عظمیٰ نیوزسروس
کپواڑہ// ضلع کپوارہ کے کلاروس علاقے کے تھاین بی گاؤں کے رہائشی کنکریٹ پل کی عدم دستیابی کے باعث موری نالہ عبور کرنے کے لیے ایک عارضی پل استعمال کرنے پر مجبور ہیں تاکہ وہ اپنی روزمرہ منزلوں تک پہنچ سکیں۔مقامی لوگوں کے مطابق دیہی ترقیاتی محکمہ نے سال 2018 میں اس علاقے کے لیے ایک پل منظور کیا تھا، جس کے بعد تعمیراتی کام شروع بھی ہوا، تاہم نامعلوم وجوہات کی بنا پر اسے ادھورا چھوڑ دیا گیا۔گزشتہ کئی برسوں کے دوران پل کے صرف چند ستون (ابٹمنٹس) ہی تعمیر کیے جا سکے ہیں، جس سے مقامی آبادی شدید مایوسی اور مشکلات کا شکار ہے۔ایک مقامی شہری الطاف احمد نے بتایا،’’اب تو ہمیں اس پل کی تکمیل کی امید بھی نہیں رہی کیونکہ متعلقہ محکمہ ہماری روزمرہ کی مشکلات کے حوالے سے بالکل بے حس نظر آتا ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ پل نہ ہونے کی وجہ سے کم عمر طلبہ اور خواتین سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا،’’جب موری نالہ میں پانی کی سطح بلند ہو جاتی ہے تو طلبہ کے لیے اسے عبور کرنا ناممکن ہو جاتا ہے، جس سے ان کی تعلیم متاثر ہوتی ہے۔‘‘علاقے کے ایک طالب علم نے کہا،’’ہمارا اسکول نالے کے دوسری طرف واقع ہے، اس لیے جب پانی بڑھ جاتا ہے تو ہم گھر ہی رہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ حکام ہماری مشکلات کو خاموش تماشائی بن کر کیوں دیکھ رہے ہیں اور پل کی باقی ماندہ تعمیر مکمل کرنے کے لیے کوئی اقدام کیوں نہیں کر رہے۔‘‘مقامی افراد پل کی تکمیل میں غیر معمولی تاخیر پر شدید ناراض ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سینکڑوں خاندان اس پل پر انحصار کرتے ہیں۔علاقے کے ایک نوجوان عارف نے بتایا،’’جب بھی کوئی طبی ایمرجنسی پیش آتی ہے تو ہمیں مریضوں کو کندھوں پر اٹھا کر مرکزی سڑک تک لے جانا پڑتا ہے، جہاں سے ہم گاڑی حاصل کر کے انہیں مزید علاج کے لیے منتقل کرتے ہیں۔‘‘مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ پل کی تکمیل سے طلبہ، خواتین اور عام شہریوں کو درپیش مشکلات میں نمایاں کمی آئے گی۔رہائشیوں نے کپواڑہ کے رکن اسمبلی فیاض میر سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے تاکہ پل کی تعمیر مکمل ہو سکے اور عوام کو درپیش طویل عرصے سے جاری مشکلات کا خاتمہ ہو۔