ٹی ای این
سرینگر//ملک کے مختلف بڑے شہروں میں کمرشل ایل پی جی کی قلت کی خبروں کے درمیان وادی کشمیر میں بھی ریستوران اور ہوٹل صنعت سے وابستہ افراد میں تشویش کی لہر دیکھی جارہی ہے۔ اگرچہ فی الحال کشمیر میں گیس کی سپلائی معمول کے مطابق ہے، تاہم ممبئی، دہلی، گڑگاؤں اور دیگر شہروں سے ملنے والی اطلاعات نے مقامی ریستوران مالکان کو ممکنہ صورتحال کے بارے میں فکر مند کر دیا ہے۔حال ہی میں فیڈریشن آف ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن آف انڈیا اور نیشنل ریسٹورانٹ ایسوسی ایشن آف انڈیا نے ملک کے مختلف حصوں میں کمرشل ایل پی جی کی قلت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ ان تنظیموں کے مطابق سپلائی میں رکاوٹ کی صورت میں ریستوران اور ہوٹلوں کے معمول کے کام کاج پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
وادی کشمیر میں بھی اس خبر کے بعد خاص طور پر سرینگر کے لالچوک اور دیگر سیاحتی مقامات پر ریستوران کاروبار سے وابستہ افراد صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس وقت یہاں کسی قسم کی قلت نہیں ہے، تاہم ملک کے دیگر حصوں میں پیدا ہونے والی صورتحال کے اثرات مستقبل میں یہاں بھی محسوس ہو سکتے ہیں۔ معروف ہوٹلیر اور ریستوران چین کے مالک سراج احمد نے اس حوالے سے بتایا کہ فی الحال کشمیر میں ایل پی جی سپلائی میں کوئی مسئلہ نہیں ہے، لیکن ملک کے بڑے شہروں سے سامنے آنے والی خبریں زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہیں۔انہوں نے کہاکہ ابھی وادی میں ریستوران اور ہوٹل معمول کے مطابق چل رہے ہیں، لیکن اگر دیگر ریاستوں میں بحران بڑھتا ہے تو اس کے اثرات یہاں بھی پڑ سکتے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت بروقت اقدامات کرے تاکہ ایسی کوئی صورتحال کشمیر میں پیدا نہ ہو۔ریستوران مالکان کا کہنا ہے کہ کشمیر میں اس وقت بہار اور گرمیوں کا سیزن شروع ہونے والا ہے اور آنے والے ہفتوں میں سیاحوں کی بڑی تعداد وادی کا رخ کرنے کی توقع ہے۔ ایسے میں ہوٹل اور ریستوران صنعت کسی بھی قسم کی سپلائی بحران یا پابندی کا متحمل نہیں ہو سکتی۔کاروباری حلقوں کے مطابق کشمیر میں ہزاروں افراد کا روزگار براہ راست اور بالواسطہ طور پر ہوٹل اور ریستوران صنعت سے جڑا ہوا ہے۔ اس لیے اگر ایل پی جی سپلائی میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کا اثر نہ صرف کاروبار بلکہ روزگار پر بھی پڑ سکتا ہے۔دریں اثنا، نیشنل ریسٹورانٹ ایسوسی ایشن آف انڈیا کے نائب صدر پرناو رنگٹا نے ایک بیان میں کہا کہ ریستوران صنعت روزانہ تقریباً دو ہزار کروڑ روپے کی اقتصادی سرگرمی پیدا کرتی ہے۔