لفظ مطالعہ کے معنی(لغوی و اصطلاحی) سے اگر کوئی آشنائی نہ رکھتا ہو تو اس کے باوجود یہ لفظ بولنا اور سُننا اچھا لگتا ہے۔اِسے زبان کی چاشنی کہیے یا کچھ اور، لیکن بات سچ معلوم ہوتی ہے۔ معنی سے نا آشنائی رکھنے کے باوجود یہ لفظ سماعتوں سے ٹکرا کر انسان کو ایک حسین احساس سے دوچار کرتا ہے۔ ’’ مطالعہ‘‘ ایک ’’انمول ‘‘ لفظ معلوم ہوتا ہے اور جو ’’ مطالعہ‘‘ کرتا ہے یا مطالعہ کرنے کا عادی ہوتا ہے وہ شخص قابلِ توجہ قرار پاتا ہے۔ اب سوچنے کا امر ہے کہ کیا ’’ مطالعہ‘‘ کرنے کایہ عمل اِس قدر قیمتی ہے کہ’’ عام‘‘ کو’’ خاص‘‘(مطالعہ کرنے کے عادی) اور’’ خاص ‘‘کو ’’عام‘‘(مطالعہ نہ کرنے کے عادی) بنا دیتا ہے۔
الفاظ و زبان کی تاریخ کے علم ( Etymology)کے مطابق لفظ’’ مطالعہ‘‘ عربی زبان کے لفظ’’ طلع‘‘ سے نکلا ہے جس کے معنی ’’کسی غائب چیز کا وجود میں آنا‘‘ کے ہیں۔ یعنی مطالعہ ایک ایسا عمل ہے جس کو انجام دینے کے نتیجہ میں کوئی نئی چیز ظہور پذیر ہوتی ہے۔لغت میں اس کے معنی ’’پڑھنے‘‘ کے ہیں۔ ظاہر ہے پڑھنے کے نتیجے میں انسان کے وجود پر نئی باتیںمنکشف ہوتی ہیں۔’’مطالعہ‘‘ کئی زبانوں میں مستعمل ہے۔انگریزی زبان میں اس کے لیے’’ Reading‘‘کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔اُردو زبان میںمطالعہ کے لیے کئی متبادل الفاظ ہیں مثلاً: پڑھنا، کُتب بینی، کتاب خوانی، مشاہدہ، علم حاصل کرنا،تنقید و تحقیق وغیرہ۔قواعد (Grammar)کے حساب سے مطالعہ’’ فعل‘‘ ہے اور اِس فعل کو انجام دینے والا’’ فاعل‘‘ کہلاتا ہے۔ مثلاً:احمد مطالعہ کر رہا ہے۔ اِس جملے میں ’’مطالعہ ‘‘فعل جبکہ’’ احمد‘‘ فاعل ہے۔
لفظ مطالعہ میں وُسعت ہے۔لغوی معنی کے علاوہ’’ مطالعہ‘‘ اصطلاحی معنی بھی رکھتا ہے جس کا جاننا ضروری ہے۔ اصطلاحی معنوں میں مطالعہ کرنے سے مُراد کسی کتاب، رسالے یا اخبار کو پڑھنے کے ہیں۔ یہ مطالعہ منضبط اور غیر منضبط ہو سکتا ہے۔ اسکول،کالج یا یونیورسٹیوں کے کورس کے علاوہ کسی مخصوص موضوع پر پابندی کے ساتھ کتابوں کا مطالعہ منضبط مطالعہ کہلاتا ہے۔ غیر منضبط مطالعہ اخبار بینی، انٹرنیٹ پر گاہے بگاہے مضامین اور دیگر قسم کی تحریروں کو نظر سے گزارنا ہے۔ مطالعہ کی اِن دونوں اقسام کی انسانی شخصیت کو پروان چڑھانے میں بڑی اہمیت ہے۔ لیکن یہاں پرراقم الحروف کو مطالعہ کی جس قسم پر کلام کرنا ہے، وہ منضبط یعنی پابندی سے کیا جانے والامطالعہ ہے۔
