ریاض //سعودی عرب نے اگلے ماہ صرف اپنے شہریوں کوحج کی ادائیگی کی اجازت دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث حج 2020کے لیے عازمین کی تعداد محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔سعودی وزارت کی جانب سے جاری تفصیلی بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہجوم اور لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہونے سے کورونا کے پھیلنے کے خطرے کے پیش نظر فیصلہ کیا گیا ہے کہ رواں برس حج محدود عازمین کے ساتھ ہوگا‘۔بیان میں کہا گیا ہے کہ’سعودی عرب میں مقیم مختلف ممالک کے شہری حج کی ادائیگی کرپائیں گے اور یہ فیصلہ حج کو محفوظ طریقے سے ادا کرنے کے لیے کیا گیا ہے‘۔حکومت نے کہا کہ صحت عامہ کے پیش نظرلوگوں کی جانوں کو بچانے کے لیے اسلامی تعلیمات کے مطابق سماجی فاصلہ اور دیگر تمام ضروری اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔سعودی عرب نے کورونا وائرس پھیلاو کو کم کرنے کے لیے مارچ کے اوائل میں اپنی سرحدیں بند کردی تھیں اور فضائی خدمات معطل کردی تھیں، قبل ازیں 27 فروری کو عمرے کی ادائیگی پر پابندی عائد کردی گئی تھی، اب وہ بتدریج ان بندشوں کو ختم کررہا ہے اور سرکاری اور نجی دفاتر کھول دیے گئے ہیں۔سعودی حکومت نے اسی ہفتے کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے عائد کردہ بہت سی پابندیوں کو ختم کردیا ہے اور مسجد الحرام اور مدینہ منورہ سمیت تمام مساجد میں پنج وقت نماز ادا کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔خیال رہے کہ حج کی ادائیگی کے لیے دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان ہر سال سعودی عرب جاتے ہیں۔رواں برس کورونا وائرس کے باعث سعودی عرب کے علاوہ دیگر ممالک سے حج کے لیے کوئی نہیں آسکے گا۔عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس بیرون ملک سے آنے والے عازمین کی تعداد18 لاکھ سے زائد تھی۔وزارت حج کا کہنا تھا کہ اس برس کورونا وائرس کی منتقلی کے خطرات بہت زیادہ ہیں۔سعودی وزرت کا کہنا تھا کہ حکومت کی ہمیشہ سے یہ اولین ترجیح رہی ہے کہ مسلمان حج اور عمرہ محفوظ ماحول میں ادا کرسکیں۔یاد رہے کہ سعودی حکومت نے مارچ میں کورونا وائرس کے باعث خانہ کعبہ سمیت دیگر مقدس مقامات کو عام افراد کے لیے بند کردیا تھا۔