سرینگر //رواں سال 25 مارچ کو سیاحوں کی آمد ورفت کیلئے کھولا گیا ایشیاء کا سب سے بڑا باغ گل لالہ میں 2لاکھ 25ہزار سیاحوں نے سیر کی جس میں سے 70ہزار سیلانی بیرون ریاستوں سے کشمیر آئے تھے۔لیکن کشمیر کے مغل باغات سیاحوں کی آمد کے انتظار میں ہیں اور حکومتی احکامات پر عملدر آمد کرتے ہوئے ان باغات کے دروازے مقفل کردیئے گئے ہیں۔ کورونا کی دوسری لہر کے دوران سیاحتی شعبہ کی بحالی کی اُمید ایک بار پھر گم ہو گئی ہے ۔محکمہ فلوریکلچر ڈائریکٹر فاروق احمد راتھر نے کشمیر عظمیٰ کیساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ حکام کی کوششوں کی بدولت اس سال باغ گل لالہ میں سیاحوں کی ریکارڈ تعداد دیکھی گئی۔ 30ہیکٹر اراضی پر پھیلے اس باغ میں 64اقسام کے 15لاکھ ٹولپ لگائے گئے تھے ۔انہوں نے کہا کہ باغ کی دیکھ ریکھ پر محکمہ کو قریب 70لاکھ کا خرچہ ہوتا ہے کیونکہ اس کے ٹولپ ہالینڈ سے کشمیر لائے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ رواں سال 2لاکھ 25ہزار سیلانوں نے سیر کی جس میں سے 71ہزار بیرون ریاستوں سے تعلق رکھتے تھے ۔ اس سال محکمہ سیاحت نے سیاحوں کو کشمیر کی طرف راغب کرنے کیلئے کئی ایک پروگراموں کا انعقاد کیا تھا اور کئی ایک شوز بھی کئے تھے۔نتیجے کے طور پر سیاحوں کی بھاری تعداد یہاں آئی۔حتیٰ کہ وزیر اعظم نے ٹویٹر پر پیغام دیتے ہوئے باغ گل لالہ کی سیر کیلئے سیاحوں کو مدعو کیا تھا۔گذشتہ سال یعنی سال2020میں مارچ میں ہی کورونا لاک ڈائون لگا دیا گیا تھا جس کے باعث باغ میں لگائے گے پھول سیاحوں کا انتظار کرتے کرتے مرجھا گئے ۔گذشتہ سال بھی باغ گل لالہ کو 45روز تک کھلا رکھنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا ۔پھولبانی محکمہ کے ناظم فاروق احمد راتھر کہتے ہیں کہ ٹولپ گارڈن نے رواں برس اچھا مالی فائدہ پہنچایا۔انہوں نے کہا کہ ہالینڈ میں ابھی تک باغات بند ہیں لیکن یہاں ٹولپ گارڈن ایک ماہ تک کھلا رہا ۔انہوں نے کہا کہ انہیں اُمید تھی کہ اس بار کشمیر میں سیاحوں کی بڑی تعداد سیر کو آئے گی لیکن بدقسمتی سے کورونا نے پھر سر اٹھایا اور پورے ملک کو تیزی کیساتھ اپنی لپیٹ میں لیا۔انہوں نے کہا کہ یہاں کے مغل باغات میں اس سال زیادہ پھول لگائے گئے ہیں، تاکہ انہیں زیادن جازب نظر بنایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ ہماری تیاریاں مکمل ہیں، باغبان پھلوں کو روزانہ کی بنیاد پر پانی کا چھڑکائو کر کے ان کو تازہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔معلوم رہے کہ نہ صرف کشمیر کے باغات بند پڑے ہیں بلکہ ہوٹل ،ہاوس بوٹ بھی مکمل بند ہیں۔ شکارے پھر ایک بار ڈل کے کنارے کھڑے ہیں ،جن سیاحوں نے کشمیر آنے کیلئے بکنگ کی تھی وہ منسوخ ہو گئی ہے ۔سیاحتی شعبہ سے وابستہ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس بار 50فیصد سیاحوں نے پہلے ہی بکنگ کر دی تھی ۔محکمہ سیاحت کے کمشنر سکریٹری سرمد حفیظ کا کہنا ہے کہ محکمہ سیاحت نے سیاحوں کو کشمیر کی طرف راغب کرنے کیلئے اس سال بڑے پیمانے پر کوشش کی تاکہ اس شعبہ سے وابستہ افراد کے چولہے جل سکیں لیکن کورونا کی وجہ سے یہ سب ختم ہو گیا۔انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ حالات یہی نہیں رہیں گے،ضرور بدلیں گے ۔