یہ تو وہی بات ہوئی کہ روؤ ں میں دل کو یا جگر کو پیٹوں میںکہ اپنے ملک کشمیر میں پھول جیسی ننھی بیٹیاں بھی محفوظ نہیں کسی، کے ہاتھوں اٹھارہ ماہ کی ہبہ نثار جیسی دہشت گرد شکار بنی ۔کہیں آٹھ سال کی آصفہ ہتھے چڑھے اور اب تین سالہ ایمن پر حملہ ہوا۔ان ننھے پھولوں کو تو بس زبانی جمع خرچی اور کاغذی میزائل کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔بھلا ہو کیوں نہ یہ ننھی کلیاں تو ووٹر ہیں نہیں پھر ان کی فکر کاہے کو۔ووٹرہوتیں تو کل کو جتا دیتیں ۔اسمبلی پارلیمنٹ بھیج دیتیں ۔سیاست کے وارے نیارے کردیتیں اور وہ جو سخت قانون کی باتیں کرتے پھر رہے ہیں اب انہیں کون بتائے کہ سیاست کار صاحب یہ تو آپ کا کام تھا، وقت پر کیا کیوں نہیں ؟سمجھ نہیں آتا جب اپنے ہی بیگانے ہوئے تو کس پر بھروسہ کیا جائے؟
ابھی ابھی الیکشن ہوا تو اپنے سیاست کار نماز دعا میں مصروف ہیں کہ ائے کار ساز دو جہاں ہمارا دلی والا جہاں کسی طرح سنوار دے کیونکہ اس کے طفیل اگلے پانچ سال خوشی خوشی گزر جائیں گے۔اپنے ملک کشمیر کے سیاست دان چپ سادھے ہیں ۔کسی کو ۳۷۰ کی یاد نہیں آتی کسی کو ۳۵۔۱لف نہیں ستاتا ۔کوئی خصوصی کشمیر پوزیشن کے غم میں ڈنر نہیں کھاتا اور نہ ہی الحاق کے تانے بانے کھول کر نئے سرے سے بنتا ہے۔اب تو ہل والے قائد ثانی کی پریشانی دور ہو گئی کہ لوگوں نے ووٹ دے ڈالے اس لئے وہ ۳۷۰ کے نام پر گرجنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔خود نیشنل کے ٹویٹر ٹائیگر بھی ٹویٹ کی چڑیوں کو خصوصی پوزیشن کے پنکھ سے گدگدی نہیں کرتے۔وہ دودھ ٹافی کا حساب بھی نہیں لگتا اور تو اور بانوئے کشمیر بھی الحاق کے نام پر مودی شاہ اینڈ کمپنی کو کوئی چیتاونی نہیں دیتی ،کیونکہ خطرہ ہے کہیں کنول کے پھول ۲۳ مئی کو پھر کھلیں تو آگے انہی کے ساتھ قوم کے غم میںڈنر کھانا ہے ۔ ادھر پنجہ مار پارٹی کے میر آف ڈورو بھی خاموش ہوگئے ہیں کہ گھوم گھام کر تھک گئے ، گلہ بھی بیٹھ گیا ۔اس لئے افسپا کی منسوخی کے نام پر نئے جگاڑ تراش لینے کی کوئی آوشکتا نہیں۔مطلب اب کی بار ملک کشمیر میں سیاسی طور سانپ سونگھ گیا ہے ۔ دو مہینے تک الیکشن سیاست کرتے کرتے تھکے ہارے لوگ ہائی وے ٹیکس کی وصولی کو لے کر ہی اب ایک آدھ لفظی گھوڑا دوڑاتے ہیں ۔انہیں بھی سکون ملتا ہے کہ قوم کا غم برابر کھائے جا رہا ہے اور عام خام لوگوں کو بھی پتہ چلتا ہے کہ صاحب لوگوں کی سانس ابھی چل رہی ہے ؎
گیا وقت ووٹنگ کا کوئی اب آمادہ جنگ نہیں ہوگا
سیاست کار وعدوں سے کوئی اب تنگ نہیں ہو گا
گزر جائیں گے کچھ دن رہیں ووٹر سکون سے بھی
