ایک طرف جہاں پوری دنیا میں کووڈ۔19 کو ہرانے کی کاوشیں جاری ہیں۔ پوری دنیا اپنے سیاسی و دیگر اختلافات پس پشت رکھ کر اس بیماری کے خلاف نبرد آزما ہے وہیں بد قسمتی سے یہاں اس بیماری کو سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے ڈھال کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ دسمبر میں جب کووڈ۔ 19 چین کے شہر وہان سے پوری دنیا میں پھیلنا شروع ہوا تو اس کا کوئی مذہب تھا اور نہ ہی کوئی رنگ و نسل – دنیا کے لئے یہ محض ایک وائرل بیماری تھی اور ہے -جو بیماری وائرس کے ذریعے پھیلتی ہے اسکو وائرل بیماری بولتے ہیں ۔کووڈ۔ 19 بھی کراونا وائرسز کے ایک خاندان سے تعلق رکھتی ہے – وائرس سیل یعنی خلیے سے باہر ایک بے جان چیز ہوتی ہے اور ہمیشہ خلیے کے اندر ہی جا کر ایکٹیو ہوتا ہے اور ہوسٹ جاندار کے قوت مدافعت کو کمزور کرتا رہتا ہے۔انسان کے جسم کے سات ایسے راستے ہیں جہاں سے وائرس ہمیشہ اندر جانے کی کوشش کرتا رہتا ہے، ان میں دو آنکھیں، دو ناک، دو کان، ایک شرمگاہ اور ایک فضلا نکلنے والی جگہ۔ فروری کے مہینہ میں ہندوستان میں داخل ہوتے یہ وائرس کووڈ ۔ 19 سے حضرت کویدالدین مد ظلہ النورانی بن گیا۔ہر سو میڈیا چینلوں پر یہ واویلا مچایا گیا کہ کرونا جہاد ! – ایسا تاثر دیا گیا جیسا کہ یہ بیماری مسلمانوں کی دوست ہے اور وہ پھیلا رہے ہیں۔لگ بھگ ایک سو سال پرانی مذہبی، غیر سیاسی و پر امن جماعت "تبلیغی جماعت" کے خلاف جان بوجھ کر جھوٹا پروپیگنڈا چلایا گیا۔ ایسا کیوں کیا گیا اس کا ایک پس منظر ہے۔ کووڈ۔ 19 سے پہلے سی۔ اے۔اے کے نام سے ایک قانون بنایا گیا جسکا مقصد مبینہ طور ہندوستانی مسلمانوں کو ٹارگٹ کرنا تھا – اس کے پاس ہوتے ہی ہندوستان کی نامور جامعات میں طلبہ سڑکوں پر نکل آئے۔ بہت ساری جگہوں پر طلبہ پر تشدد بھی کیا گیا ۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پولیس نے لائبریری کے اندر گھس اسٹوڈنٹس پر بربریت کی۔دہلی کا شاہین باغ پورے ہندوستان کے لئے ایک علامت بن گیا جو کہ وطن کی محبت سے سرشار ہو کر اپنے حقوق کے لئے پر امن احتجاج کا مرکز بن گیا ۔ اسطرح پورے ملک میں شاہین باغ کی طرز پر پر امن احتجاج ہونے ۔گویا پورا ہندوستان شاہین باغ کا منظر پیش کرنے لگا۔
آج کرونا کی وجہ سے پوری دنیا بند ہے اور یقیناً پر یشانیوں سے بھی جوجھ رہی ہے لیکن جموں و کشمیر کرہ ارض کا وہ واحد خطہ ہے جو اسوقت تہرے لاک ڈاؤن کا شکار ہے۔اول، 05 اگست 2019 یعنی ریاست کی خصوصی پوزیشن ختم کرنے کے بعد والا لاک ڈاؤن جو ابھی چل ہی رہا تھا کہ کرونا نے دستک دی۔دوئم، 05 اگست 2019 کے نتیجے میں انٹرنیٹ لاک ڈاؤن جسکو ای-کرفیو بھی کہا جا رہا ہے اور سوئم، کروانا والا لاک ڈاؤن جو پوری دنیا میں ہے ۔سرکار کرونا کو لے کر کتنا سنجیدہ ہے ، اسکا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ جموں و کشمیر کے اکثر نوجوان اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے ریاست سے باہر جاتے ہیں ۔آجکل چونکہ لاک ڈاؤن ہے ،اس لئے زیادہ تر طالبعلم گھروں کو لوٹے ہوئے ہیں اور لگ بھگ ہندوستان کی تمام جامعات میں آن لائن کلاسز ہو رہی ہیں۔ جموں و کشمیر کا نوجوان جو علی گڑھ، جے این ایو، ڈی یو یا کسی اور جامعہ میں ہے، کا کلاس میٹ جو یوپی، بہار، بنگال یا کسی دوسری اسٹیٹ سے ہے، تسلسل کیساتھ آن لائن کلاسز کر رہے ہیں۔جموں وکشمیر میں 4G انٹرنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کا طالبعلم نصاب میں پیچھے رہ گیا ہے – بہت ڈیمانڈ کے باوجود بھی یہاں فور جی انٹرنیٹ بحال نہیں کیا گیا۔ جموں و کشمیر کے اندر کالجز، اسکولز اور یونیورسٹیوں کے طلباء کا بھی یہی حال ہے۔ زیادہ سے زیادہ کیا ہی بگڑ جاتا اگر ان دونوں اسٹوڈنٹس کی کلاسز کے لئے ہی بحال کر دیتے۔ ہندوستان و پاکستان کی افواج کی طرف سے LOCپر کووڈ۔ 19 کے اس کٹھن دور میں بھی شیلنگ بند نہیں ہوئی ۔ نئی دہلی کی جانب سے ڈومیسائل ایکٹ اس لاک ڈاؤن میں ٹھونسنا بتاتا ہے کہ وہ جموں و کشمیر کی عوام سے کتنی خوفزدہ ہے کہ بیماری کے جانے کا انتظار بھی نہیں کیا۔ مرکزی سرکار کا ایجنڈا صرف یہ ہے چونکہ آج کل عملی قسم کا کوئی احتجاج ممکن نہیں ہے لہٰذا کووڈ چچا کو ڈھال بنا کر اپنے سارے سیاسی مقاصد حاصل کر لو۔اور یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں پہلے دن سے ہی اتنا سخت لاک ڈاؤن کرنے کے باوجود بھی یہ بیماری رکنے کا نام نہیں لے رہی ۔ لاک ڈاؤن تو رہا لیکن بیماری کے لئے نہیں بلکہ اس کو ڈھال بنا کر اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوششیں زیادہ رہیں ۔CAA و NRC کے خلاف احتجاج کرنے والے اسٹوڈنٹ ایکٹیوسٹس کی پکڑ دھکڑ اور انکو جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلنا اسکی ایک اور زندہ مثال ہے ۔
( مضمون نگارکا تعلق پونچھ سے ہے اور وہ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی میں ریسرچ اسکالر ہیں)
ای میل: [email protected]