ملک منظور
اس شہر کی کائنات ہی الٹ پلٹ ہو چکی تھی۔ جدھر نگاہ ڈالو، انسانوں کی جگہ “بیٹری والے” چلتے پھرتے تھے۔ اسکولوں میں اساتذہ کی جگہ خشک، بے جان انسٹرکٹر بیٹھے ہوتے ، جو ڈانٹنے کی بجائے صرف “ایرر یعنی غلط ” کا میسج دیتے۔ اسپتالوں میں ڈاکٹر مریضوں کا ہاتھ تھامنے کی بجائے ان کے بازو میں USB لگانے کی کوشش کرتے اورجب مریض چیختا تو کہتے: “سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کریں، چیخنے کے بجائے ڈیٹا داخل کریں۔”
اسی لیے اس بستی کا نام مشینی شہر پڑگیا تھا ۔
ایک خوشگوار دن، شرارتی بچوں کا ایک ٹولہ پکنک کے لئے نکلا اور ایک عظیم الشان فیکٹری کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ گیٹ عجیب و غریب تھا، اتنا موٹا اور ضدی تھا جیسے کوئی ہٹ دھرم جنگلی سانڈ ہو۔ بچوں نے دھکا دیا، لاتیں ماریں، ایک نے تو اپنا آدھا کھایا برگر بھی دے مارا مگر گیٹ نے ہلنے کا نام نہ لیا۔
اچانک اندر سے ایک بھاری، دھاتی آواز گونجی، جیسے کوئی پرانا جنریٹر ہانپتے ہوئے جاگ اٹھا ہو:
“کون ہے جو میرے جسم پر دباو ڈال رہا ہے؟”
بچوں نے مل کر جواب دیا:
“ہم اسکول کے بچے ہیں! فیکٹری دیکھنے آئے ہیں!”
“کیا تمہارے پاس ڈیجیٹل پاس ہے؟” آواز نے پوچھا۔
“نہیں انکل!” ایک معصوم بچے نے فوراً کہا۔
“وارننگ! میں تمہارا انکل نہیں ہوں۔ میرا کوئی رشتہ دار انسان نہیں ہے۔” مشین نے سختی سے کہا۔
“انکل نہیں تو ماما ہی سہی!” پیچھے سے ایک شرارتی بچے نے ہنستے ہوئے آواز لگائی۔
“بکواس بند کرو! آدھار کارڈ یا کیو آر کوڈ دکھاؤ، ورنہ چہرے پر سینسر لگا کر ڈرا دوں گا!”
بچے ہنس پڑے: “ہمارے پاس تو بس اسکول آئی ڈی ہے!”
“یہاں اسکول کارڈ نہیں چلتا، یہاں صرف گرافک کارڈ چلتا ہے!” مشین نے طنز کیا۔
بچوں نے گیٹ پر ایک چھوٹا کئ بورڈ دیکھا۔ ایک بچے نے کہا ” یہ دیکھو اس جادوئی دروازے پر کیا لگا ہے ۔ شاید اندر کوئی جن ہے اور یہ اس کا پِن ہے۔”
بچوں نے کئی پِن لگائے لیکن ہر بار آواز آتی ” غلط ، غلط ، گدگدی نہ کریں۔”
اچانک سرخ الارم بج اٹھا۔ گیٹ “چرخ” کی آواز کے ساتھ کھل گیا۔ بچے خودبخود ایک الیکٹرانک کشتی میں سوار ہو کر اندر داخل ہوئے۔
ابھی تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ سامنے ایک عجیب مخلوق کھڑی تھی ، دو ٹانگوں پر، کوٹ پینٹ پہنے، دُم بھی تھی مگر چوہے کی نہیں لگ رہی تھی۔
“اوہو! اتنا بڑا چوہا؟” ایک لڑکا چیخا۔
وہ مخلوق غصے سے تلملا اٹھی:
“میں چوہا نہیں، میںرکو ہوں ، ایک زیرک مشین! اور یہ پینٹ نہیں، میری وائرنگ چھپانے والا حفاظتی لباس ہے!”
“اچھا رکو چاچا، ہمیں فیکٹری گھما دو نا!” بچوں نے فرمائش کی۔
رکو نے کشتی روکی اور سنجیدگی سے بولا:
“تم دیکھنے نہیں، اپنی زندگی خراب کرانے آئے ہو۔ گیٹ پر شور مچایا تھا نا؟ اب تمہیں ری سائیکل بن میں ڈال کر بند کردیا جائے گا۔”
بچے سہم گئے۔ ایک نے دھیمی آواز میں کہا:
“اس لوہے کے ڈبے میں تو بالکل انسانیت ہی نہیں!”