کوئی شاعر بھی اب پھر قافیے سے تنگ نہیں ہوگا
یہ تو بڑے لوگوں کی بڑی باتیں ہیں ۔ہماری کوئی کہاں سنتا ہے اور ہم جیسوں کو کوئی کہاں پوچھتا ہے کہ بھائی تمہاری رائے کیاہے ،کیا سوچ کیا ہے، خیال کیا ہے۔کوئی اخبار والا بھی ہم سے سوال نہیں کرتا، کوئی سیاست کار بھی ہمار ی مانگ نہیں پوچھتا، بلکہ گلی کا صفائی والا بھی نہیں کیونکہ وہ بھی سوچھ بھارت ابھیان کے بانی نریندر مودی کا نام لے کر جھاڑو چلاتا ہے ۔مانا کہ بڑے بڑے لوگ بڑے بنکوں میں جھاڑو پھیر کر نکل گئے لیکن گلی میں بے چارہ عام آدمی جے جے مودی کہہ کر سوچھ سوچھ کرتا ہے، ہر ہر مودی کہہ کر کشمیری بوچھ بوچھ(بھوک بھوک)کہتا ہے۔کیونکہ عام آدمی کیلئے پندرہ لاکھ کی آس ہی ٹوٹ گئی اور چھوٹے موٹے کاروبار کا گھڑا بھی نوٹ بندی و جی ایس ٹی کے ہتھوڑے تلے پھوٹ ہی گیا۔ بڑے لوگوں کی بڑی باتیں تو بڑے اخبار اور میگزین کرتے ہیں ۔وہ جو عالمی چوکیدار کے ملک میں ٹایم نامی میگزین چھپتا ہے، اس نے بھی بڑے بھارتی چوکیدار کی بات کی ۔چوکیدار کی تصویر تھوڑا توڑ مروڑ کر سرورق پر چھاپ دی اور اسے نام بھی بڑا دیا ۔لوگ کہتے ہیں بڑے میگزین نے اس طرح چوکیدار کا نام بدنام نہیں کیا کہ وہ نمبر ایک پھوٹ ڈالنے والا ہے۔ہمیںتو اس قدر علم نہیں کہ کسی کو کیا نام دیں اور کس طرح بڑا بنا دیں ہم تو ابھی ۲۰۰۲ء کے گجرات کا چکر لگا تے پھرتے ہیں۔یہ جو پھوٹ ڈالنے کا الزام ہے ہم کبھی سویکار نہیں کرسکتے۔بھائی جب گودھرا میں ٹرین کی بوگی جلی تو لاشیں تو ریاستی دارالحکومت پہنچانی ضروری تھیں ،جبھی تو پورے گجرات میں جذبات بھڑکے اور پھر تین دن پولیس کو حرکت سے باز رکھا گیا اور تو اور فوج کے لئے گاڑیوں کا انتظام نہ کیا گیا تاکہ بے چارے بھکت جن تھوڑا بہت غصہ اُتار دیں۔پھر انہوں نے ایسا غصہ اُتارا کہ رحم ِمادر سے بچہ کھینچ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا ، بلقیس بانو کے چودہ افراد خانہ قتل کرکے اسک کی اجتماعی آبرو ریزی کی ، احسان جعفری کے گھر پر دعویٰ بول کر درجنوں افراد کو زندہ جلا ڈالا ۔ مقصد ان کا گھر جلانا نہیں تھا البتہ اپنا غصہ نذر آتش کرناتھا، کر لیا۔ زندہ تو زندہ مردوں کی بھی خوب خبر لی۔شاعر ولی دکنیؔ کے مزار کو تہہ بالا کرکے وہاں سڑک بنوا لی اور راتوں رات تار کول بچھانے کا کام مکمل کر لیا۔بھلا سڑک بنانی تھی تو گجرات ماڈل کے حساب سے جلدی جلدی بنوا لی ،اپنی طرح نہیں کہ مہینوں لگ جاتے ہیںیعنی ایسا کہ دونوں فرقوں کے بیچ پھوٹ سو فیصد پڑ جائے۔اب اپنے چوکیدار مودی جو کچھ کرتے ہیں مکمل کرتے ہیں جبھی تو گجرات میں پھوٹ کا عمل مکمل ہوگیا۔