عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//کپوارہ ضلع کی ایک عدالت نے مبینہ حراستی تشدد کے ایک کیس میں سی بی آئی کی تحقیقات کے دوران ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) کو بری کر دیا ہے، جبکہ دیگر7 پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔یہ حکم پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج منجیت سنگھ منہاس نے اس کیس میں دلائل سننے کے بعد دیا، جہاں یہ طے کیا جا رہا تھا کہ ملزمان پر فردِ جرم عائد کیا جائے یا انہیں بری کیا جائے۔یہ معاملہ 2025 میں درج ایک ایف آئی آر سے جڑا ہے، جسے سپریم کورٹ آف انڈیا کی ہدایت پر درج کیا گیا تھا۔ اس میں الزام تھا کہ پولیس کانسٹیبل خورشید احمد چوہان کو فروری 2023 میں کپوارہ کے جوائنٹ انٹروگیشن سینٹر میں غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا جہاں اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
سی بی آئی نے ڈی وائی ایس پی سمیت اس کیس میں 8پولیس اہلکاروں کے خلاف چارج شیٹ دائر کی تھی، جن پر تعزیراتِ ہند کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ دفعات میں مجرمانہ سازش، غیر قانونی حراست اور اعتراف کروانے کے لیے تشدد جیسی دفعات شامل ہیں۔عدالت نے کیس کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد پایا کہ ڈی ایس پی اعجاز احمد نائیک کے خلاف بادی النظر میں کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ ریکارڈ میں ایسا کوئی اشارہ نہیں کہ وہ مبینہ تشدد میں براہ راست ملوث تھے۔ مزید کہا گیا کہ ان کے خلاف موجود مواد اس معیار پر پورا نہیں اترتا کہ مقدمہ چلایا جا سکے، اس لیے انہیں کیس سے بری کر دیا گیا۔19 صفحات پر مشتمل تفصیلی حکم میں عدالت نے کہا کہ باقی ملزمان کے خلاف شواہد ان کی مبینہ حراستی زیادتی میں مسلسل اور فعال شمولیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
عدالت نے حکم دیا کہ سات اہلکاروں کے خلاف فردِ جرم عائد کیا جائے، جن میں ایک سب انسپکٹر، ایک اسپیشل پولیس آفیسر اور دیگر کانسٹیبل شامل ہیں۔عدالت نے نوٹ کیا کہ “حراست میں تشدد کے معاملات کی قانونی اہمیت خاص ہوتی ہے اور حراست کے دوران لگنے والی چوٹوں کو خصوصی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔” میڈیکل ریکارڈ اور دیگر شواہد کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ “زخموں کی نوعیت حراستی تشدد سے مطابقت رکھتی ہے اور انہیں معمولی نہیں کہا جا سکتا۔”دیگر ملزمان کو بری کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ “استغاثہ کے شواہد، بشمول متاثرہ شخص کا بیان اور طبی ثبوت، ایک مربوط تصویر پیش کرتے ہیں جس میں ہر ملزم کا کردار واضح ہے۔”عدالت نے کہا کہ اس مرحلے پر صرف یہ دیکھنا ضروری ہے کہ “آیا شواہد ملزمان کی شمولیت پر مضبوط شبہ پیدا کرتے ہیں، نہ کہ تفصیلی جانچ پڑتال کی جائے۔” عدالت نے تعزیراتِ ہند کی متعلقہ دفعات، جن میں 120-بی، 323، 325، 330، 331 اور 343 شامل ہیں، کے تحت فردِ جرم عائد کرنے کی ہدایت دی۔