عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//سمارٹ سٹی’ بس خدمات کو ضلعی راستوں تک وسعت دینے کی تجویز کے خلاف ٹرانسپورٹ ڈرائیوروں کی ہڑتال کے باعث پیر کے روز سری نگر سمیت کشمیر کے کئی حصوں میں معمولاتِ زندگی اور ٹریفک جزوی طور پر متاثر رہا۔ہڑتال کے دوران سڑکوں پر معمول کے مقابلے میں کافی کم ٹریفک دیکھنے میں آیا۔ سری نگر کے اہم راستوں پر گاڑیوں کی آمد و رفت نہایت محدود رہی کیونکہ ٹرانسپورٹ ڈرائیوروں نے چکہ جام کی اپیل پر اپنی گاڑیاں نہیں چلائیں۔
اس کا سب سے زیادہ اثر عام مسافروں اور طلبہ پر پڑا۔ کئی لوگ اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکے جبکہ کشمیر یونیورسٹی میں امتحان دینے جا رہے امیدواروں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد میں متاثرہ طلبہ کے لیے خصوصی امتحان منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا۔یہ ہڑتال ٹرانسپورٹ ڈرائیوروں نے حکومت کے اس منصوبے کے خلاف کی جس کے تحت ‘اسمارٹ سٹی’ بس خدمات کو شہر سے باہر ضلعی راستوں تک بڑھانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ اس قدم سے ان کی روزی روٹی پر براہِ راست اثر پڑے گا اور ان کی معاشی حالت خطرے میں پڑ جائے گی۔ ایک مظاہرہ کرنے والے نے کہا، “ہماری روزی روٹی داؤ پر لگی ہوئی ہے یہ توسیع ہمیں کاروبار سے باہر کر سکتی ہے۔”ٹرانسپورٹ رہنماؤں نے حکومت پر ان کے مطالبات کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس شعبے سے لاکھوں افراد وابستہ ہیں اور اس فیصلے سے ان کی معاش متاثر ہوگی۔ اس دوران سری نگر میں ٹرانسپورٹ ڈرائیوروں نے احتجاج بھی کیا اور حکومت سے اپنی تشویشات پر فوری توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔(مشمولات یو این آئی)