موجودہ دور میں وادیٔ کشمیر سے مختلف اخبارات کی اشاعت ہوتی ہے جن میں کشمیرعظمیٰ حلقہ اشاعت کے اعتبار سے سب سے زیادہ پڑھا اور پسند کیا جانے والا روزنامہ اخبار ہے جس میں عام خبروں کے علاوہ شہرنامہ، خواتین ایڈیشن، طنزومزاح کے تحت مختلف کالم چھپتے رہتے ہیں۔
یہ بات اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ اس اخبار میں طنز و مزاح کالم لکھنے والوں کی تعداد نہایت کم ہے لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کچھ کالم بعضے معیاری ثابت ہوتے ہیں۔
ایاز رسول نازکی مزاحیہ کالم نگاری کے حوالے سے ایک اہم نام ہے جنہوں نے کشمیرعظمیٰ میں ’’حاصل ضرب ‘‘کے زیرعنوان طنزیہ و مزاحیہ کالم لکھے جو بعد میں کتابی صورت میں شائع بھی ہوئے۔ مجتبیٰ حسین لکھتے ہیں:’’ ایاز رسول نازکی نے جموں کشمیر سے شائع ہونے والے مقبول روزنامہ کشمیر عظمیٰ میں حاصل ضرب کے زیرعنوان طنزیہ و مزاحیہ کالم لکھنا شروع کیا۔ نازکی نے گوناگوں موضوعات پر بیشمار کالم لکھ دیے جنہیں جموں وکشمیر کے قارئین نے بلکہ انٹرنیٹ کے ذریعے ساری اردودنیا کے قارئین نے بے حد انتہا پسند کیا۔‘‘(ایاز رسول نازکی، حاصلِ ضرب ، مہک پریس سرینگر، ۲۰۱۳ء ، ص ۲)
ایاز رسول نازکی ایک نبض شناس کالم نویس ہیں جنہوں نے زندگی کے ہر مسئلے سے متعلق اپنی تحریریں لکھ چھوڑی ہیں لیکن انکے یہاں جو موضوعات زیادہ دیکھنے کو ملتے ہیں ان میں مقامی مسائل شامل ہیں۔ کشمیر کا سیاسی منظرنامہ، انفرادی اور اجتماعی زندگی ،یہاں کے صحت افزا مقامات، مقامی سیاسی کھڈ پنچوں کی کارستانیاں اور اسی نوعیت کے مختلف موضوعات ان کی کالم نگاری میں جگہ پاتے ہیں مگر بعض اوقات قومی اور بین الاقوامی سطح پر رونما ہونے والے واقعاتس بھی ان کے موضوعات میں شامل ہوتے ہیں۔ ’’کس قیامت کے یہ جوتے ‘‘ایک ایسی تحریر ہے جس میں کالم نگار نے امریکی صدر بش پر جوتوں کی بارش ہونے کا بیان نہایت منفرد انداز اور ایک سلجھے ہوئے اسلوب میں پیش کیا جس کو پڑھ کر قاری زیر لب تبسم کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے: ’’امریکی صدر نے جتنے گناہ کیے ہیں ان کا کفارہ شاید کروڑوں لوگوں کے کروڑوں جوتے کھانے کے بعد بھی ادا نہیں ہوسکتا ۔جوتوں کا ایک جوڑا کھا لینے کے بعد صدر بش نے جوتے کا نمبر معلوم کرنے پر ہی اکتفا کیا ،انہیں ان جوتوں کی تعداد معلوم کرنی چاہیے تھی جو ان پر برسنے کو ترسے ہونگے اور ظاہر ہے ان جوتوں کی دیدار کروڑوں میں ہوگی‘‘۔ (ایاز رسول نازکی، حاصلِ ضرب ، مہک پریس سرینگر، ۲۰۱۳ء ، ص ۱۰۴)
’’کرفیو کرفیو‘‘ ایاز رسول نازکی کا ایک ایسا کالم ہے جس میں اگرچہ سنجیدہ انداز بیان اختیار کرکے مزاح کی زریں لہروں کو ابھاراگیا ہے لیکن اپنی چاشنی پھر بھی برقرار رہی ہے ۔اس کالم میں کشمیر کی حقیقی سیاسی صورتحال سے قارئین کو آگاہ کیا گیا ہے کہ کرفیو کے نفا ذ کے دوران لوگوں کو کن مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ یہ بھی دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ سخت کرفیو کے دوران غیر ریاستی باشندے کھان پان یاخوردونوش سے محروم رہ جاتے ہیں تو کشمیری لوگ ان کے کھانے کا بندوبست اپنے گھروں میں کرتے ہیں اور اس بات پر فخر محسوس کرتے ہیں کہ ہم نے کسی کی جان بچائی ۔