وسیم فاروق
(یہ کہانی فرانز کافکا کے ناول The Metamorphosisسے متاثر ہو کر تحریر کی گئی ہے )
صبح کے دھندلکے میں دروازے کے پار بجلی کے میٹر کی ہلکی سی ٹِک ٹِک سے ہی منظور کی آنکھ کھل جاتی ہے۔ ابھی فجر کی اذان میں وقت ہے مگر وہ بستر سے اُٹھ بیٹھتا ہے۔ ایک لمحے کو وہ سوچتا ہے کہ کچھ وقت مزید سو لے اور کام پر ذرا دیر سے نکلے، مگر پھر بیوی کی نیند میں بڑبڑاہٹ اور بچوں کی کھانسنے کی آواز اُسے یاد دلا دیتی ہے کہ اس کے سُستانے کی گنجائش نہیں۔
وہ آہستہ سے بستر سے باہر نکل جاتا ہے۔فروری کی صبح کی سردی میںبستر سے باہر پاؤں رکھتے ہی اس کے بدن میں ایک کپکپی سی دوڑ جاتی ہے۔ کمرے کی دیواروں پر نمی کے دھبے پھیلے ہوئے ہیں، جیسے وقت خود یہاں رک کر سڑنے لگا ہو۔ وہ ایک لمحے کو رک کر اپنے بچوں کو دیکھتا ہے،جو ایک دوسرے کے قریب سمٹے ہوئے، جیسے دنیا کے ہر خوف سے بچنے کی کوشش کر رہے ہوں۔
وہ بغیر آواز کئے دروازہ کھولتا ہے اور باہر نکل جاتا ہے۔
ٹی آر سی کے قریب جموں کیلئے نکلنے والی گاڑیوں کے اڑے کے سامنے واقع ایک چائے خانے میں ہمیشہ کی طرح شورو غل ہے۔ گاڑیوں کے ہارن بج رہے ہیں ، ڈرائیور ممکنہ سواریوں کی آو بھگت میں ایک دوسرے سے دست و گریباں ہونے کے قریب نظر آتے ہیں، ریڑھی والوں کی آوازیں اور مسافروں کی جلدبازی،یہ سب مل کر ایک ایسا غوغا پیدا کرتے ہیں جس میں کسی ایک انسان کی آواز دب کر رہ جاتی ہے۔
منظور اسی شور کا حصہ ہے۔
وہ ٹرے اُٹھاتا ہے، کپ سجاتا ہے اور گاہکوں کے درمیان ایسے گھومتا ہے جیسے کوئی سایہ ہو،موجود بھی اور نظر نہ آنے والا بھی۔
اِسی دن وہ گاہک پھر سے آیا تھا ۔ عجیب ساآدمی۔ نہ بہت بوڑھا، نہ جوان۔ چہرے پر ایک مستقل تھکن اور آنکھوں میں ایک ایسا خلا جو کسی گہری اندرونی شکست کی علامت ہو۔وہ ہمیشہ کی طرح کونے کی میز پر بیٹھا۔
ایک چائے، اس نے دھیرے سے کہا۔
منظور نے چائے لا کر رکھی۔ جب وہ مڑا تو اسے محسوس ہوا کہ گاہک کی نظر اس کے ہاتھوں پر جمی ہوئی ہے۔
تم کافی وقت سے یہ کام کر رہے ہو، ہے نا؟
منظور چونکا۔
جی…
ہاتھ بتا دیتے ہیں، گاہک نے آہستہ سے کہا۔ یہ ہاتھ انسان کے نہیں رہتے… جب کام انسان کی قدرت سے زیادہ ہو جائے۔
یہ گاہک بھی عجیب تھا ۔ہمیشہ وہی میز، وہی چائے اور وہی خاموشی۔
مگر اب ان کے درمیان ایک ان کہی پہچان پیدا ہو چکی تھی۔
ایک دن گاہک نے کہا:
میں ایک دفتر میں کام کرتا ہوں۔ یا شاید کرتا تھا… اب سمجھ نہیں آتا۔
وہ رکا، پھر بولا:
پہلے لگتا تھا کہ میں زندگی گزار رہا ہوں۔ اب لگتا ہے کہ زندگی مجھے گزار رہی ہے۔
منظور نے سر جھکا لیا۔ یہ جملہ اس کے دل میں اتر گیا۔
ہوٹل میں ایک شور اٹھا۔ کسی گاہک نے چیخ کر اسے بلایا۔
اوئے! کب سے بلا رہا ہوں!
