سرینگر //محکمہ دیہی ترقی میں کمیونٹی انفارمیشن سینٹر آپریٹروں کی مستقلی اور تنخواہوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ محکمہ دیہی ترقی میں کام کر رہے آپریٹر گزشتہ17برسوں سے مستقلی کیلئے تگ دود کر رہے ہیں،تاہم گزشتہ4سال کے دوران کوئی نہ کوئی رکاوٹ انکی مستقلی کی راہ میں حائل ہو رہی ہے۔ کمیونٹی انفارمیشن سینٹر آپریٹر 2004 سے معاہدے کی بنیاد پر محکمہ میں کام کر رہے ہیں اور متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کی سربراہی میں حکومت جموں و کشمیر کی طرف سے تشکیل دی گئی ضلعی سطح کی کمیٹیوں کے ذریعے اہلیت کی بنیاد پر تقرری کی گئی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ دیہی ترقی میں ان آپریٹروں کے کیسز مستقلی اور تنخواہوں میں اضافے کیلئے فی الوقت زیر غور ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ عنقریب ہی محکمہ دیہی ترقی آپریٹروں کی مستقلی کے کیسوں کو محکمہ عمومی انتظامی اور تنخواہوں میں اضافے کیلئے محکمہ خزانہ کو سپرد کیا جارہا ہے تاکہ ان پر کوئی حتمی فیصلہ لیا جاسکے۔اس سے قبل سرکار نے محکمہ دیہی ترقی کو ہدایت دی تھی کہ وہ مستقلی کا مطالبہ کرنے والے کمیونٹی انفارمیشن سینٹر (سی آئی سی) آپریٹروں کی تفصیلات مرتب کریں۔ محکمہ قانون نے محکمہ عمومی انتظامی کو کمیونٹی انفارمیشن سینٹر آپریٹروں کی مستقلی کے لیے کیسوں کو اسٹیبلشمنٹ کم سلیکشن کمیٹی کے سامنے رکھنے کے مشورے کے بعد ، محکمہ کے ڈائریکٹروں سے کہا تھا کہ وہ ان کیسوں کی تفصیلات مرتب کریں۔ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں ایک مکتوب دیہی ترقی اور پنچایتی راج کی طرف سے کشمیر اور جموں کے دونوں ڈائریکٹروں کو بھیجا گیا اور انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کمیونٹی انفارمیشن سینٹر (سی آئی سی) آپریٹروں کی مستقلی کے حوالے سے تفصیلات پیش کریں۔قبل ازیں ، محکمہ دیہی ترقی کی تجویز پر ، عمومی انتظامی محکمہ نے محکمہ قانون سے مشورہ طلب کیا جب یہ منظر عام پر آیا کہ جموں و کشمیر سول سروسز (خصوصی فراہمی) ایکٹ ، 2010 جموں و کشمیر کی تنظیم نو (ریاستی قوانین کی موافقت) کے لحاظ سے منسوخ کر دیا گیا ہے ) ۔محکمہ قانون نے کہا تھاکہ منسوخ شدہ قانون سازی کے تحت کسی بھی حق پر غور کرنے کے لیے ’’مجاز اتھارٹی کی طرف سے فیصلہ کیا جائے گا جس کے لیے معاملہ اسٹیبلشمنٹ کم سلیکشن کمیٹی کے سامنے رکھا جائے گا‘‘۔دوسری جانب ،کمیونٹی انفارمیشن سینٹر آپریٹروں کی تنخواہ میں اضافے کے حوالے سے معاملہ بھی حکومت کے پاس 2018 سے زیر التوا ہے۔