منضبط مطالعہ میں ایک شخص کسی مخصوص موضوع کو بصورت کتاب سمجھ کر پڑھتا ہے۔ کتاب میں شامل مباحث اور مسائل کو پڑھ کروہ نتائج اخذ کرتا ہے۔وہ کئی باتوں کو حافظہ میں جگہ دیتا ہے۔ اُسے کئی باتوں سے موافقت ہوتی ہے اور کئی باتوں سے وہ اختلاف کرتا ہے۔ کتاب کو پڑھ کر اُسے کئی ایسی باتیں معلوم ہوتی ہیں کہ جو اُس کے مشاہدے میں اِس سے قبل نہیںآئی ہوتی ہیں۔کتاب کے مطالعے کے بعد اُسے مصنف کی محنت اور قلمی کاوش کا اعتراف ہوتا ہے۔ کتاب کا ایک عکس اُس کے ذہن پر چھا جاتا ہے۔وہ مطالعہ شدہ کتاب پر بذریعہ قلم یا زبان اپنے تاثرات بیان کرنے کا اہل بن جاتا ہے۔بالفاظِ دیگرمطالعہ کے بعد اُس کے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ کہ ایک کتاب کا مطالعہ دوسری کتاب کے مطالعہ کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔
یہ منضبط مطالعہ شخصیت کی تعمیر میں غیر معمولی کردار ادا کرتا ہے۔یہ ایک شخص میں کُتب بینی کے وہ جراثیم ڈالتا ہے کہ بعض اوقات کسی وجہ سے انسان مطالعہ نہ کر پائے تو یہ جراثیم اُس کی طبیعت کو بے چین کر دیتے ہیں۔ایسا انسان’’ کتابستان‘‘ کا سچا راہی ہوتا ہے۔ لیکن وائے افسوس کہ ایسے افراد کی تعداد’’ ہماری بستی ‘‘ میں آج آٹے میں نمک کے برابرہو کر رہ گئی ہے۔ موضوعِ مذکورہ پر اگر ایک تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ’’ ہماری بستی‘‘ کے100پڑھے لکھے افراد میں سے 10 فی صد سے بھی کم افراد مطالعہ کرنے کے عادی ہیں۔ بستی کے 90 فیصد افراد ایسے ہیں جو کالجوں اور یونیورسٹیوں سے فارغ ہو کر کتابوں کوتین طلاقیں دے چُکے ہیں۔ وہ اپنی نوکری یا تجارت یا معاش کمانے کے سلسلے میں اِس قدر مگن ہیں کہ مطالعہ جیسے انتہائی اہم اورمحبوب عمل کو وہ وقت نہیں دیتے۔ جن کتابوں کے توسط سے وہ کچھ معاش کمانے کے لائق ہوتے ہیں، اُن ہی کتابوں سے دوری اختیار کرکے وہ اپنی بے وفائی کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔
مطالعہ نہ کرنے کے اِس خطرناک رجحان کی ایک بڑی وجہ مطالعہ کو سمجھنے اور اِسے برتنے کے متعلق دانستہ یا غیر دانستہ کی جانے والی ناقص العلمی کا مظاہرہ بھی ہے۔ ’’ہماری بستی‘‘کے ’’ تعلیم یافتہ‘‘ حضرات نے سمجھ لیا ہے کہ اسکول ، کالج یا یونیورسٹی کے نصاب کا مطالعہ کرکے وہ مطالعہ کرنے کی ذمہ داری سے فارغ ہو گئے ہیں۔لہٰذا کتابوں کے ساتھ اپنا تعلق بنائے رکھنااب اُن کے نزدیک ضروری نہیں ہوتا۔وہ کتابیں خریدنے کے عادی نہیں ہوتے اور اگر کبھی کبھار کتابیں خرید بھی لیں تو وہ کتابیں حوالۂ زنداں( الماریوں)کی جاتی ہیں جس کے بعد اِن’’خواند ہ صاحبان‘‘ کو الماری سے کتاب نکال کر پڑھنے کی توفیق ہی نہیں ملتی۔
