتری حاصل کرنے میں مددکی۔ٹریوس نے انگلینڈ کے گیند بازوں کی اسی طرح پٹائی کی جس طرح انہوں نے دوسرے دن کے آخری سیشن میں کی تھی۔ انہوں نے بین اسٹوکس کو مڈ آف اور مارک ووڈ کو وائیڈ فائن لیگ پرچھکالگایا۔ اس دوران مچل اسٹارک نے دوسرے اینڈ کو سنبھالے رکھا، جس سے ٹریوس کو آزادی کے ساتھ کھیلنے کاموقع ملا۔ دونوں بلے بازوں کے درمیان آٹھویں وکٹ کے لیے 85 رنز کی شراکت ہوئی لیکن اس دوران فاسٹ بولر کرس ووکس نے واپسی کرتے ہوئے 391 کے اسکور پر اسٹارک کا وکٹ لے کر اس شراکت کو توڑ دیا۔ اسٹارک 35 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے ۔391 کے اسکور پر آٹھوا وکٹ گرنے کے بعد ٹریوس نے نیتھن لیون کے ساتھ کچھ مزید رنز جوڑے ، حالانکہ لیون زیادہ دیر نہ ٹھہر سکے اور مارک ووڈ کی گیند پر آوٹ ہوکر پویلین لوٹ گئے ۔ 420 کے اسکور پر لیون کا وکٹ گرنے کے بعد مارک ووڈ نے ٹریوس کو 425 پر بولڈ کرکے آسٹریلیا کی اننگ کا خاتمہ کردیا۔ ٹریوس 148 گیندوں میں 14 چوکوں اور چار چھکوں کی مدد سے 152 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے ۔قابل ذکر ہے کہ گزشتہ 14 ماہ میں ٹریوس کی بڑا اسکور کرنے کی خواہش کافی بڑھ گئی ہے اور یہی ان کی ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی کی وجہ ہے ۔ اعدادوشمار کے بارے میں بات کریں تو انہوں نے اس میچ میں سنچری سمیت اکتوبر 2020 کے بعد سے اپنی پچھلی چھ فرسٹ کلاس سنچریوں میں سے پانچ کو 150 سے زائد کے اسکور میں تبدیل کیا ہے ، جبکہ اپنی پہلی 12 سنچریوں میں سے وہ صرف دوکوہی 150 کے اسکور تک لے جاپائے تھے ۔(یواین آئی)