بشیر اؔطہر
جب گاؤں کا آوارہ لڑکا کوٹھے پر چڑھا تو وہاں اپنی بہن کو دیکھ کر اس کے ہاتھ خودبخود اٹھ گئے۔ایک نہیں، کئی تھپڑ……..
جیسے وہ اپنی گندگی اس کے چہرے پر مَل دینا چاہتا ہو۔
بہن نے آنسو پونچھے، ہونٹ کاٹا اور بے آبرو سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی’’میں یہاں رہنے نہیں آئی تھی…میں تو تمہارا پیچھا کرتے کرتے یہاں پہنچی ہوں،
یہ جاننے کہ تم ہر شام کہاں گم ہو جاتے ہو۔‘‘لڑکے کے ہاتھ ہوا میں معلق رہ گئے۔کوٹھا اپنی جگہ تھا،
مگر اس کے اندر کچھ ٹوٹ کر گر چکا تھا۔
خانپورہ کھاگ بڈگام ،کشمیر
موبائل نمبر؛7006259067