اور اسی پھوٹ کا نتیجہ ہے احمد آباد سے نکل کر دلی تک پہنچے۔ٹایم میگزین نے تو بس پھوٹ دیکھی بھائی جھوٹ بھی کوئی چیز ہوتی ہے اور اس جھوٹ میں ان کے ساجھے دار بھی بہت ہیں۔ایک تو آنکھ مارنے والا یوگی ہے کہ پتنجلی کے نام پر ہر بار آنکھ مارتا ہے۔ مودی کے پندرہ لاکھ والے وعدے پر بھی آنکھ ماری تھی ۔اب پوچھو تو کہتا ہے کہ ہم نے تو مذاق میں بات کہی تھی آپ تو سیریس ہو گئے بلکہ بالاکوٹ حملے کے وقت بھی تین سو جیش اہل کاروں کی ہلاکت پر بھی ساتھ میں آنکھ ماری تھی، آپ تو واقعی آدھار کاڑ ڈھونڈنے نکلے۔بھلا ایسا کہیں ہوتا ہے کہ اپنی ہی سرکار سے ثبوت مانگیں ۔اب جو بالا کوٹ کی بات چلی سنا ہے، چوکیدارمودی نے تعلیم کی نئی سندیں پیش کردیں۔کبھی میٹرک نہیں کیا پر اب ایم اے کی سند مخالفین کے منہ پر مار دی اور وہ رہ رہ کر پوچھتے رہے بھائی !ایم اے کیا تو بی اے بھی کرلیتے ،لیکن سنا ہے راڈار سائینس میں جو ڈاکٹریٹ کی ڈگری سامنے آئی تو سب ہکا بکا رہ گئے اور سیاسی مخالفین سمیت سب لوگ اس ادارے کا پتہ ڈھونڈنے نکلے ہیں جہاں سے اس قدر اعلیٰ تعلیم پا ئی گئی۔ویسے یہ مملکت خداداد والے بھی مٹی کے مادھو ہیں کہ ان کے راڈار بادلوں کے درمیان دشمن کے جہاز نہیں دیکھ پاتے اور حد ہوئی کہ یہ بات پڑوسی ملک کے وزیر اعظم کو معلوم ہے ۔اسے کہتے ہیں کہ عالم و فاضل کو کسی اسکول کالج یونیورسٹی میں جانے کی ضرورت نہیں ۔جبھی تو ایم اے کی ڈگری لیتے ہوئے گھر میں ہی راڈار سائنس کا اس قدر علم حاصل کرنا معمولی بات نہیں ۔ اس بیچ ہم اس مخمصے میں ہیں کہ اگر بارش یا بادلوں کے بیچ بھارت ورش پر ہوائی حملہ ہوا تو دفاع کیسے ہو کیونکہ ہم تو عام لوگ ہیں اور مسلسل سوچنا ہمارا کام ہے اور اس سوچ و بچار میں یہ بات سوجھی کہ اگر بھارت ورش کے جہاز اُلٹی سمت Reverse چلتے ہوئے حملہ کرتے تو مملکت والوں کو یہ لگتا کہ جہاز آ نہیں جا رہے ہیں۔
اور تو اور ڈیجیٹل ہونے سے پہلے ڈیجیٹل کیمرہ حاصل کرنا کوئی ان سے سیکھے ،یعنی سرکار میں آتے ہی ڈیجیٹل انڈیا کا مشن کوئی معمولی بات نہیں بلکہ پکا گیان پر آدارِتھ تھا۔پھر ای میل کا تجربہ بھی سات سال پہلے ہی حاصل کرنا ، اسے کہتے ہیں وژنریVisionary ہونا ۔واہ مودی جی واہ!اسی لئے تو بھکت جن کہتے ہیں مودی ہے تو ممکن ہے ۔بھلے ہی فمیل Femaleوالا معاملہ ناکام رہا لیکن ای میل Emailمیں کامیابی کانگریس سرکار سے پہلے دکھائی۔کون جانے سیب کے باغ کی چوکیداری کرتے ہوئے کشش ثقل کا تجربہ بھی ان کے ہی ہاتھوں ہوا۔سیب گرنے والا تھا تو نیوٹن کو مشورہ دیا ادھر سے گزرو ۔