اننت ناگ //کوکرناگ اور قاضی گنڈ میں دلدوز حادثات میں ماں بیٹا اور طالب علم جاں بحق ہوگئے ہیں۔کوکرناگ کے صوف شالی چھانہ محلہ میں اس وقت صف ماتم بچھ گئی جب یہاں جواں سال ماں اور اسکے کمسن بیٹے کو کمرے میں مردہ حالت میں پایا گیا۔23 سالہ عشرت جان زوجہ شبیر احمد نجار اور اسکا 2 سالہ کمسن بیٹا مصیب کمرے میں سورہے تھے۔گھر والوں کے مطابق جب دونوں صبح اپنے کمرے سے باہر نہیں آئے تو انہوں نے دونوں کو بہوشی کی حالت میں پایا ۔انہیں فوری طور پر کوکرناگ اسپتال لایا گیا تاہم ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا۔ماں بیٹے کی موت سے علاقہ میں صف ماتم بچھ گئی ہے۔اس بیچ مہلوک خاتون کے میکے والوں کے اسرار پر ماں بیٹے کو سسرال میں قبرستان کے بجائے میکے ہاکورہ بدسگام میں سپرد خاک کیا گیا۔بی ایم او لارنو کا کہنا ہے کہ بظاہر ماں بیٹے کی موت دم گھٹنے سے ہوئی ہے۔پولیس نے قانونی لوازمات کے بعد معاملے کی نسبت کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی ہے۔ادھر چوگام قاضی گنڈ میں 10 سالہ م طالب علم کوچنگ سنٹر میں بجلی کرنٹ لگنے سے لقمہ اجل بن گیا۔چوتھی جماعت کا طالب علم سہیل احمد میر ولد محمد امین میر ساکن کھارہ گنڈ چوگام ہائی ٹینشن ترسیلی لائن چھو جانے کے باعث شدید زخمی ہوا۔ اگرچہ اس کو فوری طور ایمرجنسی ہسپتال قاضی گنڈ پہنچایا لیکن ڈاکٹروں نے اس کو مردہ قرار دیا،مذکورہ طالب علم چوگام میں ایک ٹیوشن سنٹر میں زیر تعلیم تھا اور ہائی ٹینشن ترسیلی لائن ٹیوشن سنٹر کے بالکل قریب ہے،مقامی لوگوں نے بتایا کہ مذکورہ ترسیلی لائن اور بوسیدہ کھمبوں کو تبدیل کرانے کے خاطر کئی بار متعلقہ محکمہ کی نوٹس میں لایا گیا لیکن ابھی تک کسی بھی طرح کی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