مطالعے کی اہمیت مسلّم ہے۔ اس کی افادیت اور لامحدود فائدوں سے کوئی انکار نہیں ۔تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسانی معاشرے میں جو بھی تاریخ ساز شخصیات گزری ہیں، وہ صاحبِ مطالعہ تھیں۔ ارسطو،کارل مارکس،ابن تیمیہ،علامہ اقبال وغیرہ ایسی شخصیات ہیں جنھوں نے مختلف زمانوں میں انسانی دھاروں کو بدلنے کا انتہائی کٹھن کام سرانجام دیاہے۔ آپ نے زمانے کو پڑھا ، اِس کا نقد کرکے انسانیت کو زندگی گزارنے کا ایک طریقہ دیا۔ یہ سب کام وہ اپنے عمیق مطالعے اور تحقیق کی بنیاد پر ہی کر پائے ہیں۔
کوئی سوال کر سکتا ہے کہ سب لوگ ارسطویااقبال نہیں بن سکتے کہ اولادِ آدم کو اُس کے خالق نے صلاحیت اور ذہن کے اعتبار سے یکساں نہیں بنا یا ہے۔بات معقول ہے۔ لیکن اولادِ آدم کو کون سمجھائے کہ پڑھنے، سمجھنے اور نقد کرنے کی صلاحیت انسانوں کی ایک مشترک میراث ہے۔ اقبال’’ علامہ‘‘ جبھی بنے کہ جب انھوں نے اپنی اِس مشترک میراث کو بخوبی سمجھا۔اُنھوں نے علم کی قدر جانی اور قدرت کی جانب سے عطا کردہ اپنی صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ یہی سمعاملے ہر اُس شخصیت کے ساتھ بھی وابستہ رہا ہے کہ جس نے تاریخِ انسانی میں کوئی اہم کام سر انجام دیا ہے۔ نام کمانا اوردنیا پر اثرات چھوڑنا انسان کی اپنی محنت ، دلچسپی اور لگن پر منحصر ہے۔ جتنی زیادہ محنت ہوگی، اُتنا بڑاانسان کا نام ہوگا۔
یہ تاریخ ساز اور غیر معمولی کام انسان اپنے مطالعے اور مشاہدے کی بنیاد پرکر پاتا ہے۔ لیکن وائے حسرتا کہ انسان مطالعے کی اِس اہمیت کو سمجھنے میں غیر ذمہ دارانہ کردار ادا کر رہا ہے۔راقم نے اپنے چند دوستوں(صاحبانِ علم و عمل) سے رابطہ کرکے مطالعہ کے تئیں لوگوں کی عدمِ دلچسپی کو سمجھنے کی ایک سعی کی ہے۔دوستوں کے تاثرات جمع کرکے میں نے پایا کہ پڑھے لکھے افراد ذیل کی وجوہات کی بنا پرمطالعہ کرنے کے مبارک عمل سے دور ہیں:
٭…اکثر لوگوں کو مطالعہ کے ساتھ سرے سے دلچسپی ہی نہیں ہوتی۔
٭… لوگوں کی اکثریت سُستی اور کاہلی کا شکار ہے۔ یہ مطالعہ نہ کرنے کی آج کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
٭…آج زندگی کی ترجیحات بدل گئی ہیں۔نئی نسل مطالعہ کو ایک بوجھ تصور کرتی ہے۔
٭… بعض لوگوں کے نزدیک مطالعہ کرناعالموں کا کام ہے۔عام لوگوں کو مطالعہ کرنے کی ضرورت نہیں۔
٭…لوگوں کوکسی ایک زبان پر عبور نہیںہوتا۔کوئی ایک زبان نہ سمجھنے کی وجہ سے وہ مطالعہ سے دور ہیں۔
٭… اکثر نوجوان سوشل میڈیا (فیس بُک ، واٹس ایپ، یوٹیوب، ٹویٹر، جی میل وغیرہ) پربے جاوقت صرف کرکے خود کو پورا دن مصروفِ عمل رکھتے ہیں۔
٭…کالج یا یونیورسٹیوں کے فارغین کو زعم ہے کہ انھوں نے زندگی جینے کا طریقہ سیکھ لیا ہے۔ چنانچہ اب مطالعہ کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔
٭… مطالعہ اگر ہوتا بھی ہے تو اُس کے اغراض ذاتی اور مادی نوعیت کے ہوتے ہیں۔نتیجتاً لوگوں کو مطالعہ کی’’ اصل‘‘ کی ہوا بھی نہیں لگتی۔