پھر جو سیب گرنے کا عمل دیکھ کر نیوٹن نے چوکیدار کے ہاتھ پائوں چومے۔ دروغ بر گردن راوی جس نے یہ بھی اطلاع دی کہ ہوائی جہاز کا ترسیلی نظام ریڈیو ویو پر نہیں بلکہ مودی ویو پر چلتا ہے اور چونکہ ۲۰۱۹ ء الیکشن میں کوئی مودی ویو نہیں تو فضائی صنعت زوال پذیر ہے ۔اس ویو کے نہ ہوتے جیٹ ایر ویز کا پٹہ ہی بیٹھ گیا۔ بیس ہزار ملازم کام سے گئے ۔ کوئی خریدنے کو بھی تیار نہیں ۔ مانو ہوائی کمپنی نہ ہوئی چائے پکوڑے ہوئے۔پھر بھی تو چائے پکوڑے کو مودی سرکار میں جاب کا اسٹیٹس مل گیا پر جیٹ بے چارہ اُڑان ہی نہیں بھر پاتا ؎
مجھے تو نیند بھی اچھی نہیں لگتی حقیقت میں
دکھائیں خواب جو جھوٹے میں ان نیندوں سے ڈرتا ہوں
چوکیدار نے تو نہ کھائوں گا نہ کھانے دوں گا کا نعرہ بلند کیا تھا مگر بڑے لوگوں کی بڑی باتیں، چھل کر کے نکل گئے اور ادھر اپنے چھوٹے چھوٹے بھکت کھلانے پر زور دے رہے ہیں ۔لیہہ میں صحافیوں کو کھلایا اور پھر اس لنچ کی قیمت بھی ہاتھ میں تھمانے کی کوشش کی ۔کہنے کو لنچ کابِل تھا لیکن اصل میں ضمیر کا سودا تھا ، مگر انہیں کیا معلوم کہ اُلٹی آفت گلے پڑے گی۔شکایت ہوئی ایف آئی آر ہوئی اور اب تو جھوٹ پر جھوٹ سے سچ کے اوپر لیپا پوتی کی کوشش میں ہیں۔
لوگ تو پتہ نہیں کہاں کہاں سے کہانیاں ڈھونڈ کر نکالتے ہیں اور بے چارے بھکت جنوں کو پریشانی میں ڈال دیتے ہیں۔بڑی مشکل سے دہشت گردی میں مبینہ ملزم سادھوی پریگیہ کو خرابی صحت کے نام پر ضمانت دلوا کر الیکشن اُمیدوار بنادیا تاکہ سماجی پھوٹ کا منافع کھینچ کر الیکشن کامیابی وصول ہو۔ ادھر سے فلمساز و اداکار کمل ہاسن نے نیا محاذ کھولا ۔ہندو دہشت گردی کی شروعات کا بانڈا کچھ اس طرح پھوڑا کہ بھکت جن کرچیاں تلاش کر رہے ہیں۔بھکت جنوں کے فکری گرو گوڈسے کو آزاد ہندوستا ن کا پہلاہندو دہشت گرد تسلیم جتایا۔اب تو بھکت جنوں کو وہ الفاظ نہیں مل رہے ہیں کہ کمل ہاسن کو مملکت خداداد کا ویزا دلوادیں یا گوڈسے کے گلے میں مالائیں پہنیں۔
ادھر اس بیچ بڑا تنازعہ کھڑا کردیا دشمنان ِجان نے کہ رمضان اگر اردو میں مستعمل ہے تو عربی رمدھان جیسا تلفظ کیوں اور پھر رمضان میں منچلوں کا غصہ ٹھنڈا کرنے اور روزے داروں کی پیاس بجھانے کیلئے اس بار بھارت میں روح افزاء شربت بھی میسر نہیں۔مملکت خداداد والوں نے تو بھیجنے کی پیش کش کردی پر کیا کریں ،ادھر کی پلا نہیں سکتے کیونکہ کیا پتہ بادلوں کی اوٹ میں وہ کیا کچھ بوتلوں میں بھر دیں ؎
یہی تشویش ہے شب و روز بنگلے میں
روح افزا پھر کبھی سنوارے مقدر میرا
رابط ([email protected]/9419009169)