کولگام// ضلع کولگام میں محض ایک دن کے وقفے کے بعد جنگجوئوں نے ایک اور سیاسی کارکن کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا۔مذکورہ ساسی ورکر’ اپنی پارٹی‘ سے وابستہ تھا اور زونل صدر کے عہدے پر کام کررہا تھا۔محض 4ماہ قبل وہ پی ڈی پی ڈی سے مستعفی ہوئے تھے۔پولیس کے مطابق یہ واقعہ ہیر دیوسر قصبہ میں شام قریب 6بجے پیش آیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اپنی پارٹی زونل صدر کولگام 60سالہ غلام حسن لون ولد کمال لون داماد عبدالرحمان دھوبی اپنے مکان کے باہر دکان کے قریب کھڑا تھا جس کے دوران مشتبہ جنگجو نمودار ہوئے اور انہوں نے غلام حسن پر گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوا اور اسے پرائمری ہیلتھ سینٹر دیوسر لیا گیا جہاں سے انہیں ضلع اسپتال کولگام لیجانے کی کوشش کی گئی لیکن وہ اسپتال پہنتے ہی دم توڑ بیٹھا۔غلام حسن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ پی ڈی پی کا بلاک صدر تھا اور چار ماہ قبل اس نے پارٹی سے استعفیٰ دیا تھا۔اس واقعے کے فورا بعدسیکورٹی فورسزنے پورے علاقہ کامحاصرہ کرکے حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی ۔یاد رہے کہ محض ایک روز قبل 17 اگست کو مشتبہ جنگجوئوں نے بی جے پی کے حلقہ انچارج ہوم شالی بگ کولگام جاوید احمد ڈار ولد محمد عبداللہ ڈار کو برازلو جاگیر کولگام میں گولی مار کر ہلاک کردیا۔جبکہ رواں ماہ 9، اگست کوکسان مورچہ کے ضلعی صدر کولگام غلام رسول( سر پنچ) اور ان کی اہلیہ جواہرہ بانو( پنچ )ساکن ریڈونی کولگام حال لال چوک اننت ناگ، کو جنگجوئوں نے کرایہ کے مکان میں گھس کر ہلاک کردیا ۔ گزشتہ پندرہ روز کے دوران جنوبی کشمیر میں 4سیاسی ورکروں کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔جبکہ کولگام میں سیاسی ورکروں کی یہ پچھلے 6ماہ میں مجموعی طور پر 8ویں ہلاکت ہے۔ادھراپنی پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری نے اِ س خبر کو انتہائی افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہاکہ ایسے حملوں کا مقصد جموں وکشمیر میں جاری امن عمل کو روکنا ہے۔ بخاری نے کہاکہ ’’تشدد کی اِن قابل مذمت کارروائیوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا بلکہ اِس سے صرف لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے، کسی بھی سیاسی کارکن کے بے گناہ قتل کاجواز نہیں دیاجاسکتا جو صرف اپنے علاقے کے عوامی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کر رہا تھا‘‘۔