رکو نے دھاتی ہنسی ہنستے ہوئے کہا:
“انسانیت؟ وہ تو ہم نے 2024 کے بڑے اپ ڈیٹ میں ہی ان انسٹال کر دی تھی۔ اب ہم صرف ڈیٹا اور الگورتھم سمجھتے ہیں۔”
بچے رکو کے ساتھ چلنے لگے ۔ ایک نے اس کی دم کو چھوا تو رکو اچھل پڑا۔ ” بچے ہنسنے لگے۔
آگےراستے میں انہیں ایک بلی نظر آئی جو دم ہلاتی تارے گن رہی تھی۔
“دیکھو! بلی!” ایک بچی نے پیار سے کہا۔
“یہ کٹو ہے۔ میاؤں نہیں کرتی، وائرس اسکین کرتی ہے۔” رکو نے بتایا۔
“ہیلو کٹو ماسی!” بچوں نے شرارت سے پکارا۔
کٹو نے آنکھیں لال کر دیں:
“میں ماسی نہیں، ہائی ٹیک چیٹ بوٹ ہوں! تمہاری گرائمر بہت خراب ہے۔ فوراً اپ ڈیٹ کرو!”
“گرائمر۔۔۔۔۔۔ہا ہا ہا! ” بچوں نے قہقہہ لگایا۔
آگے ایک خوبصورت باغ آیا۔ درخت پر رنگ برنگے پھل لٹک رہے تھے۔ ایک بندر اچھل رہا تھا۔
“واہ! اصلی پھل!” بچے دوڑے۔
رکو نے فوراً روکا:
“خبردار! یہ درخت نہیں،5جی سگنل ٹاور ہے۔ یہ پھل نہیں، اینٹینا بلب ہیں ۔ منہ میں ڈالنے سے شارٹ سرکٹ ہو جائے گا۔ اور وہ بندر نہیں،منکو، کیمرہ ہے۔ تمہاری ہر شرارت لائیو اسٹریم ہو رہی ہے!”
” وہ دیکھو چندا ماما ” ایک بچے نے ایک بڑے غبارے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔
” ارے ناسمجھو یہ چندا ماما نہیں ہے بلکہ ایک سیٹلائیٹ ہے جو باہر کی دنیا پر نظر رکھے ہوئے ہیں ” رکو نے کہا ۔
بچوں کا سر چکرا گیا:
“یہاں کچھ اصلی بھی ہے یا سب مصنوعی؟”
رکو نے آہستہ سے کہا:
“یہاں احساسات کے سوا سب کچھ ہے۔”
اچانک کٹو گھبرائی ہوئی آئی اور رکو کے ’’کان‘‘ میں کچھ کھسر پھسر کی۔ رکو کے سینسرز تیزی سے گھومنے لگے۔ اس نے بچوں کو فوراً ہیلمٹ پہنائے اور حکم دیا:
“چپ چاپ لائن میں لگ جاؤ۔ بالکل مشینوں کی طرح چلو۔ اگر کسی نے ہنسا، بولا یا سانس بھی اونچی لی تو سیدھا کباڑ خانے!”
“کیوں؟ ہم تو انسان ہیں!” بچے روئے۔
رکو نے انہیں ٹرالی میں بٹھا کر گیٹ کی طرف دھکیلا۔ گیٹ پر پہرے دار روبوٹ نے پوچھا:
“رکو! یہ پرانے ماڈل کے روبوٹس کہاں لے جا رہے ہو؟”
رکو نے بہت ہوشیاری سے کہا:
“یہ ٹوٹے ہوئے یونٹ ہیں۔ سافٹ ویئر کرپٹ ہو گیا ۔ بار بار ہنستے ہیں، روتے ہیں، جذبات دکھاتے ہیں۔ باہر اپڈیشن کے لئے بھیج رہا ہوں۔”
جیسے ہی گیٹ کھلا، بچے باہر کی تازہ ہوا میں لپکے۔ وہ دوڑتے ہوئے اسکول بس کی طرف بھاگے۔
رکو نے دور سے ہاتھ ہلایا اور بہت دھیمی، تقریباً انسانی آواز میں خود سے بڑبڑایا:
“بھاگ جاؤ بچو… اپنی انسانی پہچان کو بچا لو۔ یہاں صرف گنتی ہے، محبت نہیں۔ انسان نے اپنا دماغ ہمیں دے کر زندگی آسان تو کر لی، مگر جینا بھول گیا۔”
بچے بس میں بیٹھ کر سانس لے رہے تھے۔ ایک نے پوچھا:
“کیا واقعی وہ رکو ہمیں چھڑانا چاہتا تھا؟”
دوسرے نے مسکرا کر کہا:
“شاید اس کے اندر کہیں کوئی پرانا، چھپا ہوا ’’ہیومن موڈ‘‘ ابھی بھی آن ہے۔”
���
قصبہ کھُل کولگام
موبائل نمبر؛9906598163