سرینگر//ڈاکٹرس ایسوسی ایشن نے کہا کہ وادی میں کووڈ 19معاملات میں پھر سے تیزی تشویشناک مسئلہ ہے ۔ایسوسی ایشن نے کووڈ19کے مثبت نمونوں کی جینیاتی جانچ کی مانگ کی ہے تاکہ پتہ لگایا جاسکے کہ وادی میں موجود وائرس نے جینز تو تبدیل نہیں کئے ہیں ۔ایسوسی ایشن نے کہاکہ کچھ وقت پہلے جو لوگوںکا رویہ تھا جس انداز سے وہ معمولات زندگی چلارہے تھے، اسی طرح آج بھی چلارہے ہیں تو وائرس میں پھر سے تیزی کی وجوہات کیا ہوسکتی ہے ۔ ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر نثارلحسن نے وادی میں کووروناوائرس میں پھر سے تیزی پر اپنی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہفتہ بھر پہلے ہم اس بات پر خوش تھے کہ وادی میں کووڈ 19کیسوں میں بتدریج کمی آرہی تھی تاہم اب اس میں پھر سے اُچھال آیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دو ہفتے پہلے جس انداز سے لوگ اپنے معمولات زندگی چلارہے تھے آج بھی اسی طرح چلارہے ہیں تو کیسوں میں تیزی کی کیا وجوہات ہوسکتی ہیں ۔ لوگ دو ہفتے پہلے بھی بغیر ماسک کے چلاکرتے تھے ۔ سماجی دوری کا لحاظ نہیں تھا اور آج بھی اسی نہج پر ہے ۔انہوںنے مثبت کیسوں کے نمونوں کی جینیاتی جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وائرس کی جینز میں تبدیلی سے وائرس کے معاملات میں تیزی کا باعث ہوسکتی ہے ۔ انہوںنے کہا ہے کہ جنیٹک ٹیسٹنگ سے نہ صرف ہمیں وادی میں وائرس کی زیادتی کا پتہ چلے گا بلکہ اس سے یہ بھی معلوم ہوسکتا ہے کہ کہیں وائرس کی نئی سٹرین واد ی میں داخل تو نہیں ہوئی ہے ۔ ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا کہ میوٹنٹ سے وائرس کے خلاف موثر اور لائحہ عمل تیار کرنے میں مدد ملے گی تاکہ اس مہلک وائرس کوقابو پایا جاسکے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ کووڈ19میں یہ خاصیت ہے کہ اس کی ہیت تبدیل ہوجاتی ہے جس سے وائرس کے رویہ میں تبدیلی ہوسکتی ہے اور اس سے وائرس مزید مہلک بن جاتا ہے اور زیادہ تیزی سے پھیل جاتا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ اس وقت تین غیر ملکی سٹرین موجود ہیں، یوکے، ساوتھ افریقین اور برازیلن جنہوں نے بھارت میں بھی اپنی جگہ بنالی ہے جو مزید تیزی سے پھیل سکتے ہیں اور زیادہ بیماریاں پیدا کرسکتے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ حال ہی میں مہاراشٹر میں ایک دوگنا میوٹنٹ پایا گیا ہے اور یہ معاملہ اُس وقت سامنے آیا جب کیسوں میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ ڈاک صدر نے کہا کہ گزشتہ دو ہفتوں سے وادی میں کورونامعاملات میں پھر تیزی آئی ہے جبکہ ہسپتالوں میں مریضوں کا داخلہ بھی بڑھ گیا ہے ۔ انہوںنے اس بات پر زور دیا ہے کہ انتظامیہ کو چاہئے کہ کووڈمخالف ٹیکہ کاری میں زیادہ سے زیادہ تیزی لائی جائے تاکہ اس وائرس کو پھیلنے سے جلدی روکا جاسکے ۔