٭… موجود ہ تصورِ تعلیم غلط بنیادوں پر استوار کیا گیا ہے۔ طلبہ پڑھتے اس لیے ہیں کہ اُنھیں معاش کمانا ہے۔معاش حاصل ہو جائے تو اب لکھنے پڑھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔
٭…انسان مطالعہ کرنے کے معاملے میں افراط و تفریط کا شکاررہا ہے۔ ایک جانب سے وہ جذبات میں اِس قدر بہہ جاتا ہے کہ ایک ہی دن میں ایک ضخیم کتاب کا مطالعہ کرنے کی ٹھان لیتا ہے۔ جبکہ دوسری جانب اُسی انسان کو مہینوں تک ایک کتاب پڑھنے کی توفیق نہیں ملتی۔
٭… اکثر لوگ مطالعہ کرنے کے لیے صحیح کتابوں کا انتخاب نہیں کر تے۔وہ مطالعہ کی ابتداء میںدقیق اور خُشک موضوعات چُنتے ہیں۔نتیجتاً وہ ابتداء میں ہی دلچسپی کھو بیٹھتے ہیں۔
٭… سائنس اور ٹیکنالوجی نے انسان کو کتابوں سے دور کر دیا ہے۔ آڈیوز سُننے اور ویڈیوز دیکھنے کے بعد انسان محسوس کرتا ہے کہ اب اُسے کتابوں کی سرے سے ضرورت ہی نہیں۔
٭…مطالعہ کے تئیں لوگوںکی عدمِ دلچسپی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ علمی و تحقیقاتی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ اِن وجوہات کو جاننے اور وجوہات کے سدِ باب کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کیاجائے۔
مطالعۂ کُتب لاریب انسان کی ترقی کا ایسا زینہ ہے جو اُسے زمین سے آسمان تک لے جاتا ہے۔ انسان مطالعہ سے دور رہے تو اُس کی ترقی غیرممکن بن جاتی ہے۔انسانی نفسیات کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان اپنی زندگی کے اکثر کاموں میں حریص ثابت ہوا ہے۔ مطالعۂ کُتب کے حوالے سے ہمارے ایک طرزِ عمل کا، جس کا راقم کو تجربہ بھی حاصل ہوا ہے، بخوبی اندازہ کر لیں۔
کسی ادارے یا تنظیم کی جانب سے ایک مخصوص کتاب کے مطالعہ پر’’ انعامی مقابلہ‘‘ ہونے والا ہو تو کتاب کو چار چار آنکھوں سے پڑھا جاتا ہے۔ انعام حاصل کرنے کی خواہش(فی الاصل لالچ) بندے کو مجبور کرتی ہے کہ ورق در ورق کتاب کا مطالعہ کیا جائے۔ ظاہر ہے یہ اچھی بات ہے اورانعام حاصل کرنے کے لیے کتاب پڑھنے میںکوئی قباحت بھی نہیں۔لیکن غورکرنے کا مقام یہ ہے کہ انسان عام حالات میں بھی اِن کتابوں کا مطالعہ آخر کیوں نہیں کرتا؟کیا یہ کتابیں ہمیں زندگی کی اصل سے واقف نہیں کراتیں؟کیا یہ ہمیں سوچنے کا وہ زاویہ فراہم نہیں کرتیں کہ جس سے ہم زندگی کی پیچیدگیوں کو چٹکیوں میں حل کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں؟ کیایہ کتابیں ہمیں ’’ علم‘‘ کی ایک ’’ بڑی دولت‘‘ عطا نہیں کرتیں کہ جس سے انسان دنیا کا امیر ترین انسان بن جا تا ہے؟تو بھلا انسان ان ’’ محسن کتابوں‘‘ سے دور رہ کر ’’ حماقت‘‘ کا مظاہرہ کیوں کرے؟۔
رابطہ : [email protected]