منظور فوراً بھاگا۔ کپ رکھا، معذرت کی اور واپس پلٹا۔
جب وہ دوبارہ کونے کی میز پر آیا، گاہک خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
کوئی تمہیں نام سے نہیں بلاتا، ہے نا؟
منظور نے کچھ نہیں کہا۔
مگر اس کی خاموشی ہی جواب تھی۔
گاہک نے اچانک کہا: کچھ عرصہ قبل ایک کہانی پڑھی تھی، … ایک آدمی کی… Gregor Samsa … جو ایک دن جاگا تو خود کو کیڑے میں بدلا ہوا پایا۔
اس نے کپ کو انگلی سے گھمایا۔
دوستوں کو سنائی تھی، کہتے ہیں کیا بکواس کہانی ہے… انسان بھلا کیڑے میں کیسے بدل سکتا ہے،مگر مجھے لگتا ہے یہ حقیقت ہے۔ ہم سب آہستہ آہستہ بدلتے ہیں… اور کسی کو خبر بھی نہیں ہوتی۔
منظور کے ہاتھ کانپ گئے۔
اس رات منظور دیر تک جاگتا رہا۔
اس نے اپنے ہاتھوں کو دیکھا،کھردرے، سخت، جیسے کسی مسلسل مشقت نے انہیں بے حس کر دیا ہو۔ اسے لگا جیسے اس کا جسم واقعی بدل رہا ہے۔ اس کی ا ٓنکھوں کے سامنے سے ان دنوں کی حسین یادوں کے نقش دوڑ گئے جب اس کی ماں اس کے ملائم ہاتھوں کو بوسہ دیتی تھی اور وہ پھولے نہ سماتا تھا ۔ لیکن وہ ملائم ہاتھ کب کھو گئے اور ان کی جگہ بے جان سی اوزار نماں انگلیوں اور ہتھلیوں نے کب لے لی ،منظور کو کچھ یاد نہ تھا ۔
منظور چیخنا چاہتا تھا ،مگر اس کے حلق سے آواز تک نہ نکلی۔
وہ کر بھی کیا سکتا تھا اس کے سامنے ایک ہی راستہ تھا ،وہ صرف اگلے دن کی مشقت کیلئے تیار ہو سکتا تھا۔
اگلے دن ہوٹل میں ایک واقعہ ہوا۔
ایک مسافر نے غصے میں آ کر چائے کا کپ اس پر پھینک دیا۔
گرم چائے اس کے بازو پر گری، مگر وہ خاموش رہا۔
وہ جھکا، فرش صاف کیا اور بغیر کچھ کہے واپس چلا گیا۔
کونے کی میز پر بیٹھا گاہک سب دیکھ رہا تھا۔
اس کی آنکھوں میں اس بار صرف ہمدردی نہیں تھی۔۔۔ایک خوف تھا۔
درد ہوا؟ اس نے پوچھا۔
نہیں…
ہونا چاہیے تھا، گاہک نے کہا،جب درد محسوس ہونا بند ہو جائے… تو سمجھ لو کچھ ختم ہو رہا ہے۔
دن گزرتے گئے۔
گاہک کی حالت بھی بگڑتی جا رہی تھی۔
ایک دن وہ بولا:
آج دفتر میں کسی نے میرا نام نہیں لیا۔ بس فائلیں تھما دی گئیں۔۔مجھے لگتا ہے میری پہچان ختم ہورہی ہے میں ایک بڑی مشین کا پرزہ بن کر رہ گیا ہوں۔
وہ ہنسا، مگر اس ہنسی میں شکست تھی۔
شاید میں بھی بدل رہا ہوں۔۔۔۔بالکل gregor samsa کی طرح یا ۔۔۔۔یا ۔۔۔۔تمہاری طرح۔
اگلے دن منظور اس گاہک کا بے صبری سے انتظار کر رہا تھا ۔
مگر وہ گاہک نہیں آیا۔
منظور نے انتظار کیا۔
دوسرے دن بھی وہ نہیں آیا۔
تیسرے دن بھی کونے کی میز خالی رہی۔
چوتھے دن مالک نے اخبار اس کے سامنے پھینکا۔
پڑھ! تم لوگوں کا انجام!
منظور نے اخبار اٹھایا۔
ایک چھوٹی سی خبر تھی:
دفتر کے ملازم نے اچانک کام چھوڑ کر خود کو کمرے میں بند کر لیااور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شدید ذہنی دباؤ کا شکارتھا ۔
تصویر دھندلی تھی…
مگر وہ پہچان گیا۔
وہی گاہک۔
منظور کے اندر کچھ ٹوٹ گیا۔
اسے لگا جیسے وہ اپنا انجام دیکھ رہا ہو۔۔۔آہستہ آہستہ، خاموشی سے ختم ہوتا ہوا۔
اس رات وہ گھر لوٹا تو بچوں کو دیر تک دیکھتا رہا۔
بیوی نے پوچھا:ــ’’کیا ہوا ہے؟‘‘
اس نے پہلی بار جواب دیا:
’’اگر میں بدل جاؤں… تو تم پہچان لو گی؟‘‘
بیوی خاموش ہو گئی۔
اگلی صبح وہ پھر جاگ گیا۔
میٹر کی ٹِک ٹِک، وہی خاموشی، وہی زندگی۔
مگر اب ایک فرق تھا۔۔۔اب اسے معلوم تھا کہ یہ سب صرف اس کے ساتھ نہیں ہو رہا۔
یہ ایک خاموش بیماری ہے…
جو لوگوں کو اندر ہی اندر کیڑا بنا دیتی ہے۔
ہوٹل میں اس دن بھی ہجوم تھا۔
منظور نے ٹرے اُٹھائی اور کونے کی خالی میز کی طرف دیکھا۔
ایک لمحے کو اسے لگا جیسے وہاں کوئی بیٹھا ہو۔
وہی تھکا ہوا چہرہ… وہی خالی آنکھیں۔
مگر وہ صرف ایک وہم تھا۔
منظور نے آہستہ سے خود سے کہا:
ہم سب… آہستہ آہستہ Gregor Samsa بنتے جا رہے ہیں…
پھر وہ مڑ گیا۔۔۔اور بھیڑ میں گم ہو گیا۔
ایک ویٹر…
یا شاید ایک ایسا وجود، جو ابھی مکمل کیڑا نہیں بنا۔۔۔مگر انسان بھی نہیں رہا۔
���
سرینگر، کشمیر
موبائل نمبر؛8803003787