عظمیٰ نیوزسروس
لندن//یونان کے ساحل پر تارکین وطن کی کشتی کے حادثے میں بچ جانے والے چار افراد کا کہنا ہے کہ یونانی کوسٹ گارڈ کی کارروائیوں کی وجہ سے کشتی ڈوب گئی، جس سے بڑا جانی نقصان ہوا۔ایک اندازے کے مطابق 14 جون کو کشتی الٹنے کے وقت 750 افراد سوار تھے جن میں زیادہ تر پاکستان، شام اور مصر سے تھے۔یہ حادثہ حالیہ برسوں میں بحیرہ روم میں آنے والی بدترین انسانی آفات میں سے ایک تھا۔
اس حادثے میں 104 افراد زندہ بچ گئے اور 82 لاشیں سمندر سے نکالی جا چکی ہیں۔ چار زندہ بچ جانے والوں جن کا نام ان کی حفاظت کے لیے ظاہر نہیں کیا جا رہاہے لیکن ایک سے زیادہ ذرائع سے ان کی شناخت کی تصدیق کی گئی ہے کہ وہ اس حادثے میں زندہ بچ جانے والے مسافروں میں سے ہی ہیں۔ان چار میں سے ایک شخص، جن کا تعلق مصر سے ہے، نے بتایا کہ ’ہمارا خیال تھا کہ یونانی کوسٹ گارڈ ہمیں بچائیں گے مگر اس کے بجائے انھوں نے ہماری کشتی ہی ڈبو دی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ یونانی کوسٹ گارڈ اس وقت کشتی کو رسے سے باندھ کر آگے لے جا رہے تھے، جب یہ یونان کے ساحل سے تقریباً 80 کلومیٹر (50 میل) دور بحیرہ روم کے گہرے حصے میں سے ایک میں ڈوب گیا۔یونانی حکام نے پہلے اس کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ جب انھوں نے کشتی میں سوار ہونے اور صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے کشتی کو رسی باندھنے کی کوشش کی تو کشتی میں سوار مسافروں نے اسے ہٹانے کی کوشش کی اور کہا کہ وہ اٹلی کا سفر کرنا چاہتے ہیں۔