جموں//ملک میں گھٹتی راواداری اور ہجومی قتل کی بڑھتی واردات کے پیش نظر بمسیفBAMCEF)) کے ذمہ داران نے کوآرڈی نیشنکمیٹی فار کمیونل ہارمنی کے بینر تلے وکیل اشوک بسوترا (سوشل نیشنل پارٹی ) اور مولانا محمد اجمل چودھری نے کہاہے کہ اس وقت پورے ملک میں انتہا پسندوں نے مرکزی حکومت کی چھتری تلے مودی کے بے رحم انڈیا کی تصویر پیش کرتے ہوئے ہرطرف ہجومی قتل کے ذریعہ مسلم ،سکھ ، عیسا ئی اور دلت کو صفحہ ہستی مٹانے کی ٹھان لی ہے ۔ہم سب ہجومی قتل کی مذمت کرتے ہیں اور مرکزی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان وعدوں کو پورا کرے جن کی دہائی دے کر وہ مرکز میں راج کررہے ہیں ۔واضح رہے کہ ۱۷؍جولائی ۲۰۱۸ ء ہندوستان کی عدالت عظمی ٰ نے ہجومی قتل کی مذمت کرتے ہوئے پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایک ایسا بل تیار کریں جولوگوں کو اس طرح کی گھنائونی اور وحشتناک حرکتوں سے روک سکے۔گائے کے تحفظ کے نام پر انسانیت کا قتل ملک کی جمہوریت پر ایک بدنما داغ ہے ۔ویسے ۲۰۱۴ء سے ملک کی سیاسی صورتحال بے چین رہی ہے ۔ملک کی اکثرریاستوں میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی لگی ہوئی ہے ۔ اس کے باوجود اقلیتی طبقہ کے بعض بے گناہوں پر شک وشبہ کی بنیاد پر خواہ مخواہ کے جان لیوا حملے موقع موقع سے کیے جارہے ہیں ۔ہجومی قتل کے معاملہ میں پولیس بھی مرکزی حکومت کے دبائو میںاس مجرمانہ عمل میں پوری طرح شریک نظر آرہی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ایک ماہ پہلے ہاپوڑمیں ہندو ہجوم کے ذریعہ ملک کے دو مسلمان شہری مارے جارہے تھے اورپولیس تماشائی بنی ہوئی تھی ۔ایسے بے شمار واقعات اس ملک میں بڑی تیزی سے رونما ہورہے ہیں ۔کبھی کسی مسلمان شخص کی داڑھی بے رحمی کے ساتھ نوچی جارہی ہے ۔تو کبھی کسی مسلم بچی کی عصمت دری کے بعد اسے موت کے گھاٹ اتاراجا رہا ہے ۔غرض یہ کہ دلت اور مسلم دونوں طبقوں پر مودی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد ظلم اور بربریت کا پہاڑ ملک کے ہر گوشے میں ٹوٹ رہا ہے ۔ابھی کل کی بات ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کے رام بن ضلع میں ایک معمر مسلم شخص کو ہجومی تشد د کا شکار سرراہ بنا لیا گیا ۔انہیں زدو کوب کرکے زیر علاج رہنے پر مجبور کردیا گیا ہے ۔اس کے علاوہ صحافتی اعداد وشمار کے مطابق سینکڑوں لوگوں کو ہجومی قتل کا نشانہ بنایا جا چکا ہے ۔چنانچہ راجہ سنگھاریا(42) محمد اخلاق (55) پہلو خان (55) سیلش روہت (21) مینین ( 45) ببن موسہر اور موراہو موسہر جیسے افراد کا نام اس ضمن میں بڑے دکھ اوردر د کے ساتھ لیا جاسکتا ہے ۔گذشتہ چھ ماہ میں ایک درجن سے زائد ہجومی قتل کے واقعات ریاست بہارمیں پیش آچکے ہیں۔اسی طرح پورے ملک میں ہجومی قتل سے عوام وخواص دنوں میں خوف وہراس کی لہر برابر دیکھی جارہی ہے ۔مگر جس کی لاٹھی اسی کی بھینس کے مصداق مرکزی حکومت اس طرف دھیان دینے میں پوری طرح ناکام ہورہی ہے ۔ اس موقع پر بمسیف کے اراکین اور مختلف سیاسی پارٹیوں اور سماجی تنظیموں کے جن رہنمائوں اور خدمت گاروں نے شرکت کی اور اس پریس کانفرنس میں موجود تھے ان میں محمد جسارت خان ،اوتار سنگھ خالصہ ،امر جیت سنگھ (عوامی اتحاد پارٹی) وکیل پون کنڈ ل (بی ۔ایس ۔پی)،پیٹر متو (صدر عیسائی کمیونٹی جموں )،سوم راج مجوترا (بی ایس پی ) ، وکیل عادل بھٹ (صدر تنظیم وکلاء ) ،چودھری محمد حنیف ( بہوجن مکتی پارٹی )اور مولانا سعید احمدکے نام قابل ذکر ہیں۔