کالم نگار کو یہ شکایت بھی ہے کہ کاش ملک کے باہر کشمیری لوگوں کی زندگی کا یہ پہلو منکشف کیا جاتا تو اچھا ہوتا لیکن ایسا نہیں ہو رہا ہے ۔یہاں کشمیر میں کس طرح کا کرفیو نافذ رہتا ہے ،کالم نگار سے سنیے:’’کرفیوعوام کو سزا دینے کا پرانا حربہ ہے اور حکومت آئے دن اس ہتھیار کا استعمال کرتی ہیں مگر ہمارے یہاں کرفیو کی کثرت استعمال نے شاید کچھ نیے عالمی ریکارڈ بھی بنائے ہوں۔۔۔ کہیں ہم بیٹھے بٹھائے گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں جگہ پانے میں کامیاب تو نہیں ہوگئے ہیں‘‘۔(بحوالہ : حاصل ضرب ،نازکی ص ۱۸۲)
اسی نوعیت کے مختلف کالم حاصل ضرب میں موجود ہیں جن میں کشمیر کا سیاسی منظر نامہ اور یہاں کی ازدواجی زندگی سے متعلق مسائل نظر آتے ہیں۔ برفانی سیاست، بادام واری، بہار ہی بہار، بجلی بیگم،سیاسی گفتگو کرنا منع ہے ،بہار ہی بہار ،اوباما جیت گیا ،کل کیا ہوگا ،دل سے جو بات نکلتی ہے وغیرہ ایسے ہی کالم ہیںجن میں سیاسی منظرنامے سے لے کر سماجی تانے بانوں پر اور اجتماعی احساس قوتوں کو طنز و مزاح کی بنیاد پر سامنے لایا گیا ہے ۔
کالم ’’سیاسی گفتگوکرنا منع ہے ‘‘ میں ایک ایسی صورتحال کو منظر عام پر لانے کی کوشش کی گئی ہے جس میں عام کشمیریوں کی سیاسی گفتگو کے نشیب و فراز کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔کشمیر میں آپسی دربار کرنا گویا غم کو غلط کرنے کے مترادف ہے اور دربار قائم کرنے کے لیے کم سے کم دو ہم خیال ہونا ضروری ہے ۔اسی طرح سے حالات پر گفتگو کرنا لوگوں کو عزیز مشغلہ مانا جاتا ہے ۔ بس میں سفر کرنے کے دوران لوگ سفر کو آسانی سے کاٹنے کے لیے سیاسی گفتگو کر دیتے ہیں ۔اسی طرح نائی کی دکان پر یاسردیوں کے موسم میں گرم گرم حماموں میں اس نوعیت کی تفصیلی اور تجزیاتی گفتگو کرنا لازمی بن چکا ہے ، لیکن کچھ دور ایسے بھی آئے جہاں پر سیاسی گفتگو کرنا منع ثابت ہوگیا ۔ کالم نگار لکھتے ہیں :’’آپ سیمنٹ کی درآمد اور پیاز کی برآمد کیجئے ،آپ تیس تیس پنتیس پینتیس سال سے اپنے اپنے ہاں رکھے قیدیوں کی تجارت کیجئے سب کچھ جائز ہے مگر سیاسی گفتگو پر زور نہ دیں کیونکہ اس گفتگو پر پابندی ہے ۔مسلے کو پس پشت ڈال دیجئے ‘‘ ۔(حاصل ضرب ص ۱۴۶)
کالم نگار کی گفتگو حسب حال کا نمویاں منظر نامہ ہے ۔ یوں مانیے نئی نسل کے لیے اس نوعیت کے کالم تاریخی دستاویزات کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اسی نوعیت کے مختلف کالم ان کے یہاں نظر آتے ہیں ۔ جن میں اوباما جیت گیا قابل ذکر ہے ۔ اس کالم میں مغرب اور مشرق کے جمہوری نظام کا ذکر ملتا ہے کہ کس طرح وہاں جمہوریت پروان چڑھتی ہے اور کس طرح یہاں جمہوریت کی لاٹھی استحصال کرتی ہے ۔ مختصر طور پر کہہ سکتے ہیں کہ مزاحیہ کالم نگاری میں ایاز رسول نازکی ایک اہم نام ہے ۔
(مقالہ جاری ہے ۔اگلی قسط انشاء اللہ اگلے ہفتہ شائع کی جائے گی)
(مقالہ نگارڈگری کالج حاجن کے شعبہ اردو میںاسسٹنٹ پروفیسر ہیں)
ای میل۔ [email protected]
��������