محمد بشارت
کوٹرنکہ//تحصیل کوٹرنکہ کے متعدد علاقوں میں پینے کے صاف پانی کے شدید بحران نے عوامی زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ خاص طور پر پنچایتی حلقہ کنتھول کی وارڈ نمبر 2 موڑا آئی گالہ میں گزشتہ ایک ہفتے سے پینے کے پانی کی شدید قلت برقرار ہے، جس کے باعث مقامی آبادی کو ناقابلِ بیان مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پانی جیسی بنیادی ضرورت کی عدم دستیابی نے لوگوں کی روزمرہ زندگی مفلوج کر کے رکھ دی ہے۔مقامی ذرائع کے مطابق سب سے زیادہ پریشانی معذور افراد اور ان کے اہل خانہ کو درپیش ہے، جو پانی کی ایک ایک بوند کے لئے ترس رہے ہیں۔ علاقے کے ایک معذور شہری زموردنے بتایا کہ جب پانی کی سپلائی بند ہوئی تو انہوں نے فوری طور پر محکمہ جل شکتی کے سپروائزرسے فون پر رابطہ کیا تاہم سپروائزر نے مسئلے کو حل کرنے کے بجائے انہیں محمد اشرف نامی ملازم سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا۔زمورد کے مطابق انہوں نے محکمہ کے دونوں ملازمین کو کئی بار فون کیا، مگر محمد اشرف نامی ملازم نے نہ صرف پانی کی سپلائی بحال کرنے سے انکار کیا بلکہ نامناسب اور توہین آمیز الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں تمہارے باپ کا نوکر نہیں ہوں‘‘۔ اس رویے سے متاثرہ معذور افراد اور ان کے اہل خانہ کو شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ پانی جیسی بنیادی سہولت کی عدم فراہمی نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا۔مایوس ہو کر معذور افراد نے اپنی مشکلات اور محکمہ کے مبینہ غیر ذمہ دارانہ رویے کو حکام تک پہنچانے کے لئے ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل کیا۔ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد مقامی لوگوں میں محکمہ جل شکتی کے ملازمین اور افسران کے تئیں شدید غم و غصہ دیکھنے کو ملا۔ عوام کا کہنا ہے کہ جب حکومت عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے بلند و بانگ دعوے کرتی ہے تو زمینی سطح پر ایسے رویے ان دعوؤں کی نفی کرتے نظر آتے ہیں۔علاقے کے باشندوں کا کہنا ہے کہ موڑا آئی گالہ جیسے دور افتادہ اور پہاڑی علاقے میں پانی کی قلت پہلے ہی ایک سنگین مسئلہ ہے، لیکن محکمہ کی غفلت اور ملازمین کے غیر ذمہ دارانہ رویے نے حالات کو بدترین بنا دیا ہے۔ مقامی خواتین کو روزانہ کئی کلومیٹر دور سے پانی لانا پڑ رہا ہے، جبکہ معذور اور بزرگ افراد کے لئے یہ صورتحال انتہائی تکلیف دہ ثابت ہو رہی ہے۔معذور افراد اور مقامی لوگوں نے حکومتِ جموں و کشمیر کے ساتھ ساتھ ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس سنگین معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، متعلقہ ملازمین کو جوابدہ بنایا جائے اور پانی کی سپلائی کو بلا تاخیر بحال کیا جائے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں اور کسی بڑے انسانی مسئلے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔دوسری جانب اس معاملے پر اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر محمد اشفاق رانا سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم انہوں نے فون اٹھانے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ ان کی عدم دستیابی اور خاموشی نے عوام کے شکوک و شبہات کو مزید تقویت دی ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پانی جیسے بنیادی مسئلے پر افسران اور ملازمین کی یہ لاپروائی انتہائی افسوسناک ہے۔ عوام نے امید ظاہر کی ہے کہ ضلع انتظامیہ فوری مداخلت کرے گی اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ آئندہ کسی معذور یا غریب شہری کو پانی کے لئے اس طرح ذلیل و خوار نہ ہونا پڑے۔