عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کل رائیل سپرنگس گالف کورس سری نگر میں محکمہ سیاحت کے زیراہتمام منعقد ہونے والی کشمیر میراتھن 2026 کے لئے آفیشل مرچنڈائز کی رسم رونمائی انجام دی۔اِس موقعہ پر میراتھن کیلئے خصوصی طور پر تیار کردہ سرکاری مرچنڈائز جس میں میراتھن کیپ، فنشرز میڈل اور ریسنگ کٹ شامل ہیں، کی رونمائی ایک مختصر تقریب میں کی گئی جس میں میڈیا کے نمائندوں اور سیاحت محکمہ کے سینئر افسران نے شرکت کی۔ وزیر اعلیٰ نے تقریب کی تشہیری ویڈیو بھی جاری کی۔اِس موقعہ پر وزیراعلیٰ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میراتھن محض ایک کھیلوں کا مقابلہ نہیں بلکہ جموں و کشمیر میں سیاحت کو متنوع بنانے کی حکومت کی وسیع حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے۔
اْنہوں نے کہا، ”میراتھن ایک بڑا ایونٹ ہے۔ ہم جموں و کشمیر میں سیاحت کوبڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سیاحت صرف ڈیسٹی نیشن ویڈنگز یا کانفرنسوں تک محدود نہیںہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ جموں و کشمیر میں دستیاب منفرد تجربات جن میں سکیئنگ، گنڈولا، وائٹ واٹر رافٹنگ، ماہی گیری اور دیگر مہماتی سرگرمیاں شامل ہیں، انہیں بھی عالمی سطح پر شناخت ملے۔”وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت کشمیر میراتھن کو ملک کے دیگر حصوںجیسے دہلی، ممبئی، لداخ وغیرہ میں منعقد ہونے والی مشہور میراتھنوں کی طرز پر ملک کی نمایاں کھیلوں کی تقریبات میں شمار کرنے کے لئے کوشاں ہے۔اْنہوں نے کہا، ”میں نے دہلی، ممبئی اور دیگر ریاستوں اور یوٹیز میں میراتھن مقابلے دیکھے ہیں۔ آج لداخ میراتھن میں ملک اور دْنیا بھر سے کھلاڑی شرکت کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ کشمیر میراتھن اور جموں ہاف میراتھن بھی اسی مقام اور پہچان کو حاصل کریں۔”وزیر اعلیٰ نے اس تقریب کی وسیع اہمیت کو اْجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ میراتھن وادی کے پْرامن ماحول اور مہمان نوازی کا ایک مضبوط پیغام دنیا تک پہنچاتی ہے۔اْنہوں نے کہا،”میراتھن کا مثبت پیغام یہ ہے کہ کشمیر ہر ایک کے لئے پْرسکون، محفوظ اور خوش آئند سرزمین ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ملک اور دْنیا بھر سے لوگ یہاں آئیں، اس مقابلے میں حصہ لیں اور کشمیر کو قریب سے دیکھیں اور محسوس کریں۔”وزیر اعلیٰ کو بتایا گیا کہ کشمیر میراتھن کا تیسرا ایڈیشن 25 اکتوبر 2026 ء کو سری نگر میں منعقد ہوگا۔ہاف میراتھن میں حصہ لینے والے سری نگرکے کئی تاریخی اور مشہور مقامات بشمول جہلم ریورفرنٹ، لال چوک، ڈل گیٹ اور جھیل ڈل کے ساتھ خوبصورت بلیوارڈسے ہو کر دوڑیں گے۔ فل میراتھن میں حصہ لینے والے کھلاڑی حضر بل اور کشمیر یونیورسٹی کی جانب آگے بڑھیں گے۔کورس کو فلیٹ اور پہاڑی حصوں کے امتزاج کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا ہے جس میں مجموعی بلندی کا اضافہ تقریباً 960 میٹر ہوگا تاکہ شرکا? کو قدرتی حسن کے ساتھ ایک چیلنجنگ تجربہ بھی حاصل ہو۔