کولگام//جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں پولیس نے ایک خاتون ایس پی او کو گرفتار کر کے نوکری سے برطرف کیا ہے۔ خاتون پر ملٹنسی کو بڑھاوا دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔ پولیس نے جمعہ کو بتایا کہ جنوبی ضلع کولگام میں ایک خاتون سپیشل پولیس آفیسر (ایس پی او) کو ملی ٹنسی کو بڑھاوا دینے کے الزام میں گرفتار کرکے نوکری سے بھی بر طرف کیا گیا ۔پولیس کے مطابق فورسز نے 14 اپریل کو کریوا محلہ فرصل کولگام میں جنگجوئوں کی موجود گی کے حوالے سے اطلاع موصول ہونے کے بعد گائوں کا محاصرہ کیا اور تلاشی آپریشن عمل میں لایا۔اس دوران جب فورسز پارٹی سائمہ اختر دختر غلام نبی راہ نامی ایک خاتون کے صحن میں داخل ہوئی تو مذکورہ ایس پی او نے جنگجومخالف کارروائی میں رخنہ ڈالا۔ پولیس کے مطابق مذکورہ خاتون تشدد پر اتر آئی اور ایسی باتیں بھی کیں جن سے ملی ٹنسی کو بڑھاوا ملتا ہے۔پولیس کے مطابق خاتون نے اپنے ذاتی موبائیل سے ویڈیو ریکارڈنگ بھی کی اور اس کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا تاکہ بقول پولیس تلاشی آپریشن میں خلل ڈالا جاسکے۔خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں سائمہ، جو محکمہ پولیس میں بحیثیت خاتون سپیشل پولیس افسر (ایس پی او) کام کر رہی تھیں، کو اپنے مکان کے صحن میں سکیورٹی فورسز پر چیختے سنا جا سکتا ہے۔انہیں ویڈیو میں یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے: ‘روز روز یہ کیا ہو رہا ہے؟ ہمیں سحری بھی کھانے نہیں دی،جوتے سمیت اندر آتے ہو، میری ماں بیمار ہے، اگر اسے کچھ ہوا یاد رکھنا، پچھلی بار بھی میری ماں اکیلی تھی اور یہ لوگ آئے تھے، کیا کرنے آئے تھے؟’۔تاہم ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد پولیس نے سائمہ اختر کو گرفتار کر کے انہیں نوکری سے بر طرف کر دیا ہے۔ سائمہ کے خلاف پولیس تھانہ یاری پورہ کولگام میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے حوالے سے کیس زیر نمبر19/2021زیر دفعہ353،آئی پی سی،13 UPAایکٹ درج کر لیا ہے