سرینگر//عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجینئر رشید نے سرکار پر سیاسی قیدیوں کی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے نامی سیاسی کارکن نور خان کی کوٹ بھلوال جیل جموں میں ہوئی موت کی عدالتی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انجینئر رشید نے کہا’’حکام کو یہ بات نہیں بھولنی چاہیئے کہ پی ایس اے یا دیگر کالے قوانین کے تحت نظربند لوگ کوئی مجرم نہیں ہیں بلکہ وہ سیاسی قیدی ہیں اور نظربندی کے دوران انہیں حاصل بنیادی حقوق کو کسی بھی طرح پامال نہیں کیا جانا چاہیئے۔یہ بات انتہائی فکرمندی اور تشویش کی ہے کہ کئی جیلوں میں نظربند وں کو نہ کسی سے ملنے دیا جاتا ہے اور نہ ہی انہیں طبی سہولیات بہم رکھی جارہی ہیں جو حالانکہ انکے بنیادی حقوق میں شامل ہیں۔ نور خان کی جیل میں موت ہونے سے نہ صرف جیل اصلاحات کی سرکاری دعویداری کھوکھلی ثابت ہوئی ہے بلکہ یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ جیل حکام نظربندوں کی زندگی کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔سرکار کو اس واقعہ کی عدالتی تحقیقات کرواکے اس بات کا پتہ لگانا چاہیئے کہ نور خان کی موت کن حالات میں ہوئی ہے اور انہیں بروقت طبی سہولیات فراہم کرنے میں لیت و لعل کرنے والوں کو سزا دی جانی چاہیئے کہ جو اس نظربند کی موت کے اصل ذمہ دار ہیں‘‘۔اس دوران ماس مونٹ نے تمام سیاسی نظربندیوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کوٹ بھلوال جیل میں مقید غلام حسن ملک عرف نور خان ساکن پہلی پورہ بونیار کی دوران اسیری موت کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ترجمان کے مطابق ماس مومنٹ کی سربراہ فریدہ بہن جی نے رنج وغم کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ غلام حسن ملک کی زندگی کے ساتھ کھیلنا جیل حکام اور انتظامیہ کی کھلی لاپرواہی کا نتیجہ ہے کہ موصوف کو بروقت اور موثر علاج نہ ملنے کی وجہ سے ہی جامِ شہادت نوش کرنا پڑا۔بیان کے مطابق انہوں نے غلام حسن ملک عرف نور خان کے انتقال کو ایک انسانی المیہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعہ نے ایک بار پھر ہمارے ان خدشات کو تقویت بخشی ہے کہ جموںوکشمیر اور بھارت کی مختلف ریاستوں کی جیلوں میں مقید کشمیری حریت پسند قیدیوں کی زندگیاں کس درجہ غیر محفوظ ہیں اور کس طرح جیلوں میں مقید ان قیدیوں کو جان بوجھ کر موت کے منہ میں دھکیلا جارہا ہے ۔