یو این آئی
نئی دہلی//مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے ہفتہ کو مرکزی حکومت کی ایندھن کی قیمتوں کے تعین کی پالیسی کا پرزور دفاع کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی توانائی کے دبا اور عوامی شعبے کی تیل کمپنیوں پر بڑھتے ہوئے مالی بوجھ کی وجہ سے کمرشل ایل پی جی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ناگزیرہوگیاتھا۔ایندھن کی قیمتوں میں اضافے پر اپوزیشن کی تنقید کے درمیان جوشی نے کہا کہ ہندوستان کی ایل پی جی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ درآمدات پر منحصر ہے، جس سے ملک عالمی منڈی کے اتار چڑھائو سے براہ راست متاثر ہوتا ہے۔انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا’’ہمارا ایل پی جی کا 50 فیصد سے زیادہ انحصار درآمدات پر مبنی ہے۔
یہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے‘‘۔وہ کمرشل ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کا حوالہ دے رہے تھے۔کانگریس پر نشانہ لگاتے ہوئے جوشی نے کہا کہ اپوزیشن کو تنقید کرنے سے پہلے متحدہ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) حکومت کے دوران ایندھن کے بحران کے دوران سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ اور سابق وزیر پٹرولیم ایم ویرپا موئیلی کے بیانات کو یاد کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا، “موجودہ بحران اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ تنقید کرنے سے پہلے کانگریس لیڈروں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اس وقت انہوں نے خود کیا کہا تھا”۔بی جے پی لیڈر نے کہا کہ مرکزی حکومت نے عالمی توانائی بحران کا پورا بوجھ عام صارفین پر نہیں ڈالا ہے، جب کہ عالمی منڈی میں مسلسل دبا برقرار ہے۔ جوشی نے دعویٰ کیا کہ اس کے باوجود نریندر مودی حکومت نے گھریلو ایل پی جی، پیٹرول، ڈیزل، اور پائپ والی قدرتی گیس کی قیمتوں کو کافی حد تک کنٹرول میں رکھا ہے۔آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے نے سرکاری کمپنیوں کو شدید مالی دبا میں ڈال دیا ہے۔انہوں نے کہا ’’کمپنیوں کو بہت زیادہ نقصان ہو رہا ہے، اسی لیے یہ فیصلہ کرنا پڑا‘‘۔