سرینگر //بیرون ریاستوں اور ممالک سے جموں و کشمیر آنے والے 195افراد سمیت مزید 1145وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ اس دوران مزید 3افراد وائرس سے فوت ہوگئے۔سنیچر کو کورونا وائرس کی تشخیص کیلئے جموں و کشمیر میں 36ہزار 531ٹیسٹ کئے گئے جن میں 1145افراد کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں۔ متاثرین میں 503جموں جبکہ 642کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ کشمیر سے تعلق رکھنے والے 642متاثرین میں 561 مقامی سطح پر جبکہ81افراد بیرون ریاستوں اور ممالک سے وادی پہنچے ہیں۔ کشمیر کے 642متاثرین میںسرینگر میں 319،بارہمولہ میں 112، بڈگام میں 55، پلوامہ میں 30، کپوارہ میں 17، اننت ناگ میں 26، بانڈی پورہ میں 17، گاندربل میں 44، کولگام میں 21 اور شوپیان سے ایک متاثر تعلق رکھتا ہے۔ سی ڈی اسپتال ڈلگیٹ میں پلوامہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص فوت ہوگیا ۔ متوفین کی مجموعی تعداد 1290ہوگئی ہے جبکہ متاثرین کی تعداد 87ہزار کا ہندسہ پار کرکے 87ہزار 129ہوگئی ہے۔ جموں صوبے میں مزید 503افراد وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جن میں 389مقامی سطح پر جبکہ 114 افراد بیرون ریاستوں سے سفر کرکے آئے ہیں۔ جموں کے503متاثرین میں ضلع جموں میں 264، ادھمپور میں 22، راجوری میں 28، ڈوڈہ میں 9، کٹھوعہ میں 47، سانبہ میں 35، کشتواڑ میں 5، پونچھ میں 9، رام بن میں 4اور ریاسی میں 80افراد وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ متاثرین کی مجموعی تعداد 58ہزار کا ہندسہ پار کرکے 58ہزار237 ہوگئی ہے ۔ اس دوران جموں صوبے میں مزید 2افراد وائرس سے فوت ہوگئے۔ متوفین کی مجموعی تعداد 761ہوگئی ہے۔
صدر اسپتال میں او پی ڈی بند ، جراحیاں منسوخ
۔12وارڈکوویڈ مریضوں کیلئے مخصوص
پرویز احمد
سرینگر //پرنسپل گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر نے صدر اسپتال میں او پی ڈی اور معمول کے داخلوں اور جراحیوںکو فی الحال بند کرنے کا حکم نامہ جاری کیا ہے۔ پرنسپل گورنمنٹ میڈیکل کالج کی جانب سے سنیچر کو جاری کئے گئے حکم نامہ زیر نمبر GMC/40/2021بتاریخ 17اپریل 2021میں بتایا گیا ہے کہ کورونا متاثرین کے اضافہ کو دیکھتے ہوئے اسپتال میں203بستروں پر مشتمل 12 وارڈوں کو کورونا متاثرین وارڈوں میں تبدیل کیا گیا ہے جن میں وارڈ 2، 3،4،17،18،19، 20، آئی سولیشن وارڈ، ڈی ایڈکشن سینٹر، پیڈ روم، ایم آئی سی یو،ایس آئی سی یو وارڈ شامل ہیں۔ حکم نامہ میں مزید کہا گیا ہے کہ وارڈ نمبر ایک ای این ٹی جبکہ وارڈ نمبر 8کے 36بستروں میں سے 30 بستر شعبہ میڈیسن کے غیر کورونا مریضوں اور 6بستر جلد کی بیماریوں سے متعلق شعبہ کیلئے دستیاب رہیں گے۔ حکم نامہ میں مزید کہا گیا ہے کہ معمول کے تمام او پی ڈی اور جراحیوں کو فی الحال روک دیا گیا ہے جبکہ صرف ہنگامی نوعیت کی جراحیوں، کینسر اور دیگر اسپتال سے ریفرر ہونے والے مریضوں کو ہی ایمرجنسی بنیادوں پر اسپتال میں داخلہ دیاجائے گا۔ آنکھوں کی ایمرجنسی کے مریضوں کااو پی ڈی ایچ بلاک میں کام کرے گا۔ مریضوں کی تعداد، ڈاکٹروں کا روسٹر اورنیم طبی عملہ کو برابر تقسیم کیا جائے گا۔ صدر اسپتال کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ کورونا متاثرین اور غیر کورونا مریض ایک دوسرے کے رابطے میں نہ آئیں۔ میڈیکل سپر انٹنڈنٹ عملہ اور تیمارداروں کی حفاظت کو یقینی بنائیں گے۔ حکم نامہ میں کورونا وائرس کی وجہ سے مرکزی سرکار کی جانب سے وقفہ وقفہ پر جاری کی گئی قوائد و ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
تقریبات پر محدود قدغن
صرف100افراد تک رکھنے کی ہدایت
بلال فرقانی
سرینگر//جموں کشمیر میںکورونا وائرس کے کیسوں میں ہوش ربا اضافے کے بعد لیفٹیننٹ گورنر کی سربراہی والی انتظامیہ نے عوامی تقاریب اور اجتماعات پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے انہیں 100افراد تک محدود کرنے کے احکامات دیئے ہیں۔ سنیچر کو با ضابطہ طور پر ایک حکم نامہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ جموں کشمیر میں کورونا وائرس کی صورتحال کے پیش نظر فائنانشل کمشنر صحت عامہ و طبی تعلیم اتل ڈلو، انتظامی سیکریٹری محکمہ تعلیم اور جموں اور کشمیر صوبوں کے صوبائی کمشنروں کے علاوہ دیگر افسراں ن میٹنگ کے دوران صورتحال کا جائزہ لیا۔ محکمہ آفات سماویٰ منیجمنٹ،ریلیف ،باز آبادکاری و تعمیر نو کی ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر سیکریٹری سمرن دیپ سنگھ کی جانب سے جاری آرڈر میں کہا گیا ہے جموں کشمیر میں کورونا وائرس کے پھیلائو کی مکمل صورتحال کا احاطہ کیا گیا، جس کے دوران کورونا کے بڑھنے کے رجحان پر توجہ مرکوز کی گئی۔ ان کا کہنا تھا’’ اس جائزہ کی بنیاد پر ریاستی ایگزیکٹیو کمیٹی کو آفات سماویٰ قانون مجریہ2005کی دفعہ24کے تحت حاصل اختیارات کو استعمال میںلاتے ہوئے یہ حکم دیا جاتا ہے کسی بھی تقریب یا اجتماع، میں لوگوں کی شرکت محض 100ہونی چاہیے ، جسے پہلے مقرر کردہ تعداد200سے گھٹایا گیا ہے۔،اس کا اطلاق گھروں کے اندر یا باہر ہونے والی تمام تقاریب یا اجتماعات پر ہوگا‘‘۔ ضلع ترقیاتی کمشنروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سختی کے ساتھ کورونا سے متعلق معقول حفاظتی اقدامات اٹھائے۔ جن میں ماسک کا استعمال اور سماجی دورے عملانے کی خلاف ورزی کے مرتکبین کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے۔ادھر لیفٹیننٹ گورنر نے اس حکم نامے کی جانکاری دیتے ہوئے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ 11ویں جماعت کے امتحانات بھی ملتوی کردیئے گئے ہیں۔